ٹھٹھرتی رات کے اندھیرے میں بھیگی سڑک پر وہ دھیرے دھیرے چلتا جا رہا تھا
تیز بارش کے ساتھ ہوا کے تھپیڑے اس کے قدموں کو ڈگمگانے پر مجبور کر رہے تھے اور وہ بھی ماحول و موسم کی سختی و سنگینی کو دماغ سے نکالے بس چلا جا رہا تھا
وہ روزانہ فلیمنگ سٹریٹ سے ویسٹ شیورنگ ٹاؤن رات کے پچھلے پہر پیدل جاتا تھا
اور بلاناغہ جاتا تھا
کسی سے اس کی اس قدر جان پہچان نہ تھی بس اپنے آپ میں مگن وہ کام پر مرضی سے جاتا تھا اور کم اخراجات کے سبب اس کا گزارہ اچھا چل رہا تھا
اسے آج تک کسی نے قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا تھا بس گم صم سا اداس اداس
اور بارش میں ہچکی بندھی ہوتی ہاں مگر آنسو چھپ جاتے تھے
مقامی پاکستانی لوگ بھی اس کے بارے میں کم ہی جانتے تھے مگر ہمدردی رکھتے تھے
دیارِ غیر گئے اسے قریباً بیس سال ہونے کو آئے تھے مگر نہ کسی سے رابطہ تھا اور نہ ہی دیس وہ کچھ بھیجتا تھا
بس اپنی جونک تھی اس کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں مت کہا کریں ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے
عمارہ نے بڑی دل نوازی سے کہا
وہ مسکرا دیا اور ہمیشہ کی طرح کہنے لگا
کیوں کرتی ہیں اتنی محبت مجھ سے۔۔۔؟؟؟؟
عمارہ نے اک ادا سے کہا پتہ نہیں ۔۔۔۔
اور دونوں مسکرا دئیے
سفیر ملک ایک لاابالی سا مگر سمجھ دار نوجوان تھا
اور مزاجاً بہت خوش اخلاق، ملنسار اور حساس لڑکا تھا
ابھی وہ پڑھائی سے فارغ ہو کر معمولی نوکری کر رہا تھا مگر مزاجاً وہ ایک آرٹسٹ تھا
کلرکی اسے پسند تھی نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا وہ تو ایک آرٹسٹ بننا چاہتا
مگر اپنے معاشی حالات کو سنبھالنے کو اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی تھا
اسی دوران اس کی ملاقات ایک لاء فرم کی نئی پریکٹس قانون دان عمارہ سے ہوئی
اور پھر یہ ملاقات کب محبت میں بدلی دونوں ہی اس بات سے انجان رہے
عمارہ ایک جاٹ گھرانے سے تعلق رکھنے والی نازوں پلی نوعمر تھی جبکہ سفیر ایک ملک گھرانے کا چشم و چراغ تھا
دونوں کے دلوں میں ڈر تھا کہ یہ معاشرے میں قوم ،ذات ،برادری کے داغ ان کی کہانی بھی اندھیروں کی نذر کر دیں گے
مگر دونوں اس ڈر سے نظریں چراتے تھے
البتہ سفیر عمارہ کیلئے پوری دنیا سے ٹکرانے کو بھی تیار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک روشن دن تھا
سفیر کا فون بج رہا تھا
سفیر بھاگا بھاگا اپنے کمرے میں آیا اور جھپٹ کر فون اٹھایا
السلام عليكم ۔۔۔۔۔!!!
