Wednesday, March 27, 2019

اوٹ میں چھپتی انسانیت کے نام

 زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
سانسوں کی ڈور کا گوشت پوست کے جسم کے ساتھ آواز، نظر، حسیات اور کائنات و جہان میں ایک پہچان کے ساتھ اپنا وجود رکھنا اور موجودگی کا ثبوت رکھنا زندگی کہلاتا ہے 
مگر 
انسانی حیات میں انسانوں کا زندگی کی پہچان کے ساتھ اپنی پہچان رکھنا نوعِ بشر کا خاصہ ہے 
معاشرے، سماج اور انسانی روایات میں انسانوں کا ہر دور میں اپنے حلقے کے ساتھ  اپنی پہچان، اپنا کردار اور اپنا مقام رکھنا انسانوں کو دوسری تمام تر مخلوقاتِ ارض سے ممتاز و منفرد بناتا ہے 
مگر فی زمانہ رواج کے مطابق 
انسان اب اپنی پہچان، اپنے کردار اور مقام کو کسی نہ کسی طور پسِ پشت رکھ کر اک قوم، جماعت، امت سے بکھر کر بس اک ہجوم کی  شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں
کیوں کہ اپنی پہچان، اپنا کردار اور مقام بنانے، کو نکھارنے، کو سنوارنے کو مسلسل محنت، آہن صفت عزم اور انسانی فطرت کو اپنی ذات کے لازمی اجزاء کی صورت برقرار رکھنا کوئی معمولی و سہل کام نہیں 
اور اب مشکلات و مصائب کا سامنے کرنے کی ہمت رکھنے والے جواں صفت کم ہمت اور سہل پسندی کا شکار ہو کر ناکامی و پستی کا جانب گامزن ہیں  
اور ان تمام کے اسباب سے صرفِ نظر فقط مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے، فقط موضوعِ بحث بناتے جا رہے ہیں اور اک مسئلے سے بہت سے مسائل کی افزائش کا باعث بھی ہو رہے ہیں 
ایک شخص کا معاشرتی کردار ختم ہونے کو ہے کیونکہ فی زمانہ ہر شخص اپنی پہچان کے آگے ایک آڑ رکھنے لگا ہے، وہ آڑ اس کی پہچان کو دبائے ہوئے ہے 
ھمیں بنی نوعِ انسان کا فخر ہوتے ہوئے اپنے ارد گرد کے مسائل کو ختم کرنے کیلئے مسائل پر بحث نہیں کرنی، ہمیں مسائل کو فقط دبانا نہیں  ہے، اپنی آسانی کیلئے اپنی بساط کی حد تک کسی مسئلے کی روک تھام کرنے کی بجائے ھمیں اس کے اسباب تلاش کرنے ہیں اور معاشرتی بگاڑ کو روکنے کیلئے ان تمام تر اسباب کی روک تھام کرنی ہے اور ان تمام تر اسباب و وجوہات کو تلف کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا 
کیونکہ ہم انسان ہیں
بشر ہونے کے ناطے اشرف المخلوقات میں سے ہیں 
اور اشرف المخلوقات کا شرف بحال رکھنا اشرف المخلوقات کی اہمیت کو جانتے مانتے اور اشراف کو ذات حصہ بنانا سہل ہر گز نہیں ہے 
ربِ کائنات میرے اور آپ  سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے  اور آسانیاں بانٹنے اور فراہم کرنے کا شرف عطا فرمائے
آمین





اِک مفکر، معلم اور باظرف شخصیت کی یاد میں 
محترم و مکرم اشفاق احمد صاحب کی یاد میں 
اِک سوچ پر تبادلہءِ خیال 
ساحر کے قلم سے
بشکریہ عمر عبداللہ






سفرِآگہی


Wednesday, March 20, 2019

حسرتِ قلب سے اِک صدا

؎     تم ہی سے سارے رنگ ہیں 
        تم ہی سے چاہتیں سبھی 
        یہ حرف و لفظ کے ربط سب
        تم ہی سے عبارتیں سبھی 
        میرا خیال، تصور، سکون سب 
        تم ہی سے راحتیں سبھی
        تم دل میرا تم جان ہو 
        میری زندگی کی شان ہو
        میری آرزو، میری جستجو 
        میری حسرتیں، تیری گفتگو 
        تم میرا یقیں، تم میرا گماں
        میری دلبری کا بیان ہو


        محبتوں، چاہتوں، الفتوں اور بے پناہ آرزوؤں تلے کچلے
        اِک سادہ لوح نادان کی کتھا سے اقتباس
        ساحر کے قلم سے

        ساحر مرزا

سفرِآگہی



Sunday, March 3, 2019

زاویہءِ نظر

محبت اور غرض میں بہت فرق ہوتا ہے
جیسے 
انا اور خودداری
جیسے
دل اور دماغ
جیسے
نفع اور نقصان 
جیسے 
جسم اور جان
جیسے
 عرض اور فرمان
جیسے 
زمین اور آسمان
جیسے
حاکم اور عاجز انسان
جیسے
حسرت اور ارمان
جیسے
عاقل اور نادان 
جیسے
مٹی اور مرجان
جیسے
صحرا اور ناران







ساحَر مرزا


سفرِآگہی

سالگرہ مبارک

؎    ہزاروں سال جِینا ہو، تیری قسمت مقدر میں
       ذرا کبھی آنکھ نم نہ ہو، تیرے دن رات ایسے ہوں
       ہوں خوشیوں سے بھرے لمحے، لبوں پہ مسکان رقصاں ہو
       تیرے آنگن اُجالا ہو، تیرے حالات ایسے ہوں 




      سالِ نو کی مبارک باد کے ھمراہ
      اِک دُعا 
      اِک جاں فِزا تِتلی کے نام
      اِک بہار سے موسمِ خزاں کے نام
      ساحر کے قلم سے








ساحر مرزا

سفرِآگہی

عمرِ رفتہ سے اِک سالِ نو کے نام

؎  زندگی اِک نام سا ہے 
     تیرے آنے کا 
     تیرے ہونے کا 
     اور خوشیاں۔۔۔۔!!
     تیرے پاس ہیں 
     تیرے ساتھ ہیں
     درد، الم اور دکھ سارے
     ہیں بس چند اک لمحے کے
     اور وقت۔۔۔۔۔!!!!
     یونہی بدنام سا ہے
    





     بے وقت، بے معنی اور مہمل خیالات سے مآخوذ
     ساحر کے قلم سے






     ساحَر مرزا




سفرِآگہی

Friday, March 1, 2019

دست بستہ اِک عرضِ وفا

؎  ہو جاتی وقت سے محبت ۔۔۔۔۔!!!!!
     اگر لمحے وفا کرتے
     ہو جاتے اور بھی محبوب ھمیں تم
     اگر اپنا نفع کرتے
     منا لیتے جو خود کو تم تو کیا تھا
     اگرچہ جہاں بھر کو خفا کرتے 
     بھرم احباب کی محفل کا رہ جاتا
     عزیز از جاں اگر اِک پر کفیٰ کرتے

     اِک ندائے پُردرد
     ساحر کے قلم سے





     ساحر مرزا


سفرِآگہی

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...