Tuesday, October 30, 2018

جو کام ضروری تھے

قصے پرانے تھے سب میرے
وعدے کچے تھے سب میرے
اِک جھوٹا تھا۔۔۔۔!!! دل میرا
خواب تو سچے تھے سب تیرے
تم ہی کہتی تھیں نا بھلکڑ
بچّے تھے ہم، پر تھے سب تیرے
یاد ہیں مجھ کو دیکھو اب تک
وہ سب جو کام ضروری تھے
کیسے بھولیں بتلاؤ اب
وہ تو تھے سب کے سب تیرے

ساحر مرزا




سفرِآگہی©

فریب سے ہیں مٹھاس لہجے

فریب ہیں یہ مٹھاس لہجے 
سراب ہے یہ شدید چاہت
مانو جو گر، تو کروں نصیحت
عذاب ہیں یہ مٹھاس لہجے
کرو بھروسہ تو مات ہو گی
جو سر جھکا لو تو جیت انکی 
کسے سنائیں اور کیا بتائیں
گرداب سے ہیں مٹھاس لہجے 
کہو جو رشتہ تو مان رکھنا
سبق ملے گا ہمیشہ ان سے
ہمیشہ منجدھار میں ساتھ چھُوٹے
بڑے گُرو ہیں مٹھاس لہجے 

ساحر مرزا

ادنٰی سی کاوش سے الفاظ کا جوڑ توڑ




سفرِآگہی©

Friday, October 26, 2018

!!!!!!وَالقَلم۔۔۔۔۔۔

قلم سے متصل چند یادیں
وائٹ فِیدر، بہادر، پِکاسو، پیانو اور ڈالر کے سیر شکم قلم برانڈ کے سیاہی دار قلم 
آج کی نسل سے یہ نام، سیاہی کی پہچان، جاذب، گاچی { کچی مٹی }،دوات، کچے بانس کا قلم، اس پر قط لگانے کی مشق، گھڑنے کے طور، تختی اور اس پر ملتے مٹی کا کھانا، لکھنے کے خطوط سے آگہی، باقاعدہ خطاطی کی مشق، نستعلق، نوری نستعلیق اور خطِ نسخ وغیرہم سے آگہی اور ان کی عادات و یادیں
سیاہی سے لتھڑتی انگلیاں، کسی بھی فوم سے جاذب بنانا، دوات میں جاذب ڈبونا، اور کاغذ پر رومال رکھ کر احتیاط سے لکھنا تآنکہ سیاہی نہ پھیلے، کاغذ پر لکھی تحریر دیدہ زیب و جاذب نظر لگے 
ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود لکھائی میں فنِ خطاطی کی عادت بچوں کی خاصیت بن جایا کرتی تھی 
الفاظ کا چناؤ اور فنِ تحریر رو بہت بعید رہی 
آج کل کے بچے تو پینسل سے بھی وہ ربط و عادت نہیں بنا پاتے جو انیسویں صدی کی پیدائش شدہ بچوں کا خاصہ ہوا کرتی تھی 
نسلِ نو کے بچے تو بال پین اور جیل پین کے عادی ہیں اور اچھی لکھائی تو اب شاذ و نادر ہی دیکھنے کو مِلا کرتی ہے 
کیونکہ نسلِ نو لکھنے کی بجائے اب ٹائپنگ پر توجہ دینے لگی ہے 
اپنی روایات زندہ رکھنے کو محنت کرنا اب ناپید ہونے لگا

ساحر کے قلم سے



سفرِآگہی©

Sunday, October 21, 2018

پہلی محبت، آخری چاہت

کیسا اچھا ہے احساس میرا، تیری پہلی محبت ہونا
کیسی اذیت ہے یہ۔۔۔!!!!!، میری آخری چاہت تُو ہے

ساحرمرزا

کیسا پُرلطف حسیں و خوابناک احساس ہے پہلی محبت ۔۔۔۔۔
مگر اِک سوچ ہے،   بلکہ تجربہ ہے 
کہ یہ جو پہلی محبت ہوتی ہے نا.....!!!!! ، بہت خود غرض اور انا پرست ہوتی ہے، اس میں کہیں ناز و ادا کے ساتھ ساتھ غرور و گھمنڈ جھلکتا ہے، اس میں کبھی کبھی لاڈ اور ضد کے بہانے دلآزاری بھی دکھائی پڑتی ہے
کبھی اس میں نخروں کی آڑ میں تعلق سے بےزاری بھی ٹپکتی ہے 
اور کبھی تو بس یہ بوجھ لگتی ہے 
مگر
کیسا درد، اذیت اور کربناک لمحہ ہوا کرتا ہے جب کسی کی چاہت آخری محبت ثابت ہو 
لاحاصل، پُردرد، اذیت ناک، بے لاگ و بے تاب محبت
یہ آخری احساس ہوتا ہے جو تامرگ انسان کے ہمراہ ہوتا ہے 
یہ جو آخری محبت ہوتی ہے نا ۔۔۔۔۔!!!!!
یہ انسان کی نس نس میں، لمحہ لمحہ ہر پل ذات کا حصہ بن جایا کرتی ہے، انسان چاہ کر بھی اسے دور نہیں کر پاتا بلکہ اسے دور کیا کرنا یہ تو ہوتی ہی لاحاصل ہے، درحقیقت انسان اس سے دور جانے کی جس قدر کوشش کرتا ہے بھلانے کے زعم میں خود بخود بس اک یہی یاد رہ جاتی اور دنیا کی کوئی چیز ذہن پر نقش نہیں ہو پاتی 
اور بلآخر یہی انسان کی ذات بن جایا کرتی ہے 
خود اپنی فطرت وہ بھول جاتا ہے کیوں کہ محبوب کی عادات دہرا دُہرا کر خود وہی عادات و اطوار کو اوڑھ کر بدرجہءِ اصل وہی ہو جاتا ہے 
پہلی محبت کے بعد محبت ہو جاتی ہے 
آخری چاہت کے بعد انسان مارا جاتا ہے 

