جو ساگر کو اشارا دے
اور ساحل کو کِنارا دے
بھٹکے ہوں مسافر جو
انہیں شب میں اُجالا دے
الٰہی مجھ کو عطا کر دے
بس اتنی سی یہ خواہش ہے
اِک ایسا شخص جو مجھ کو
میرے غم میں سہارا دے
لرزتے دل, کانپتے ہاتھوں, کپکپاتے ہونٹوں اور چشمِ نم سے
حسرتِ دل کی بارگاہِ الٰہی میں صدا
ساحر کے قلم سے
سفرِآگہی©