Wednesday, January 16, 2019

اگر جو رابطہ نہ ہو

کوئی جو بات کہنی ہو، کوئی قصہ سنانا ہو
اگر جو رابطہ نہ ہو، تُم اپنے دل پہ لِکھ لینا

کوئی بِسری، اکیلی رات کا، دزدیدہ لمحہ ہو
کبھی جو دِل کے زخموں سے، یکایک درد جاگ اُٹھے
اور پھِر سے زخم کھُلنے پر، کبھی جو خون جاری ہو

اگر جو رابطہ نہ ہو، تُم اپنے دِل پہ لِکھ لینا

کبھی جو یاد آئیں ہم، کبھی جو دل پریشاں ہو
جو چیزیں روز بھاتی تھیں، انہی سے دِل گریزاں ہو
کبھی یادوں کا اِک لمحہ، جو آ صدیوں سا طاری ہو

اگر جو رابطہ نہ ہو، تُم اپنے دل پہ لِکھ لینا   

کبھی جو باتوں باتوں میں, کہیں گر ذکر میرا ہو
کِسی کی باتوں لفظوں میں, جو کچھ انداز میرا ہو
آنسو آنکھوں میں آجائیں, جو دل پر بوجھ بھاری ہو

اگر جو رابطہ نہ ہو, تُم اپنے دِل پہ لِکھ لینا

کبھی سفرِ حیاتی میں, کوئی اِک ویران بستی ہو
سرِراہ کوئی اکلوتا, جو سوکھا سا درخت ہو
ازل سے ہی خزاں مارے درخت میں, شبیہ میری جو ساری ہو

اگر جو رابطہ نہ ہو, تُم اپنے دل پہ لِکھ لینا 
کوئی جو بات کہنی ہو, کوئی قِصہ سنانا ہو
اگر جو رابطہ نہ ہو, تُم اپنے دل پہ لِکھ لینا 


ساحر مرزا


سفرِآگہی

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...