ساحر کے قلم سے
 اِک ہجر کے مارے ہجرتوں پر مجبور مسافر کے آنسوؤں سے لکھی تحریر






سفرِآگہی©

Monday, October 15, 2018

ان کہے وعدے

رات بھر چاندنی سے رہی گفتگو بھی 
اور شب کے اندھیرے سے بھی رازداری کی

چشمِ منتظر لئے بیٹھے رہے شب بھر 
ہم نے تیرے کئیے عہد کی پاسداری کی

ساحر مرزا


شب بھر کی بے جا بیداری پر اجالے سے سرسراہٹ



سفرِآگہی©

Tuesday, October 9, 2018

عمرِ رفتہ سے ہارے ہوئے ہم (حصہ دوم)

حصہ دوم

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ڈھولک بج رہے تھے، گلی میں شہنائی کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ 
ارے چوہدرانی جی ۔۔۔!
بارات ۔۔۔بارات پہنچ گئی۔
آپا برکت جو اس حویلی کی خاندانی ملازمہ تھیں ، نے پھولے سانس سے نوید سنائی۔ 
جلدی اسے تیار کرکے اسٹیج پر لے آؤ۔ 
اماں نے بیوٹیشن اور اس کے گرد بیٹھی گزنوں کو حکمیہ انداز میں تنبیہ کی اور کمرے سے نکل گئیں۔ 
عمارہ گنگ بیٹھی بیوٹیشن کے رحم و کرم پر تھی، کچھ دیر بعد بیوٹیشن نے دوپٹہ سیٹ کیا۔
چلو ۔۔۔ ہوگیا مکمل ۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ بیوٹیشن نے میک اپ مکمل کرکے اسے غور سے دیکھ کر تعریف کی۔
قد آور آئینے میں اس نے اپنا بھرپور سراپا دیکھا ۔۔۔ غزالیں نینوں میں سرخ ڈورے ۔۔۔ بھرے بھرے گالوں پر لالی ۔۔۔ شاہانہ لباس سے مثل سیماب ترشا ہوا مجسمہ ۔۔۔ عریاں آستینوں میں غضب ڈھاتا رُوپ ۔۔۔ تمام عمر پردے کی پابند دیوی آج یوں سرِبازار سجائی گئی تھی، عمارہ نے دُکھی دل سے سوچا۔ 
لڑکیوں نے سر پر بڑی چادر اُوڑھا کر اسکا بالائی روپ ڈھانپ دیا اور ہلکے قدموں سے اُسے لیکر کمرے سے اسٹیج کی جانب لے چلیں۔ 
یک بارگی تمام مہمانوں کی نظریں اس کی طرف مڑیں۔۔۔ اسے اسٹیج پر لاکر بٹھایا گیا۔ 
دُلہا نے صوفے اُٹھ کر استقبال کے سے انداز میں اُسے تعظیم دی ۔۔۔ مگر آنکھیں مسلسل اس کے سراپا پر ٹک سی گئیں۔ 
عمارہ کو وہ نظریں اپنے جسم سے تیر کی طرح آر پار ہوتی محسوس ہوئیں ۔۔۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے سرتاپا پورے وجود میں دوڑ گئی۔ 
جی چوہدری صاحب ۔۔۔!
قاضی صاحب نے اجازت طلب نظروں سے بڑے چوہدری صاحب کو دیکھا۔ 
ہاں جی ۔۔۔! بالکل اللہ کا نام لے کر شروع کریں۔۔۔ بڑے چوہدری صاحب نے اُونچی آواز میں کہا۔ 
خطبہ نکاح شروع ہوا۔ 
اس کا دل ڈوبنے لگا ۔۔۔ آنسوؤں کے دریا میں طغیانی بڑھنے لگی ۔۔۔ عمارہ نے سختی سے آنکھیں بند کرکے نینوں کے بند مضبوط کرنے چاہے، ضبط کی حدوں سے پرے امتحان اس کی ذات پر آن پڑا تھا۔ 
برخوردار مامون چوہدری ولد عارف چوہدری آپ کو دختر عمارہ بی بی بنت مرتضی چوہدری بہ عوض مہر دس لاکھ مؤجل کے نکاح قبول ہے۔ 
قاضی صاحب مامون چوہدری سے پوچھ رہے تھے۔ 
قبول ہے قاضی ۔۔۔ تین بار ، بار بار، ہر بار
مامون چوہدری نے اپنے مخصوص پاٹ دار لہجے میں کہا۔
قاضی صاحب نے خاموشی سے کاغذات پر اس کے انگوٹھے لگوائے، پھر وہی کاغذات عمارہ کے سامنے رکھ دیئے۔ 