عمارہ کی گلوگیر آواز اسے سنائی دی
سفیر تڑپ سا گیا
کیا ہوا ہے مانو۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
وہ اسے ہمیشہ پیار سے مانو بلاتا تھا اور عمارہ اسے بڑی دل نوازی سے مٹھو کہا کرتی تھی
بس مٹھو آپ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔۔۔
مجھے کبھی بددعا مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اس سے الفاظ بھی بڑی مشکل سے ادا ہو رہے تھے
مانو کچھ تو کہو کیا ہوا ہے؟ ؟؟
کچھ تو بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سفیر نے بدستور پریشان لہجے میں پوچھا
بس مٹھو آپ مجھے بھول جائیے گا پلیز
اور اپنا خیال رکھئیے گا
الله حافظ
مانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
مانو میری بات سنو
مجھے کچھ تو بتاؤ
مگر دوسری جانب سے فون کی لائن منقطع ہو چکی تھی
وہ پریشانی سے دوبارہ نمبر ملانے لگا مگر اس کا نمبر بلاک کیا جا چکا تھا
اس نے میسج کرنے شروع کر دئیے
اس کے دل سے بار بار عمارہ کی سلامتی کی دعائءں نکل رہی تھیں
اور دل وسوسوں کی آماجگاہ بن چکا تھا
عجب طرح طرح کے خیالات اس کے دل میں آ رہے تھے
مگر وہ مسلسل کوششوں میں رہا کہ کہیں رابطہ ہو جائے
کہیں اک امید اس کے دل میں تھی کہ عمارہ اسے اس چھوڑ کر نہیں جا سکتی
وہ بار بار ضبط کرنے کی کوشش کرتا مگر آنسو نکلے ہی جا رہے تھے
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
اس نے عمارہ کیلئے اپنے دوست ،اپنی مصروفیات اپنے تمام زندگی کے مشاغل ترک کر دئیے تھے
اب اس کے پاس کچھ باقی ہی نہ رہا تھا
اس نے ہر واسطہ ہر تعلق جس سے اسے امید تھی کہ کسی کا عمارہ سے رابطہ ہو سکتا ہو تو ایک بار اس سے بات ہو سکے
مگر جانے ساری دنیا نے جھوٹ بولنے کا عزم کر رکھا تھا
وہ کئی بار اس کے دفتر گیا مگر ہر بار اسے یہی پتہ چلا کہ وہ آج آئی نہیں یا پھر وہ کسی کام سے جا چکی ہیں
اس نے بارہا اس کے دفتر فون کیا مگر ہر بار جواب اس کی ہر امید کے برعکس نکلا
تھک کر اب وہ اکیلے کمرے میں لیٹا بس روتا رہتا یا سگریٹ پھونکتا نہ اسے کھانے کی پرواہ تھی نہ ہی کچھ اپنا ہوش
یہ تو اس کے دفتر کے منشی کا سہارا تھا جس نے کمپنی والوں سے کہہ کہلوا کر اسے سر چھپانے کو رہائش کی مہلت دے رکھی تھی
ورنہ وہ نوکری پر جانا تو اسی دن سے چھوڑ چکا تھا جب سے عمارہ سے اس کی آخری بار بات ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا باہر جا کر دل لگا کر کام کرنا اور ہمیں بھول نہ جانا
الله تمہیں کامیاب کرے گا ان شاءالله
یہ الفاظ بڑے حاجی صاب نے اسے ائیرپورٹ پر کہے تھے
اپنے بڑے بھیا کو وہ بڑے حاجی صاب کہا کرتا تھا
اور اس نے کوئی جواب دئیے بنا نم آنکھوں سے انہیں گلے لگایا اور بس پھر وہ بورڈنگ کیلئے چلا گیا
حاجی صاحب اس امید میں کھڑے اس کی پشت دیکھتے رہے کہ شاید کہیں وہ ایک بار مڑ کر دیکھے
مگر
مرضِ محبت میں مر جانے والے اپنے جنازے کو بھی خود ہی کندھا دیا کرتے ہیں وہ بھی اسی طرح اب کسی کی طرف دیکھے بغیر بڑھتا چلا گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن کی بھیگتی رات ۔۔۔۔۔
یہ فلیمنگ سٹریٹ کی خاموش روشنیوں میں بارش کا سہانا ممنظر تھا
جب وہ اپنے چہرے پر سختی لئے بارش میں بھیگتا گلی کے کونے سے ویسٹ شیورنگ ٹاؤن کی طرف مڑا
آج اس کے قدموں میں سست روی تھی اور سر معمول سے کچھ زیادہ جھکا ہوا
