ہاتھ آنکھوں پہ رکھے
سوچ رہی تھی
دوریوں کا درد
بچھڑنے کا غم چھپ گیا
مگر
یاد نہ رہا اسے
ہچکیاں, آہیں اور سسکیاں
دبا لینا
ضبط ٹوٹ رہا تھا
صبر آزما رہی تھی
حوصلہ چھُٹ رہا تھا
ہمت جوابدہ تھی
مگر
بھرم رکھنا تھا اسے
سو دور تک وہ
اکیلی دوڑتی گئی
خود سے دُور
زندگی سے دُور
بس اک لاش
ترکہ چھوڑتی گئی
ڈائری کا اک سیاہ خالی صفحہ
ساحر کے قلم سے
سفرِآگہی©