چند لمحے عمارہ کو تو سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا کرے ، وہ سوچتی رہی۔۔۔ شاید اس سے بھی قبول وایجاب کی رسم ہی سہی کوئی ادا تو کرے مگر اماں نے آگے بڑھ کر نکاح کے رجسٹر پر قلم اُٹھاکر پرے رکھا۔۔۔ اس کے بے جان ہاتھوں کے انگوٹھے پکڑ کر مطلوبہ جگہوں پر لگائے اور قاضی صاحب نے دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھا دیئے۔ 
اس کی ہمت جواب دے گئی، آنسوؤں پر بندھے ضبط کے بند ٹوٹتے چلے گئے۔ 
مبارک سلامت کا شور اُٹھا۔ 
مگر اس کے کان مبارک کے الفاظ سے بے نیاز تھے اور نہ ہی اس سے کسی نے مبارک کا لفظ کہا۔ 
*۔۔۔*۔۔۔*
ارے میری بیٹی آگئی۔ 
بڑی چوہدرانی نے حویلی کے گیٹ سے گاڑی اندر آتے دیکھی۔ 
ارے میری چندا کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ 
اماں نے عمارہ کو گلے لگایا ۔۔۔ ماتھا چوم کر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔ 
عمارہ نے خاموشی سے بس ان کی جانب نظر بھر کے دیکھا۔ 
ارے چھوٹی بی بی ۔۔۔! کیا یہاں ہی کھڑے رہیں گی ۔۔۔ آیئے ۔۔۔اندر آیئے۔ 
یوں بھی گرمی زیادہ ہے یہاں۔۔۔ حویلی کی ملازمہ برکت بی بی سامان اُٹھاکر بولیں۔ 
عمارہ اپنا بے جان سا وجود لئے سست روی سے اندر چل دی۔
بیٹا اپنی صحت کا خیال رکھا کرو ۔۔۔ یوں بھی اس حالت میں اس طرح بے نیازی کوئی اچھی بات نہیں۔ 
بڑی چوہدرانی نے عمارہ کو خاموش دیکھ کر کہا۔ 
عمارہ اُمید سے ہونے کے باوجود دن بہ دن دُبلی ہوئی جارہی تھی۔ 
تمہارے باوا جان ذرا شہر گئے ہیں ۔۔۔ شام تک لوٹے آئیں گے تو تم سے مل کر خوش ہوں گے۔ 
بی بی ۔۔۔ نہائیں گی ۔۔۔؟
برکت بی بی نے عمارہ کا سامان رکھ کر پوچھا۔ 
ہاں۔۔۔
بہ یک لفظی جواب کے ساتھ عمارہ اماں سے کوئی بات کئے بغیر اپنے اسی پرانے کمرے میں چل دی۔ 
چھوٹی بی بی جی میں نے گیزر کی ٹنکی چلا دی ہے، نیم گرم پانی سے نہایئے گا۔ 
برکت بی بی نے صحن سے آواز لگائی۔ 
اندر عمارہ نے سب سے پہلے وضو کیا، اپنی الماری کھول کر گلے کی زنجیر سے نتھی چابی اُتار کر مقفل دراز کھولی۔ 
اندر قرآن پاک رکھا تھا۔ 
عمارہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں بہہ نکلا ۔۔۔ اس کانپتے ہاتھوں سے قرآن پاک نکالا ۔۔۔ اس میں بسی خوشبو کو سونگھا ۔۔۔ اور گلے سے لگالیا۔ 
چند لمحوں بعد اس نے جلدی جلدی قرآن پاک کھولا اور اس میں سے ایک جگہ تہہ کیا رومال رکھا تھا، سفید رومال جس پر گہری سیاھی سے صرف مختار بیگ کے دستخط تھے۔ 
جو کچھ اس کے ہاتھوں میں تھا ، بس اسی قدر اس کی محبت کی باقیات تھیں جو اس کے پاس محفوظ رہ پائی تھیں۔ 
*۔۔۔*۔۔۔*
گر زبانی ہی سہی ۔۔۔ ضمانت تیرے نام کی حاصل تھی مجھے ۔۔۔ عائد کرتا ہے اب تو ہر درد فرد جرم مجھ پر۔
یہ دودھ پی لو۔
ہلدی ڈالی ہے میں نے اس میں، اماں اس کیلئے دودھ کا گلاس کمرے میں لے کر آئیں۔
نہاکر بال کھولے، سوجے چہرے سے وہ اپنے بیڈ کے کونے پر بیٹھی تھی۔ 
ارے اُٹھو ۔۔۔! یہاں آؤ میری بٹیا ۔۔۔
آہ 
اماں نے اس کے شانے سے ہلا کر بیڈ کے اوپر بیٹھنے کو کہا تو درد سے اس کی سسکی نکل گئی۔ 
