Friday, September 21, 2018

بے وقت فیصلے

کہنے سننے میں ہزار ہا بار ایک انگریزی ادب کے شہسوار "ولیم شیکسپیئر" کے ناٹک کی مثال دیتے ہیں
"زندگی ایک اسٹیج کی مانند ہے جہاں ہر کسی کو اپنا کردار نبھانا ہے، اور اس اسٹیج پر ایک ایسا ناٹک چل رہا ہے کہ جس میں شامل ہم تمام لوگ بس کٹھ پتلیاں ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کردار کا نام، تعین اور حصہ کیا ہے، ہاں البتہ اس بات سے فرق ضرور پڑتا ہے کہ وہ کردار کس طرح نبھایا گیا ہے"
اب اس اسٹیج پر جاری ناٹک کے کرادر کی کارکردگی کو ناٹک میں اس کے حصے کی تکمیل تک جانچنا صریحاً غلط بات ہو گی 
پہلے اسے اپنا کردار مکمل ادا کرنے دیجئے 
پھر رائے دیجئے
مگر یہاں ایک اور اہم غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نے اک عادت سی بنا لی ہے کہ ہم رائے نہیں فیصلہ سناتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمارے فیصلے کو من و عن مانا جائے بلکہ ٹھونسا جائے کہوں تو زیادہ مناسب لگتا ہے


زندگی کے ناٹک سے ایک تجزیہ

ساحر کے قلم سے











©سفرِآگہی

Thursday, September 20, 2018

روایتی تعلیم

چلو اپنی اپنی کتابیں بند کرو، اور آج کا سبق سناؤ۔ 
استادِ محترم شفیق مراد صاحب کی ٹھہری ہوئی آواز کمرۂ جماعت میں گونجی۔ 
تمام طلباء اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے، کتابیں بستوں میں بند کردی گئیں۔ 
اب سبق سننا شروع کیا گیا۔ 
قاسم کی باری آئی ۔۔۔
قاسم (ڈرتے ڈرتے ):۔
استادِ محترم ۔۔۔ ؟ 
غلطی ہوگئی ۔۔۔ مجھے آج کا سبق یاد نہیں ۔
استاد نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پوچھا ۔ 
کیوں بھائی ۔۔۔؟ آج پھر سبق یاد نہیں ۔
ایسا کیوں ۔۔۔؟؟
قاسم (شرمندگی سے ) :۔
استادِ محترم ! قسم لے لیں رات دیر تک یاد کرتا رہا، مگر آج پھر سبق یاد نہیں کر پایا۔
استاد نے تاسف سے اسے دیکھا اور پھر کچھ دیر بعد کہا۔ چلو ایک طرف ہوجاؤ۔
اور مجھ سے آدھی چھٹی میں ملنا۔ 
تمام بچوں سے سبق سنا گیا۔
اور پھر اسکے بعد کا تمام بچوں سے سبق سنا گیا۔
اور پھر اسکے بعد کا تمام وقت قاسم نے ڈرتے ڈرتے گزارا کہ نہ جانے آدھی چھٹی کے وقت استاد کیا کہیں گے۔ 
الغرض آدھی چھٹی ہوئی اور وہ ڈرتے ڈرتے کمرۂ جماعت سے نکل کر لائبریری کی طرف چل پڑا۔
اور پھر ڈھیروں دعاؤں اور جل تو جلال تو کا ورد کرتا لائبریری میں استاد شفیق مراد صاحب کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ 
استاد کو سلام کرنے کے بعد وہ مؤدب سا ایک جانب کھڑا رہا، استاد نے آہستگی سے جواب دیا۔
میز کے دوسری طرف سے نظریں اُٹھاکر اسے دیکھا اور پھر سے سامنے رکھے رجسٹر پر کچھ لکھنے لگے، کچھ تاخیر کے بعد اپنا کام ختم کرکے رجسٹر ایک جانب رکھا اور پھر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
کچھ لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔
معصوم صورت، بڑی بڑی اور گہری آنکھیں جن سے ذہانت اور خوف جھلک رہا تھا۔
چہرے کی رنگت اُڑی ہوئی۔
وہ اسے دیکھتے دیکھتے آہستگی سے پیار بھرے لہجے میں اس سے گویا ہوئے۔ 
قاسم میاں ۔۔۔؟
تمہیں سبق بالآخر کیوں یاد نہیں ہوتا۔
قاسم کچھ دیر خاموش رہا۔
استاد پھر سے میٹھے و نرم لہجے میں بولے۔
میاں کچھ کہو تو ماجرا سمجھ میں آئے، اب خاموش رہو گے تو کیا پتہ چلے گا۔
قاسم ڈرتے ڈرتے بولا:۔
استادِ محترم میں سبق یاد تو کرنے بیٹھتا ہوں مگر میرا دھیان نہیں لگ پاتا۔ میں پھر سے بھول جاتا ہوں۔ 
استاد شفیق مراد صاحب دھیرے سے مسکرائے اور کہنے لگے :۔
قاسم میاں ۔۔۔ ایک تو تم ڈرتے بہت ہو، جب سبق یاد کرنے سے ڈرنے لگو تو کیا خاک یاد ہوگا، بیٹا تم سبق اس لئے یاد نہیں کرتے کہ تم وہ پڑھو، سیکھو یا اسے سمجھو کہ یہ کیوں لکھا ہے؟ اس سبق میں کیا ہے جو یاد کرنا ہے؟
بلکہ تم ہمہ وقت اسی سوچ میں رہتے ہوکہ اگر یاد نہ کیا تو صبح کمرۂ جماعت میں سزا ملے گی، اور تمہیں شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔
بولو ایسا ہی ہے نا ۔۔۔
قاسم نے ڈرتے ڈرتے استاد کی جانب دیکھا اور نم آنکھوں سے ہلکے سے اثبات میں گردی ہلادی۔
استاد شفیق مراد صاحب مسکرائے اور اُٹھ کر قاسم کے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا :۔
بیٹا ۔۔۔؟ تمہارے ذہن کیلئے یہ سبق بہت معمولی ہے، تمہیں سبق اس لئے یاد کرنے کو نہیں کہا جاتا کہ تمہاری یادداشت کا امتحان مقصود ہے، بلکہ درحقیقت یہ تمہاری دلچسپی کا امتحان ہے، علم تو بہت وسیع ہے، یہ تو اس وقت انسان کو عطا ہوتا ہے جب وہ اس میں دلچسپی کا امتحان پاس کرتا ہے اور پھر اسے پانے کیلئے شوق کی منزلیں طے کرتا ہے۔
بیٹا ۔۔۔ تم سزا سے مت ڈرو، شرمندگی کے ڈر کو ساتھ لئے سبق یاد کرنے نہ بیٹھو بلکہ اس سبق کو دلچسپی سے پڑھو، اسے سمجھو، پھر تمہیں یاد کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی بلکہ وہ خود بہ خود تمہیں یاد ہوجائے گا۔
تم سبق میں دلچسپی لو، سبق پھر خود تمہیں یاد ہوگا اور تمہارے ذہن میں پیوست ہوجائے گا۔
بس یادداشت کا سہارا مت لو بلکہ دلچسپی لو بیٹا، تاکہ کل کو تم بہت سا علم حاصل کرسکو۔
قاسم حیرت واستعجاب کے ساتھ استاد کی بات کو سن رہا تھا۔
جو بظاہر بہت آسان مگر درپردہ بیک وقت پیچیدہ بھی تھی، مگر وہ اس میں دلچسپی لے رہا تھا۔
اس نے بمشکل جی کہا۔
استاد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جاؤ ۔۔۔! آدھی چھٹی کا وقت کم ہے، کچھ کھالو اور کھیل لو پھر کمرۂ جماعت میں جانا ہے۔
قاسم استاد کو سلام کرکے لائبریری سے سست قدمی سے چلتا باہر چلا گیا۔
استاد اس کے عقب میں اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ 
اگلے دن ۔۔۔
استاد شفیق مراد صاحب کمرۂ جماعت میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے ہیں۔ 
حاضری کے بعد انہوں نے بچوں سے کہا :۔
بچو ۔۔۔؟ آج کا سبق دہرالو، پھر میں سنو گا۔ 
چند لمحوں بعد استاد نے پھر اسی طرح بچوں کو کہا:۔
بچو ۔۔۔؟ اپنی کتابیں بند کرو۔
پھر استاد نے مسکراتے ہوئے کہا :۔
آج پہلے سبق کون سنائے گا ۔۔۔؟
اور پھر استاد نے دیکھا کہ سب سے پہلے اُونچا ہاتھ کرنے والا بچہ قاسم تھا۔ 
اور استاد کی مسکراہٹ گہری ہوگئی










