چاندنی رات کا منظر ۔۔۔۔۔۔
سہانی سی ہواؤں میں
میری یادوں، خیالوں میں
فقط موجود ہے چہرہ
تیرے گیسو، تیری آنکھیں
نظر کے سامنے رکھنا۔۔۔۔۔
یہ کیسی بے قراری ہے
کیسا ہے اضطراب اب تک
یہ تو قصہ پرانا ہے ۔۔۔۔
مگر اس دل کا رونا ہے
اسے سب یاد ہیں لمحے
سبھی وہ پل، وہ سب قہقہے
کہ اب تو میں بھی کوشاں ہوں
بھلا دوں میں وہ قصہ ہی
کہ جس میں ہے چھپا بیٹھا
جو قہقہوں سے مزین ہے
وہی اک درد کا منظر
کہ چمکتے چاند میں یک لخت
وقت کا گرہن آیا تھا
جو خواہش اپنے دل کی ہو
اور ہم مجبور بن جائیں
مگر مجھے بھول جانا ہے
کہ پل بھر وصل کے بدلے
قسمت کے لکھاری نے
کتابِ زندگی میں میری
عمر بھر ہجر لکھا تھا
ساحر کے قلم سے