کیا ہوا عمارے ۔۔۔ بیٹا کندھے میں درد ہے؟ اماں نے تکلیف اس کے چہرے پر رقم دیکھی تو پریشانی سے پوچھنے لگی۔ 
نہیں اماں ۔۔۔ کچھ نہیں۔
اس نے بات ٹالنے کے سے انداز میں کہا۔
نہیں بتاؤ مجھے ۔۔۔ ادھر بیٹھو۔
اماں نے اس کے لہجے سے مزید پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔ 
دکھاؤ مجھے ۔۔۔ کیا ہوا ہے یہاں۔
اماں نے ضد کرکے کہا۔
کچھ نہیں اماں ۔۔۔ میرا نصیب جیسا بھی ہے ، آپ رہنے دیں، کچھ نہیں ہے یہاں۔
عمارہ کی آواز میں آنسوؤں کی نمی در آئی ، وہ ایک دم سے ہچکیوں سے رونے لگی۔
اماں گنگ یک ٹک ٹک اسے دیکھے گئیں۔
عمارے ۔۔۔ بیٹا مجھ سے بھی چھپاؤ گی، 
دکھاؤ ۔۔۔ کیا ہوا ہے ۔۔۔؟
بڑی چوہدرانی نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ 
اماں ۔۔۔مت کرو ایسا، جو میری قسمت میں ہے اب وہ تو مجھے ملے گا نا ۔۔۔ اس میں کیسا حساب۔۔۔ نفع ہے تو میرا ہے۔ 
میرے لئے تو اب نقصان بھی نفع ہی ہے نا۔
وہ رونے لگی۔ 
اماں ۔۔۔ اب تو میرا درد، میرے زخم درِ پردہ رہنے دو، جب آج تک میرے ہر درد کو بے آسرا کیا ہے ۔۔۔ اب بھی لاوارث چھوڑ دو۔ 
وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے ماں کے ہاتھ جھٹکنے لگی۔
عمارے ۔۔۔ عمارے خدا کا واسطہ مجھے بتا۔
بڑی چوہدرانی کا لہجہ بھی گلو گیر ہوگیا۔ 
انہوں نے اس کی قمیض اُٹھاکر کندھا دیکھنا چاہا تو عمارہ نے بے جان لاشے کی طرح مزاحمت ترک کردی۔ 
مگر ۔۔۔ قمیض کا پلو اُٹھاتے ہی بڑی چوہدرانی کے دل پر گھونسہ پڑا۔ 
قمیض اُتری تو چوہدرانی کی آنکھیں بھی برسنے لگیں ۔۔۔ دونوں پہلوؤں سے بازوؤں تک کمر نیلو نیل تھی۔ 
بڑی چوہدرانی کے ہاتھوں سے قمیض اس کی جھولی میں گرگئی، اس نے ایک معمول کی طرح قمیض پہنی۔۔۔ آنسو پونچھے اور پہلو بدل کر دودھ کا گلاس پکڑ لیا۔۔۔ کیا اس نے مختار کانام لے کر تجھے مارا ۔۔۔؟
بڑی چوہدرانی نے پھر عمارہ کا ہی جرم ناکردہ جواز بنایا۔ 
اماں ۔۔۔ بس کردو ۔۔۔ مت لینا نام آج کے بعد مختار کا ۔
عمارہ نے تڑپ کر کہا۔
تو پھر کیوں مارا اس نے۔
بڑی چوہدرانی نے رُندھی ہوئی آواز میں اس سے پوچھا۔
زیادہ پی کر آئے تھے۔ 
عمارہ نے مختصر سا جواب دیا۔ 
بڑی چوہدرانی نظریں چراکر آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھنے لگیں۔
چند لمحے گھمبیر خاموشی میں گزر گئے۔ 
بڑی چوہدرانی کی آنکھیں بار بار پونچھنے پر پھر سے آب دیدہ ہوجاتیں۔ 
اب کیوں روتی ہو اماں ۔۔۔؟ سب تو پتہ تھا پہلے سے ۔۔۔ کون انجان تھا یہاں ۔۔۔؟
عمارہ نے بے تأثر آواز میں بڑی چوہدرانی کو باور کروایا۔ 
اب کیا فائدہ ۔۔۔؟
عمارہ نے پھر کہا۔
چل پتر ۔۔۔ صبر کر ۔۔۔ اب رہنا تو تجھے وہیں ہے ۔۔۔ اللہ اس کو ہدایت دے۔
بڑی چوہدرانی یہ کہتے ہوئے نظریں چراکر کمرے کے دروازے کی طرف چل پڑیں۔ 
چوہدری جی ۔۔۔ چوہدری جی
بڑی چوہدرائن ہسٹریائی انداز میں چیختی ہوئی بڑے چوہدری کو اُٹھانے خواب گاہ کی جانب لپکیں۔ 
کیا ہوا ۔۔۔ کیا قیامت آگئی نیک بختے ۔۔۔ بڑے چوہدری جی ہڑبڑا کر اُٹھے۔ 
عمارے سیڑھیوں گر گئی ۔۔۔ اس کی حالت نازک ہے ۔۔۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں لے گئے ہیں اسے۔ 