یہ رات کا آخری پہر تھا
وہ خاموشی سے چلتا ہوا اپنے مکان تک آیا دروازہ کھول کر کھڑا رہا
اور پھر اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا
صبح اس کے دفتر سے اس کی تنخواہ کا لفافہ لئے اس کا ساتھی اس کے کمرے تک گیا تو وہ اپنے بستر پر چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا
اور اس کا موبائل اس کے سینے پر تھا
پاس ہی ڈائری کے ورق ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے
اس کے گورے ساتھی نے اسے پکارا مگر وہ اب ان تمام آوازوں کی سماعت سے بہت دور جا چکا تھا
اس کے موبائل میں پولیس کو صرف ایک نمبر ملا جس پر کسی کا نام مانو لکھا تھا
پولیس کی تفتیش کے مطابق اس کی ڈائری خالی تھی بس اس کی آخری رات کی تاریخ میں ایک جملہ لکھا تھا
"مرضِ محبت میں اگر مریض کو مرض سے جدا کر دیا جائے تو وہ مرض ختم ہونے کی بجائے ناسور بن جاتا ہے"
ساحر مرزا کے قلم سے سفرِ آگہی سے اقتباس
تیز بارش کے ساتھ ہوا کے تھپیڑے اس کے قدموں کو ڈگمگانے پر مجبور کر رہے تھے اور وہ بھی ماحول و موسم کی سختی و سنگینی کو دماغ سے نکالے بس چلا جا رہا تھا
وہ روزانہ فلیمنگ سٹریٹ سے ویسٹ شیورنگ ٹاؤن رات کے پچھلے پہر پیدل جاتا تھا
اور بلاناغہ جاتا تھا
کسی سے اس کی اس قدر جان پہچان نہ تھی بس اپنے آپ میں مگن وہ کام پر مرضی سے جاتا تھا اور کم اخراجات کے سبب اس کا گزارہ اچھا چل رہا تھا
اسے آج تک کسی نے قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا تھا بس گم صم سا اداس اداس
اور بارش میں ہچکی بندھی ہوتی ہاں مگر آنسو چھپ جاتے تھے
مقامی پاکستانی لوگ بھی اس کے بارے میں کم ہی جانتے تھے مگر ہمدردی رکھتے تھے
دیارِ غیر گئے اسے قریباً بیس سال ہونے کو آئے تھے مگر نہ کسی سے رابطہ تھا اور نہ ہی دیس وہ کچھ بھیجتا تھا
بس اپنی جونک تھی اس کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں مت کہا کریں ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے
عمارہ نے بڑی دل نوازی سے کہا
وہ مسکرا دیا اور ہمیشہ کی طرح کہنے لگا
کیوں کرتی ہیں اتنی محبت مجھ سے۔۔۔؟؟؟؟
عمارہ نے اک ادا سے کہا پتہ نہیں ۔۔۔۔
اور دونوں مسکرا دئیے
سفیر ملک ایک لاابالی سا مگر سمجھ دار نوجوان تھا
اور مزاجاً بہت خوش اخلاق، ملنسار اور حساس لڑکا تھا
ابھی وہ پڑھائی سے فارغ ہو کر معمولی نوکری کر رہا تھا مگر مزاجاً وہ ایک آرٹسٹ تھا
کلرکی اسے پسند تھی نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا وہ تو ایک آرٹسٹ بننا چاہتا
مگر اپنے معاشی حالات کو سنبھالنے کو اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی تھا
اسی دوران اس کی ملاقات ایک لاء فرم کی نئی پریکٹس قانون دان عمارہ سے ہوئی
اور پھر یہ ملاقات کب محبت میں بدلی دونوں ہی اس بات سے انجان رہے
عمارہ ایک جاٹ گھرانے سے تعلق رکھنے والی نازوں پلی نوعمر تھی جبکہ سفیر ایک ملک گھرانے کا چشم و چراغ تھا
دونوں کے دلوں میں ڈر تھا کہ یہ معاشرے میں قوم ،ذات ،برادری کے داغ ان کی کہانی بھی اندھیروں کی نذر کر دیں گے
مگر دونوں اس ڈر سے نظریں چراتے تھے
البتہ سفیر عمارہ کیلئے پوری دنیا سے ٹکرانے کو بھی تیار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک روشن دن تھا
سفیر کا فون بج رہا تھا
سفیر بھاگا بھاگا اپنے کمرے میں آیا اور جھپٹ کر فون اٹھایا
السلام عليكم ۔۔۔۔۔!!!
