چشمِ نم میں ہمراہِ درد
اذیتوں کے سوال تھے
اندازِ ضبط گھُلے جو اُس کی ذات میں
وہ کمال تھے.......!!!!!!
منجدھارمیں جو ڈٹے رہے
وہی حوصلے تھےمزاج میں
کیئے جو غم ادھورے....!!! اِمسال تھے
وہ کمال تھے
وہ جو اشک ریز نگاہ تلے مسکان تھی
وہ بیان ہوئی
وہ جو نہ لکھے گٸے احوال تھے
وہ کمال تھے
وہ ہر پہر میں جو دِید تھی
بس اِک وہی تو عید تھی
وہ جو اِک نگاہ میں بے حال تھے
وہ کمال تھے
چلے ہم جو شہر کو چھوڑ کر
کوئی غم نہیں مگر
بُنے دُشمنوں نے سازشوں کے جو جال تھے
وہ کمال تھے
ہم یہاں خود کو بھُولے جا رہے
اور یاد بھی نہیں آرہے
مگر جو ساماں میں رکھے رومال تھے
وہ کمال تھے
ہم کم نظر, بے ظرف سے
ناداں بھی ہیں یہ مان لِیا
سرِمحفل وہ جو کم سخن
جذبات کے دلال تھے, وہ کمال تھے
وہ دل کے آنگن میں پھول تھے
جیسے لپٹے آغوشِ خار میں
وہ جو خود پر گزرے رنج تھے
وبال تھے, وہ کمال تھے
اِک ہم ہی کیا...؟؟؟؟؟؟
سارا جہاں فِدا تھا اُن پر
وہ جو ان پر وارے گئے حُسن و جمال تھے
وہ کمال تھے
وہ جو آج تک ہیں دبے رہے
کچھ لفظ اب تو ہیں مٹ گئے
وہ جو مسکان, محبوب, دل لگی و وصال تھے
وہ کمال تھے
بے معنی خوشیوں میں جی اُٹھے
اُس دل سے اب کیا واسطہ
وہ جو خود ہی سے رنج و ملال تھے
وہ کمال تھے
وہ جو ساتھ ساتھ تھے دُکھ درد
جیسے ساحَر سے آن ملے سَحر
وہ جو اُٹھ گئے اقبال تھے, جو فقط گِرے پُرزوال تھے
وہ کمال تھے
اذیتوں سے لڑتے اِک بے بس و لاچار کی نم آنکھوں
خاموش زباں اور سوالیہ نگاہوں سے مأخوذ
ساحر کے قلم سے