چوہدرائن نے ہڑ بڑائے لہجے میں بتایا۔ 
جلدی اُٹھو۔ 
چوہدرائن نے بڑے چوہدری جی کے چہرے کا تغیر پر غور نہ کرتے ہوئے انہیں بلایا۔ 
اوئے حسنات ۔۔۔ اوئے حسنات 
گاڑی نیار کر فٹا فٹ
ایک منٹ کی دیر ہوئی تو سانس کھینچ لوں گا تیری۔ 
بڑے چوہدری جی کمرے سے نکلتے دھاڑتے ہوئے ڈرائیور کو آواز دینے لگے۔ 
گاڑی میں بڑے چوہدری جی اور چوہدرائن کے بیٹھتے ہی گاڑی فراٹے بھرنے لگی ۔۔۔ اوئے تیز چلا۔
بڑے چوہدری جی جو دھیرے گاڑی چلانے کی تاکید کیا کرتے تھے ، آج بار بار ڈرائیور کو تیز چلانے کو کہہ رہے تھے۔ 
تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچتے ہی دونوں اندر کی جانب دوڑے۔ 
آئی سی یو کی طرف جاتے انہیں بلقیس دھاڑیں مارکر روتے ہوئے نظر آئی۔ 
چوہدرانی جی ۔۔۔ لٹ گئے ۔۔۔ برباد ہوگئے۔
مامون چوہدری کی گھریلو ملازمہ چوہدرائن کی جانب لپکی۔ 
کیا ہوا ۔۔۔ سیدھی طرح بتا۔
میرے عمارے کدھر ہے ۔۔۔؟
چوہدرائن نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بے تابی سے پوچھا۔
عمارہ بی بی اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ 
بلقیس نے روتے ہوئے انہیں بتایا۔ 
اگر بڑے چوہدری جی اور چوہدرائن کی زندگی پر پہاڑ بھی آگرتے تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس خبر کو سن کر انہیں درد ہوا۔ 
بڑے چوہدری جی کے قدم لڑکھڑائے۔ 
بلکتی ہوئی چوہدرائن نے چوہدری جی کو پاس پڑے بینچ پر سہارا دے کر بٹھایا اور بلقیس کو شانوں سے پکڑ کر سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔ بائیں ہاتھ سے آنسو پونچھے۔ 
کیا ہوا تھا ۔۔۔؟
انہوں نے موت سی سختی کے لہجے میں پوچھا اور بعد میں رتی بھر جھوٹ نکلا تو وہ حشر ہوگا ۔۔۔ زمانہ یاد رکھے گا۔ 
چوہدرائن نے اس کے بولنے سے پہلے اس کے جواب کی نوعیت کے انجام سے بھی آگاہ کردیا۔ 
وہ بی بی جی کھانے کے بعد چھت پر چاندنی میں ٹہلنے گئیں تھیں۔ 
مامون جی باہر سے آئے تو بی بی جی کا پوچھنے لگے اور پھر خود ہی چھت پر چلے گئے۔ 
کچھ دیر بعد میں نے باورچی خانے سے نکلتے ہوئے بی بی جی کی چیخ سنی اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گرتی نظر آئیں۔ 
مامون جی ان کے پیچھے پیچھے نیچے اُتر رہے تھے۔ 
اتنے میں آئی سی یو کے کوریڈور میں قدموں کی چاپ اُبھری ۔۔۔ بڑی چوہدرائن نے مڑ کر جو دیکھا تو ۔۔۔ 
مامون چوہدری سوجی آنکھوں سے چلا آرہا تھا۔
اماں ۔۔۔ مرگیا ۔۔۔ میرا پتر ۔۔۔ میری زندگی ۔۔۔ میرا سب برباد ہوگیا۔ 
وہ ان کے سامنے آکے روتے ہوئے، بلکتے ہوئے دہائیاں دینے لگا۔ 
بڑی چوہدرائن کے نتھنوں نے شراب کی بو محسوس کی ۔۔۔ ایک بڑی سخت درد کی لہر ان کے بائیں بازو سے سینے کی جانب لپکی۔
انہیں اپنے آنسو گالوں پر پھسلتے ہوئے محسوس ہوئے، آنکھوں کے سامنے دھند لاہٹ چھانے لگی۔ 
آئی سی یو کے کوریڈور میں ایک بھاری بھر کم جسم جسم کے گرنے کی دھمک اُبھری۔
بڑی چوہدرانی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی  
ان کی پتھرائی آنکھوں میں آنسو اٹکے تھے۔ 

