Sunday, March 14, 2021

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے
جہاں خوشبو لفظ کا عرف عام میں رائحہ اور خوشنما بو پر اطلاق ہوتا ہے، وہیں غذائی اجناس اور آرائشی اشیاء اس کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں
عطریات کئی بار مذہبی جذبے کے تحت بھی استعمال کئے جاتے ہیں
خوشبو کئی بار پھلوں سے بھی نکلتی ہے۔ گلاب کا پھول، رات کی رانی اور چمیلی اس طرح سے پھولوں میں کافی مشہور ہیں
کئی پھولوں سے بھی خوشبو آتی ہے
پکے ہوئے آم، تازہ اور پکے ہوئے کیلوں اور چیکوؤں کی بھی اپنی الگ خوشبو ہوتی ہے
کرناٹک، بھارت سے دستیاب صندل کی لڑکی بھی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔
شاعروں نے خوشبو پر کئی اشعار لکھے ہیں
اگر بات پھولوں کی خوشبو پر ہو تو گلاب، چنبیلی، رات کی رانی اور یاسمین کی خوشبو تخیل میں گھلتی محسوس ہوتی ہے
پودوں میں پھول کھلنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس میں پھل لگیں گے اسے پودے کی افزائش نسل کا نام بھی دیا جا سکتا ہے
پھول جہاں ایک طرف ہمیں خوبصورت لگتے ہیں وہیں ان کی خوش بو ہواؤں میں ایک خوش گوار کیفیت پیدا کرتی ہے
اور اگر بات پھولوں کی ہو، رنگِ بہاراں کا تذکرہ ہو یا پھر گلشن، گلستاں یا چمن کا ذکر ہو تو پھر تتلیوں کا وجود بھی لازم ہے
اور تتلیوں کا خوشنما رنگوں سے مزین وجود پودوں پھولوں کے ساتھ جیسے لازم و ملزوم ہے
اور مزے کی بات تتلیوں کا جہاں پتوں، پھولوں کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے وہیں تتلیوں کی نازکی، خوبصورتی اور خوشنمائی کے باوجود، اس خوشنما پتنگے کی زندگی کا دوسرا رُخ بھی قابلِ ذکر ہے
یہ تتلیاں پھولوں پتوں کو خوراک بنا کر زندہ رہتی ہیں
یہ پھولوں سے رس چوستی ہیں اور پھولوں کی پتیوں کو کھا جاتی ہیں
پودوں کے پتوں پر انڈے دیتی ہیں اور وہی پتے تتلیوں کے انڈوں سے نکلنے والے لاروے کی خوراک بنتے ہیں
تتلیوں پر یوں تو بہت سے شعر کہے گئے یہاں تتلیوں کی زندگی کے اس رُخ اک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
نرم نرم پھولوں سے نچوڑ لیتی ہیں رس سارا
پتھر دل ہوتے ہیں ان تتلیوں کے سینوں میں
خوشبو کا پھول اور پھول کا رنگوں سے گہرا تعلق ہے
اور پھول، خوشبو اور تتلی میں ایک چیز متماثل ہے کہ انسانی فطرت و جبلت کو یہ تینوں چیزیں بہت بھاتی ہیں


