خواہش، چاہت اور ضرورت ۔۔۔۔۔
انسانی زندگی میں یہی تین الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں، ہمیشہ انسان کو انہی تین جزیات میں سے بیک وقت کسی ایک کو ترجیح دینے میں مشکل پیش آتی ہے
اگر لفظی طور پر، اصطلاحی معنوں میں اور معاشرتی اقدارات کی نظر میں بھی ان تین اجزاء کو پرکھا جائے تو اک بہت مشکل، پیچیدہ اور حتی الوسع بحث کی جا سکتی ہے
مگر
یہ تینوں کہیں بھی ایک جگہ جمع ہونے سے قاصر ہیں اور جہاں دو مل جائیں تو عطاءِ خداوندی اور اگر تینوں مل جائیں تو رحمتِ باری تعالی ہی کہی جا سکتی ہے
اگر لفظی طور پر، اصطلاحی معنوں میں اور معاشرتی اقدارات کی نظر میں بھی ان تین اجزاء کو پرکھا جائے تو اک بہت مشکل، پیچیدہ اور حتی الوسع بحث کی جا سکتی ہے
مگر
یہ تینوں کہیں بھی ایک جگہ جمع ہونے سے قاصر ہیں اور جہاں دو مل جائیں تو عطاءِ خداوندی اور اگر تینوں مل جائیں تو رحمتِ باری تعالی ہی کہی جا سکتی ہے