                                   ختم شد



ساحر کے قلم سے


سفرِآگہی©

Monday, October 8, 2018

عمرِ رفتہ سے ہارے ہوئے ہم (حصہ اول)


اماں ۔۔۔!
سن رہی ہو نا ۔۔۔! میں کچھ کہہ رہی ہوں۔
اماں سنو نا۔۔۔
عمارہ نے گلوگیر لہجے میں ماں کو ہلاکر مخاطب کرنا چاہا۔
اگر رو کر میک اپ خراب کیا تو حشر برا کردوں گی۔۔۔ یاد رکھنا۔ 
اماں نے سخت لہجے میں دھمکی دی۔ 
اماں ۔۔۔! باوا جان سے کہو مجھے اپنے ہاتھوں سے ماردو مگر یوں میری زندگی برباد مت کرو۔ 
اماں سنتی ہو ۔۔۔ سن لو اماں میں مرجاؤں گی۔
چٹاخ سے ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار پر سرخی چھوڑ گیا۔ 
اُٹھ کر آنسو صاف کرلے اور دوبارہ اُس "پِلّے" کا نام لیا تو تیرے باوا تیری سانسیں کھینچ لیں گے۔
اماں نے آنکھ سے آنسو گرتا دیکھ کر بے اختیار آنکھوں ارو اس کے بے بس دلِ ناداں کی ناکردہ غلطی کی سزا دی۔ 
اماں میں کب مختار کا نام لے رہی ہو ۔۔۔ مت کریں اس سے میری شادی ۔۔۔ مگر یوں دُگنی عمر کے بدمعاش کے پلے نہ باندھو۔۔۔ اس سے اچھا ہے باوا جان کھینچ لیں میری سانسیں۔ 
اس نے اماں کی شعلہ باز نظروں سے بے پروا ہوکر اپنا مؤقف کہہ دیا۔
اماں منہ موڑ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔ اور کبابوں کے مصالحے میں ہاتھ چلانے لگیں۔
اماں ۔۔۔! میری اِک ذرہ پروا نہیں تمھیں، اماں میں زندہ لاش رہ جاؤں گی۔ 
کبھی مامون چوہدری کو غور سے دیکھا ہے آپ نے سب جانتے ہیں وہ شرابی ہے۔۔۔ اس کے ڈیرے پر ہونے والی عیاشیاں بھی سب جانتے ہیں، پھر بھی آپ انجان بن رہی ہیں۔ 
وہ ہسٹریائی انداز میں اماں کے سامنے آکر زمین پر بیٹھتے ہوئے کہتی چلی گئی۔ 
آپ تو آج تک مختار سے ملی بھی نہیں۔ 
وہ کیسا ہے؟ ۔۔۔ کون ہے؟ کچھ بھی تو نہیں جانتیں آپ؟ اماں وہ میری پسند ہے۔ 
آپ کو پسند نہیں تو میں اپنے دل کو سمجھا لیتی ہوں، اس کا نام تک زندگی سے نکال دوں گی، مگر یوں ایک درندے کے ہاتھوں میں سونپ کر مت مارو مجھے۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے مار دو۔ 
اماں مسلسل ’’ صُمٌ بُکْمٌ ‘‘ ہوکر کباب بناکر تھال میں رکھ رہی تھیں۔ 
عمارہ پر بے بسی کے ہمراہ مایوسی کے سائے لہرانے لگے۔ 
اماں پھر مجھے پڑھایا کیوں تھا اگر یوں ہی میرے مقدر کا فیصلہ اندھیروں کی نذر کرنا تھا۔ 
عمارہ کا دل اُمید چھوڑنے سے انکاری تھا ۔۔۔ دماغ جذباتی کیفیت میں ہزار عذر، لاکھوں سوال جوڑ رہا تھا۔ آنکھیں بے اختیار برس رہی تھی۔ 
اماں ۔۔۔! باوا جان تو دین کو بہت سمجھتے ہیں نا۔۔۔! دور دور تک عالموں کے درس اور تقریریں سننے جاتے ہیں، لوگوں کو کہتے ہیں، نصیحت کرتے ہیں، قرآن اور حدیث کے مطابق زندگی گزارو۔ 
اماں ۔۔۔! یہ تو میری خوشیوں کا فیصلہ ہے، اتنا حق تو مجھے میرا مذہب، یہ قرآن، یہ شریعت بھی دیتی ہے۔ 
اماں سنتی ہو ۔۔۔؟
عمارہ نے ہچکیوں سے اماں کو پھر سے مخاطب کیا۔ 
اماں کے ہاتھ رُکے اور بہ یک لمحہ انھوں نے اِک پل کیلئے بے تأثر نظروں سے اسے دیکھا، اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگئیں۔ 
عمارہ کے دلِ ناداں نے اماں کی خاموشی کو اُمید بنالیا۔ 
اماں حدیث ہے۔ 
’’کسی عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لی جائے۔‘‘ (بخاری۔ 5135) 
اماں خدا کیلئے مجھے زندہ درگور نہ کرو۔۔۔ بے موت نہ مارو۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ۔
عمارہ کی ہچکیوں نے اس کی گویائی تک روک لی۔
اماں نے کبابوں سے بھرا تھال اُٹھایا، برتن ڈھک کر اسے کندھوں سے اُٹھاکر کمرے میں لے گئیں۔ 
منہ صاف کرو اور جلدی سے میک اپ کرلو، تمہارے باوا جان مہمانوں کے ساتھ آتے ہوں گے۔ 
اماں مت کرو میرے ساتھ یہ ظلم۔۔۔ عمارہ نے التجا کی۔ 
بچی نہ بن عمارہ ۔۔۔ ؟
تجھے پتہ ہے کہ تمہارے باوا برادری سے باہر تمہارا نکاح کبھی نہیں کریں گے ۔۔۔ برادری نہیں چھوڑ سکتے وہ ۔۔۔ چل تیار ہوجا ۔۔۔ شاباش۔
اماں نے مزید تاکید کی اور باورچی خانے کی جانب چل دیں۔ 
اگر برادری نہیں چھوڑ سکتے تو پھر مذہب چھوڑ دیں نا۔۔۔ کیوں خود کو اور سب کو اتنا پکا مذہبی ہونے کا دھوکہ دیتے ہیں۔ 
عمارہ صرف یہ سوچ سکتی تھی زباں تک نہ لاسکی اور پھر سے میک اپ کرنے لگی۔ 