ساحر کے قلم سے

©سفرِآگہی 

Sunday, September 9, 2018

اُمیدیں بار کرتا ہوں، اندیشے بھول جاتا ہوں

خوشی کے لمحے جینے میں
غموں کا ساتھ دینے میں
کتنا حصہ ہے میرا اور
کس قدر مجھ پہ طاری ہے 
یہ سب کچھ بھول جاتا ہوں
میں پل پل یاد کرتا ہوں
تو لمحے بھول جاتا ہوں
وہ دن میں یاد رکھتا ہوں
اور تاریخیں بھول جاتا ہوں
عجب سی بے خیالی ہے
غضب کی بے قراری ہے
کہ اُمیدیں بار کرتا ہوں
اور اندیشے بھول جاتا ہوں


ساحر
بے رُخی کے نتائج سے بے ربط جملے
تھکے مسافر سے گفتگو
©سفرِآگہی


خوفِ محبت سے مأخوذ


Sunday, September 2, 2018

پریشان شرارت

شب گزر گئی آج بھی، چاند بھی ڈوب رہا ہے
طلوعِ سحرِ نو ہے مگر۔۔۔۔!!!!!!  دل اُوب رہا ہے
کیا کہیں اب کہ ماضی کے سبھی قصے کیا ہیں
کیا ہی قسمت ہے میری کہ سبھی خُوب رہا ہے
نہ تو یہ شب ہے رہی، نہ ایام سبھی ایک سے ہیں
نہ شگفتہ کلامی رہی باقی، نہ وہ رنگ رُوپ رہا ہے
بیتے زمانے میں تو بادل تھے کہ میسر تھا سکون مگر
غمِ دوراں میں الجھ ہر دن میرا زیرِ دُھوپ رہا ہے
کیسے شکوے کیا گلہ کرنا تم سے، یہ تو قسمت تھی ہماری
رُخصت ہوئیں خوشیاں، اب غم سے دل ہُوک رہا ہے
زندگی مانند استاد ہے ساحر اہلِ جہاں مانتے ہیں
نصابِ حیات میرا اب تک اسباق سے بھرپور رہا ہے



ساحر

سحرِ نو   سے مأخوذ


©سفرِآگہی 

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...