خوشبو، تتلی اور رنگوں میں الجھے
اک حساس دل سے مأخوذ

ساحر کے قلم سے

Wednesday, June 3, 2020

عادتیں یا اثرات

 وہ بڑے کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہنے لگی ....
کیا آپ جانتے ہیں؟؟؟
لوگ شراب, چرس, نسوار, سگریٹ اور اس طرح کی دوسری منشیات کے زیادہ عادی نہیں ہوتے 
زیادہ عادی وہ پتہ ہے کس بات کے ہوتے ہیں؟؟؟
اس نے نظریں اُٹھا کر میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا 
جی جی آپ ہی کہئیے!!!!
میں نے ان نگاہوں کی تپش سے گھبرا کر بولا
لوگ زیادہ نشے سے کچھ زیادہ حد تک حقیقت سے فرار ہونے کے عادی ہوتے ہیں......
اس نے اپنی ہی بات کا جواب دیا اور استغراق کے سے عالم میں دُور افق پر نظریں جمائے بت بنی رہی 
میں نے اس کے معصوم چہرے پر اسکی زلفوں کو اٹھکیلیاں کرتے دیکھا
مجھے اس کی سوچ کو سطحی ہی رہنے دینا چاہئیے تھا 
چند اک دنوں کی رفاقت نے ہی اسے جانے موجودہ جہاں سے اُٹھا کس فکر انگیز جہاں میں لا پھینکا تھا 
میں نے اس پر ظلم کیا تھا, مجھے اسے وہ کتب پڑھنے ہی نہیں دینی چاہئیے تھیں 
اسے ان تجربات کا حصہ نہیں بننے دینا تھا جو اس کی معصومیت کو خوف اور عدم تحفظ کے احساس سے گہنا دے
لیکن شاید یہ میری بے وقوفی تھی کہ 
میں چاہتا تھا کہ وہ اک مکمل مضبوط, خوددار و خود مختار اور ذمہ دار لڑکی بنے 
جو کسی سے نہ ڈرے, کسی کے رعب و دبدبے میں نہ آئے 
اپنے حقوق و فرائض اور اپنے مقام و منصب سے واقف ہو 
میں اسے اپنی دور اندیشی مانتا ہوں 
لیکن ...........
آپ نے غور کیا ؟؟؟؟؟؟ انسان کس قدر عقل کا اندھا ہے نا ........
اس کی آواز نے پھر میرے تخیل کے دھارے کو تحلیل کر دیا اور میں پھر سے اس کی آواز پر متوجہ ہوا ....
آپ اس موضوع پر کیا کہیں گے .....؟؟؟
اس نے اس سوال کا بار میرے کندھوں پر پھینکا 
میرے ذہن میں پلوٹو کا فلسفہ "غار سے منسوب کہانی" گونجنے لگا 
ہاں آپ نے بالکل صحیح کہا
میرا ذہن "اس" کے تخیل کے الجھے تانے بانے بُننے لگا
 لیکن کیا آپ کو معلوم ہے؟؟؟
 جب ہم حقیقتوں کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ میں ان کو برداشت کرنے کی لاحیت ہی نہیں ہوتی 
اور تو اور ہمیں کبھی برداشت, تحمل اور بردباری کا سبق دیا ہی نہیں جاتا 
کیونکہ اس سبق کے لئے استاد میں یہ صلاحیت ہونا لازم ہے اور یہاں اساتذہ ہیں کہ الامان و الحفیظ 
ہمیں حقائق کو سمجھنے قبول کرنے اور قسمت و تقدیر پر ایمان لانا سکھایا ہی نہیں جاتا 
ہمارے دل و دماغ تو کہیں دور کی کوڑی ہے ہمارا جسم تربیت جیسے اہم مرحلے سے محروم رہ جاتا ہے 
اور پتہ ہے زیادہ اذیت ناک بات کیا ہوتی ہے ؟؟؟
میں نے اس کی جانب متوجہ ہو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا 
اس کی آنکھوں میں استعجاب و حیرت کے ساتھ الجھن کی پرچھائیاں گہری ہوتی چلی گئیں 
سب سے اذیت ناک اور کرب کے لمحات وہ ہوتے ہیں کہ جب ......
میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا
ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ عادت نہیں یہ تو اثرات تھے جو ہمیں بچپن سے متأثر کر رہے تھے
 ہمیں تو جذبات و احساسات سے عاری انسانیت کے وصف سے دور کر کے فقط سانسیں لیتی مادیت زدہ لاشیں بنا دیا گیا ہے
میں نے اپنی بات مکمل کی اور اس بے جان وجود کی زندگی کی چمک سے محرم بے نور آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں بند کر کے اُٹھ کر زندگی کی سانسوں کی راہ پر مقرر وقت تک کے سفر کے لئے قدم بڑھانے لگا 