*۔۔۔*۔۔۔*

مہمان آچکے ۔۔۔ جلدی آجا عمارے 
باوا جان کا بارعب لہجے میں حکم صادر ہوا۔ 
وہ دل پر منوں بوجھ لئے آنچل سنبھالتے اُٹھی اور مردان خانے کو چل دی۔ 
مہمان آنے والی خواتین میں دو جواں عمر خواتین نے اسے اپنے درمیان بٹھالیا۔ 
ارے ماشاء اللہ ۔۔۔! چشم بددور۔۔۔
ارے بلقیس بانو ۔۔۔! یہ پانچ ہزار پکڑ ۔۔۔ ہماری ہونے والی بھابھو کا صدقہ۔۔۔ اللہ نظر بد سے محفوظ رکھے۔ 
باہر فقیروں میں بانٹ دے۔ 
اس کی ہونے والی جیٹھانی نے پیچھے ملازمہ کو حکم جاری کیا۔ 
ارے اتنی خاموش کیوں ہو۔۔۔؟
ارے یہ تو خوشی کا موقع ہے ۔۔۔ اتنی اُداسی ویسے بھی کنوارے چہرے پر اچھی نہیں لگتی۔ 
عمارہ کے دوسرے پہلو میں بیٹھی خاتون نے اس کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔ 
اتنے میں ضعیف خاتون نے جزدان میں لپٹا قرآن پاک عمارہ کی والدہ کی جھولی میں ڈال دیا۔
لے چودھرانئے ۔۔۔ اس کلام پاک دے صدقے سانوں ساک دے دے۔ 
( لو چودھرانی جی ۔۔۔ اس کلام پاک کے صدقہ ہمیں رشتہ دے دو۔)
چودھرانی نے ایک نظر بڑے چودھری صاحب کو دیکھا، چودھری صاحب کا سر اثبات میں ہلا۔
چودھرانی صاحبہ نے جذدان کو چوم کر آنکھوں سے لگاکر پاس پڑی تپائی پر رکھا اور اُٹھ کر اس خاتون کو گلے لگالیا۔ 
اس پر ہم کیا انکار کریں بہن جی ۔۔۔! آپ کا بیٹا کروڑوں کا وارث ہے ۔۔۔ ہماری بٹیا کا اس سے اچھا کیا جوڑ۔۔۔
عمارہ کو اب پتہ چلا کہ وہ ضعیف خاتون اس کی ہونے والی ساس ہے۔
مبارک سلامت کا شور اُٹھا ۔۔۔سب کا منہ میٹھا کیا گیا۔ 
اس کی جیٹھانی عمارہ کو بھی زبردستی اِک لڈو کھلایا مگر عمارہ کا حلق میٹھے کے بجائے کڑوا زہر ہوگیا۔ 
بھلا زندگی بھر کلام پاک پڑھا ہو تو سمجھ آئے کہ یہ واسطے دینے اور زندگیاں تباہ کرنے کا مذہبی ہتھیار نہیں ہے۔ 
عمارہ نے نم ہوتی آنکھوں سے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔

*۔۔۔*۔۔۔*

اماں ۔۔۔! اماں۔۔۔!
اماں خدا کے لئے ۔۔۔ اپنی بیٹی کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
میری زندگی کی خاطر۔۔۔ خوشیاں تو نصیب میں ہیں ہی نہیں، صرف میرے سکھ کیلئے ایک بار باوا جان سے بات تو کرکے دیکھو ۔۔۔ 
رات کے کھانے کے بعد اماں لیٹی ہوئی تھیں وہ ان کے پاؤں دباتے ہوئے کہنے لگی،
 اماں مجھے وہ اِک نظر بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔ موٹا ہے ، اَن پڑھ جاہل ہے۔
آہ ۔۔۔ 
اماں نے اُٹھ کر اس کے کھلے بالوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا۔ 
درد کی لہر سے آنکھوں میں آنسو آگئے، رونا تو یوں بھی دن رات کا لازمی حصہ ہوگیا تھا۔ 
چپ کر جا بے غیرت۔۔۔ !
ابھی کرتی ہوں بڑے چوہدری جی سے بات، تو ایسے نہیں سدھرے گی۔
اماں تیزی سے اُٹھ کر کمرے سے باہر دالان میں سکون سے پائپ پیتے چوہدری صاحب کی جانب لپکیں۔ 
اجی سنتے ہیں چوہدری جی ۔۔۔!
میں کہتی ہوں سمجھالیں اس لاڈلی کو۔۔۔ ناک تو کٹوائے گی ۔۔۔ خاندان کے نام کا چرچا بھی کروائے گی یہ لڑکی۔
غصے میں اُبلتے لہجے میں بولتے ہوئے اماں نے بڑے چوہدری صاحب کو معاملہ سنایا۔
چوہدری صاحب کمرے تک آئے، دروازے سے گھٹنوں میں سردیئے روتی ہوئی عمارہ کو دیکھا، پلنگ پر بیٹھ کر عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار بھرے لہجے میں گویا ہوئے۔ 
عمارہ ۔۔۔! بیٹا تم سمجھدار ہو، خود سوچو کہ جس طرح انھوں نے رشتہ مانگا تھا، میں کیسے انکار کردیتا، کیسے کلام پاک کو لوٹا دیتا، اب اپنے باوا جان کی عزت تمہاری جھولی میں ہے چاہو تو لٹا دو، چاہو تو سرخرو کردو۔ 
وہ بس چپ روتی رہی۔ 
کیسی عزت ۔۔۔! جھوٹا بھرم 
کلام پاک ۔۔۔
دل ہی دل میں سوچتے کلامِ پاک کے لفظ پر اسے عجیب بے تأثر سی کیفیت نے آلیا۔
وہ کلام پاک کہ جس کے ترجمے تک کو آپ صحیح نہیں مانتے ۔۔۔ وہ کلام پاک جسے آپ کا مسلک تک مجہول قرار دیتا ہے۔ 
وہ بس سوچتی گئی ۔۔۔ اِک نظر اُٹھا کے باوا جان کی جانب دُھندلی نگاہوں سے دیکھا اور سر جھکالیا۔ 
باوا جان اُٹھ کر باہر چلے گئے۔
ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی .. .... .... .


