Thursday, August 9, 2018

انجامِ تماشا

اک فاصلوں کے تکلف کی آرزو تھی انہیں
اور شام و سحر ہجرتوں سے نبھا لی ہم نے 
سرد و گرم حالات کے سہہ کر بھی 
وفا کی آس لئے ہجر کی سزا لی ہم نے
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی 
مثل اسی کے مرض محبت پال لی ہم 
روز کہتے تھے یہی آج صدا سننے کو ملے گی
سننے کو اِک آواز سماعت اُدھار لی ہم نے 
اب ہمیں شہر بھی سونا سا لگتا ہے کہ 
ان کے بعد رونق تمام شہر کی اُتار لی ہم نے 
بڑی خراب تھی عادت ان کو یاد کرنے کی
خود اپنی ہی خاطر سُدھار لی ہم نے 
بڑی مشکل سے یکجا کیا خود کو 
اور بڑے ضبط سے آگ لگا لی ہم نے



ساحر 



©سفرِآگہی

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...