Tuesday, February 4, 2020

کچھ بھی تو نہیں ہے

میں کس سے جا کے کہوں
حالِ دیدۂِ نم
میرے غم سے تو آگاہ
میری ماں بھی نہیں ہے
رشتے, تعلق, دوریاں, نزدیکیاں
 سب سراب ہیں
رشتے میں یہاں روح سے
میری جاں بھی نہیں ہے
کیوں زباں کو دوں زحمت
کیوں آواز سے چِلاؤں
تم سے کوئی خانۂِ دل
پنہاں تو نہیں ہے



وفاؤں کے وعدوں سے
ارادۂِ جفا کی ادا سے مأخوذ



ساحر کے قلم سے








سفرِآگہی©

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...