جاری ہے۔۔۔۔







ساحر کے قلم سے





سفرِآگہی©

Friday, October 5, 2018

کاذب آئینے

درد کی ایک زور دار لہر اس کے چہرے سے دل تک دوڑ گئی، اس قدر درد اسے چہرے پر پڑے تھپڑ سے نہیں ہوا تھا، جتنا الفاظ اور بڑے ماموں کا لہجہ اس کا دل کاٹ گیا تھا مگر بڑے ماموں اس کی حالت سے بے نیاز بولے جارہے تھے۔ 
تیرا باپ مرگیا تھا تو کسی قابل نہیں تھا تو گدھے۔ 
یہ کیا سوچ کر لکھتا ہے ۔۔۔ کون سا غم ہے تجھے؟ کیا روگ لگا رکھا ہے۔۔۔ ؟
ہمیں بھی بتا ہم بھی تیرے ساتھ مل کر روتے ہیں ۔۔۔ بے غیرت۔۔۔!
بڑے ماموں کوئی لحاظ رکھے بغیر اسے بری طرح لتاڑ رہے تھے ۔۔۔ یہ دیکھو ۔۔۔ یہ کیا ہے بتاؤ۔۔۔؟
عشق تماشا لگا رکھا ہے یہاں
اِک چاہتوں کی سرکس میں
یہ ۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔ بتانا 
بڑا تو مہیوال۔۔۔
یہ جو ڈائری کے ہر دوسرے صفحے پر تو نے لکھ رکھا ہے نا۔۔۔رنجشوں کے نصاب سے چاہتوں کے اقتباس۔۔۔ 
کون سے رنجشیں ہیں تیری زندگی میں۔
اتنے پیار سے تیری ہر خواہش پوری کرتے ہیں ۔۔۔ اچھا کھانا ۔۔۔ اچھی رہائش۔ 
سب کتنا پیار کرتے ہیں اور کتنا خرچہ ہے تیری انجینئرنگ کا ۔۔۔ اور تو ہے کہ کتے کی دُم۔ 
سائنسدان کی اولاد ۔۔۔!
بہت بڑا فلاسفر سمجھتا ہے تو خود کو ۔۔۔ انجینئرنگ پڑھ کر جناب فلسفے لکھیں گے۔ 
ماموں آپ نے بھی تو سول انجینئرنگ پڑھ کر بزنس کیا ۔۔۔ آپ نے بھی تو اپنی فیلڈ چھوڑ دی۔
شہر کے نامور بزنس مین، معاملہ فہم انسان حسین بزدار کو جواب دیا گیا تھا۔ 
کچھ پل وہ غور سے اپنے بھانجے کو دیکھتے رہے۔ 
اب تو مجھے جواب دے گا۔۔۔
بے غیرت اوقات دیکھ اپنی۔۔۔
اور پھر انہوں نے اس پر لاتوں گھونسوں کی برسات کردی۔ 

*****______-------********_______---------

آج شہر کے کامرس کلب کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ 
مہمان خصوصی حسین بزدار کو دعوت دی گئی کہ آکر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ 
بزنس کے فروغ کیلئے سب سے پہلے آپ یہ بھول جائیے کہ دنیا کیا کہے گی۔۔۔ اور بس اپنے اندر کے ضبط کو آزمائیں، نقصان ہو تو گھبرائیں مت بلکہ وہ نقصان کیوں ہوا اُس سبق کو تلاشیں۔
اگر وہ سبق مل جائے تو ڈوب جانے والا سرمایہ، ضائع گیا وقت نقصان نہیں لگے گا بلکہ آپ نے بہت کم قیمت میں بیش قیمت تجربہ لے لیا۔ 
کوئی بھی پیدائشی بزنس مین، سرمایہ دار، صنعت کار نہیں ہوتا۔۔۔ وقت، معاشرہ، حالات ان تمام سے لڑکر اپنی حیثیت خود منوانی پڑتی ہے، بشرط یہ کہ آپ خود اپنے ساتھ کھڑے رہیں۔
اور پورا حال ان کے جہاندیدہ مشوروں اور بے بہا تجربوں سے پر باتوں پر تالیاں پیٹ رہا تھا۔




ساحر مرزا کے قلم سے


سفرِآگہی©

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...