عمارہ کی گلوگیر آواز اسے سنائی دی
سفیر تڑپ سا گیا
کیا ہوا ہے مانو۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
وہ اسے ہمیشہ پیار سے مانو بلاتا تھا اور عمارہ اسے بڑی دل نوازی سے مٹھو کہا کرتی تھی
بس مٹھو آپ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔۔۔
مجھے کبھی بددعا مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اس سے الفاظ بھی بڑی مشکل سے ادا ہو رہے تھے
مانو کچھ تو کہو کیا ہوا ہے؟ ؟؟
کچھ تو بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سفیر نے بدستور پریشان لہجے میں پوچھا
بس مٹھو آپ مجھے بھول جائیے گا پلیز
اور اپنا خیال رکھئیے گا
الله حافظ
مانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
مانو میری بات سنو
مجھے کچھ تو بتاؤ
مگر دوسری جانب سے فون کی لائن منقطع ہو چکی تھی
وہ پریشانی سے دوبارہ نمبر ملانے لگا مگر اس کا نمبر بلاک کیا جا چکا تھا
اس نے میسج کرنے شروع کر دئیے
اس کے دل سے بار بار عمارہ کی سلامتی کی دعائءں نکل رہی تھیں
اور دل وسوسوں کی آماجگاہ بن چکا تھا
عجب طرح طرح کے خیالات اس کے دل میں آ رہے تھے
مگر وہ مسلسل کوششوں میں رہا کہ کہیں رابطہ ہو جائے
کہیں اک امید اس کے دل میں تھی کہ عمارہ اسے اس چھوڑ کر نہیں جا سکتی
وہ بار بار ضبط کرنے کی کوشش کرتا مگر آنسو نکلے ہی جا رہے تھے
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
اس نے عمارہ کیلئے اپنے دوست ،اپنی مصروفیات اپنے تمام زندگی کے مشاغل ترک کر دئیے تھے
اب اس کے پاس کچھ باقی ہی نہ رہا تھا
اس نے ہر واسطہ ہر تعلق جس سے اسے امید تھی کہ کسی کا عمارہ سے رابطہ ہو سکتا ہو تو ایک بار اس سے بات ہو سکے
مگر جانے ساری دنیا نے جھوٹ بولنے کا عزم کر رکھا تھا
وہ کئی بار اس کے دفتر گیا مگر ہر بار اسے یہی پتہ چلا کہ وہ آج آئی نہیں یا پھر وہ کسی کام سے جا چکی ہیں
اس نے بارہا اس کے دفتر فون کیا مگر ہر بار جواب اس کی ہر امید کے برعکس نکلا
تھک کر اب وہ اکیلے کمرے میں لیٹا بس روتا رہتا یا سگریٹ پھونکتا نہ اسے کھانے کی پرواہ تھی نہ ہی کچھ اپنا ہوش
یہ تو اس کے دفتر کے منشی کا سہارا تھا جس نے کمپنی والوں سے کہہ کہلوا کر اسے سر چھپانے کو رہائش کی مہلت دے رکھی تھی
ورنہ وہ نوکری پر جانا تو اسی دن سے چھوڑ چکا تھا جب سے عمارہ سے اس کی آخری بار بات ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا باہر جا کر دل لگا کر کام کرنا اور ہمیں بھول نہ جانا
الله تمہیں کامیاب کرے گا ان شاءالله
یہ الفاظ بڑے حاجی صاب نے اسے ائیرپورٹ پر کہے تھے
اپنے بڑے بھیا کو وہ بڑے حاجی صاب کہا کرتا تھا
اور اس نے کوئی جواب دئیے بنا نم آنکھوں سے انہیں گلے لگایا اور بس پھر وہ بورڈنگ کیلئے چلا گیا
حاجی صاحب اس امید میں کھڑے اس کی پشت دیکھتے رہے کہ شاید کہیں وہ ایک بار مڑ کر دیکھے
مگر
مرضِ محبت میں مر جانے والے اپنے جنازے کو بھی خود ہی کندھا دیا کرتے ہیں وہ بھی اسی طرح اب کسی کی طرف دیکھے بغیر بڑھتا چلا گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن کی بھیگتی رات ۔۔۔۔۔
یہ فلیمنگ سٹریٹ کی خاموش روشنیوں میں بارش کا سہانا ممنظر تھا
جب وہ اپنے چہرے پر سختی لئے بارش میں بھیگتا گلی کے کونے سے ویسٹ شیورنگ ٹاؤن کی طرف مڑا
آج اس کے قدموں میں سست روی تھی اور سر معمول سے کچھ زیادہ جھکا ہوا
یہ رات کا آخری پہر تھا
وہ خاموشی سے چلتا ہوا اپنے مکان تک آیا دروازہ کھول کر کھڑا رہا
اور پھر اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا
صبح اس کے دفتر سے اس کی تنخواہ کا لفافہ لئے اس کا ساتھی اس کے کمرے تک گیا تو وہ اپنے بستر پر چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا
اور اس کا موبائل اس کے سینے پر تھا
پاس ہی ڈائری کے ورق ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے
اس کے گورے ساتھی نے اسے پکارا مگر وہ اب ان تمام آوازوں کی سماعت سے بہت دور جا چکا تھا
اس کے موبائل میں پولیس کو صرف ایک نمبر ملا جس پر کسی کا نام مانو لکھا تھا
پولیس کی تفتیش کے مطابق اس کی ڈائری خالی تھی بس اس کی آخری رات کی تاریخ میں ایک جملہ لکھا تھا
"مرضِ محبت میں اگر مریض کو مرض سے جدا کر دیا جائے تو وہ مرض ختم ہونے کی بجائے ناسور بن جاتا ہے"
ساحر مرزا کے قلم سے سفرِ آگہی سے اقتباس
No comments:
Post a Comment