اک مقتول کی آنکھوں میں جمے مانندِ خون سوالات کی بحث

ساحر کے قلم سے 






سفرِآگہی©

Friday, February 7, 2020

محبت مرد کا خاصہ

جب کبھی محبت کے بچھڑنے اور ہجر و فراق کی بات آتی ہے 
تو 
ذہن میں بیک گراؤنڈ لڑکیوں کے رونے دھونے, سسکیوں اور آہوں کا کیوں آتا ہے ؟؟؟
کیوں ڈراموں فلموں ویڈیوز میں سب یہی ہوتا ہے ؟؟؟
آؤ
کبھی میری لائبریری میں آؤ تمہیں دکھاؤں..........
 مردوں کو محبت کی محرومی, دھتکار اور دھوکے تنہائی کے جس اندھے کنویں میں دھکیل دیتے ہیں بتاؤں...
سناؤں تمہیں وہ سسکیاں,  آہیں, چنگھاڑتے جذبات اور سرخ آنکھوں کو تکیوں میں دبائے اپنی سانسوں کو دباتے اپنی آواز کا گلا گھونٹتے وہ تمام گلے, شکوے, فریادیں, شکایتیں, منتیں, دعائیں وہ سب سناؤں جو اک مرد فقط تنہائی تک محدود رکھتا ہے 
کبھی کسی کے سامنے نمائش نہیں کرتا 
خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہتا, کیونکہ مرد محبت کو اپنا سایہ, محبت کو اپنا جہان, محبت کو اپنا آپ اور اپنا مقام مانتا ہے
سب سے بڑھ کر محبت کو عزت مانتا ہے
اور اپنی نظروں میں اپنا آپ, اپنی زندگی, عزتِ نفس,  اپنی نظروں میں اپنا وجود ریزہ ریزہ ہو کر بکھرتا دیکھ لیتا ہے, سب کھو دیتا ہے
کیونکہ مرد محبت کو اپنی زندگی کا ہر زاویہ بخش دیتا ہے
اور تُم کہتے ہو 
اور محبت صرف لڑکیوں کا قتل کرتی ہے 
محبت میں لڑکیوں سے ہی دھوکا ہوتا ہے
واہ 
👏

ریزہ ریزہ بکھرے اک محبوب کی مرقد سے
قیامت خیز محبت کی اک نئی کتھا سے اقتباس

ساحر کے قلم سے 













سفرِآگہی©

Tuesday, February 4, 2020

کچھ بھی تو نہیں ہے

میں کس سے جا کے کہوں
حالِ دیدۂِ نم
میرے غم سے تو آگاہ
میری ماں بھی نہیں ہے
رشتے, تعلق, دوریاں, نزدیکیاں
 سب سراب ہیں
رشتے میں یہاں روح سے
میری جاں بھی نہیں ہے
کیوں زباں کو دوں زحمت
کیوں آواز سے چِلاؤں
تم سے کوئی خانۂِ دل
پنہاں تو نہیں ہے



وفاؤں کے وعدوں سے
ارادۂِ جفا کی ادا سے مأخوذ



ساحر کے قلم سے








سفرِآگہی©

پیکرِ وفا

یہی افسوس ہے مجھ کو
تیرے گھر میں
کوئی بیھٹک, کوئی اوطاق
نہیں ہے
میں ہمیشہ تیرے در پر
تیرے قدموں میں رہا ہوں


بابا جان کے قدموں میں
طلوعِ سحر سے مأخوذ

ساحر کے قلم سے





سفرِآگہی©

Thursday, January 16, 2020

تتلیوں کے سنگ اِک خواب

اک چوراہا
 ہاں بیکھے وال موڑ سے مسلم ٹاؤن موڑ تک کی پیدل واک
ہاں شاید............. بلکل......
 بلکہ یقیناً جنوری کے آخری ایام تھے
ارے یاد آیا..... وہ 28 تاریخ تھی, ہم اچانک سے پھر ساتھ میں تھے, حالاں کہ 28 کو میری ایک بہت ضروری میٹنگ تھی اور اس نے مجھے 26 کو فون پر کہا تھا کہ 
"ببلُو جی دل اداس ہے بادل ہیں میں چاہتی ہوں بارش میں آپ کو دیکھوں"
میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ پہلی فلائٹ سے شہرِ لا ہور میں آ دھمکا تھا اور سحر سویرے اس کے گھر کے باہر کھڑا تھا وہ حیران تھی کہ میں سب چھوڑ کر اس کے سامنے تھا
اور تو اور قدرت بھی اس کی آرزوؤں پر مہربان تھی کہ میری فلائٹ کے لاہور ائیرپورٹ پر اُترتے ہی آسمان سے ابرِ رحمت کھُل کر برسنے لگا تھا اور میں اپنے مہنگے موبائل فون, قیمتی لیپ ٹاپ اور سردی کی پرواہ کئیے بغیر بارش میں بھیگے جا رہا تھا اور فون پر ہی جو آخری بات کہی اس نے کہ "آپ بھیگ رہے ہیں" ....... اور پھر وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے جلدی جلدی تیار ہو کر میرے پاس آ گئی
اور پھر BoneFire cafe سے ایک کافی پی کر ہم نکل پڑے نرم قدموں سے وحدت روڈ پر دھیرے دھیرے چلنے لگے دائیں جانب سلمی اسپتال کی بھیگتی بلڈنگ کے سامنے سے بینک سٹاپ تک ٹہلتے گئے تھے یکایک بارش کی بوندیں سخت ہونے لگی تھیں اور پھر دھیرے دھیرے قدم تیز کرتے نقشہ سٹاپ تک ہم مکمل بھیگ چکے تھے, گُڈ لک بیکری سے میں نے اس کے لئے چاکلیٹس لیں تو دھیرے سے مسکرا کر اس نے کہا کچھ نہیں بس چہرہ دوسری جانب کر لیا اور پھر ہم نا چاہتے ہوئے بھی قدم سست کرتے ذرا ٹھہرتے بِنا کسی بات پر چونک کر متحیر ہو کر رُک اک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے مسلم ٹاؤن فلائی اوور تک پہنچے پھر بس مسلم ٹاؤن موڑ سے اُسے واپس جانا تھا, واپس اپنی دنیا میں اور میں................. 
میں اک پہر وہیں ساکت کھڑا اسے خود سے دُور بہت دُور جاتا دیکھتا رہا, بارش کے ننھے قطروں سے عینک دھندلا گئی تو عینک اتار کر میں اُسکے دور ہوتے ہیولے کو دیکھتا رہا آنکھیں دھندلانے لگیں تو آنکھیں رگڑ رگڑ کر اُسے دیکھنے کی سعی کرنے لگا
اور پھر خود سے عاجز آ کر انجانے میں ساری دنیا میں تمہاری دنیا کی تلاش کے لئے نکل پڑا ••••••• اب تک ایک جملہ گونجتا ہے کانوں میں "آپ بھیگ رہے ہیں"
ہاں......... ہاں میں بھیگ رہا ہوں مسلسل بھیگ رہا ہوں کیوں کہ جو نمی اس بارش تلے میرے آنکھیں بھر رہی تھی وہ تم نے اس دن بھی نہیں دیکھی تھی
لیکن خیر اب تو زمانہ بیت گیا, اب بھی بار بار مڑ کر دیکھتا ہوں لیکن تمہاری دنیا کی تلاش مجھے رکنے نہیں دیتی.........................................

احوال اِک بے موسمی ساون میں سرپرائز ملاقات کے
ساحر کے قلم سے







سفرِآگہی©

Wednesday, January 15, 2020

کوئی کیونکر بھولے

تمہیں لگتا ہے میں
بھول جاؤں گا تمہیں
خود اپنی ہی تباہی
کوئی کیونکر بھولے
چاندنی رات میں بھی
پیارے خوش گمانی کیسی
بھلا اپنی قسمت کی
سیاہی کوئی کیونکر بھولے
تیرے مُڑنے پر جو 
آنکھ سے نکلا پہلا آنسو
جنگ میں جو پہلے گِرا
وہ سپاہی کوئی کیونکر بھولے
شک میری وفاؤں پہ تھا 
یہ تو کوئی بات نہیں 
لیکن کردار پہ بہتان طرازی پر 
دی گئی جھوٹی گواہی
 کوئی کیونکر بھولے



گمان کی وحشتوں سے 
اِک دل سے دل کی بات
ساحر کے قلم سے



سفرِآگہی©

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...