Monday, April 30, 2018

انسان زمیں پر


کچے گھر۔۔۔۔۔

انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے جب مانوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ حتی الوسع یہی کوشش کرتا ہے کہ اس ماحول میں ڈھل جائے اور جہاں اس کی فطرت آڑے آجائے تو ماحول کو اپنے مطابق ڈھال لے
انسان کا ازل سے یہی وطیرہ رہا ہے 
انسان بڑی دلجمعی و محنت سے اپنا ماحول بناتا ہے، اپنے ارد گرد کے تمام وہ نظارے جو اس کے دل کو لبھاتے ہیں انہیں قائم و دائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے
انسان عقلمند ہو اور سلیقہ شعار بھی تو اس میں نفاست کی خوبی نمایاں ہو جایا کرتی ہے 
نفاست کی خوبی کے حامل افراد ہمیشہ بڑی احتیاط طریقے سلیقے سے ہر کام کیا کرتے ہیں 
انہیں کسی بھی کام میں خاص ہو یا عام ہر طرح سے سلیقہ مندی و نفاست کا امر لازم و ملزوم لگتا ہے 
انسان قدرت کے نزدیک، فطرت سے جڑا رہنا چاہتا ہے اسی لئے جب ارضیاتی، ماحولیاتی اور طبعی تبدیلیوں کےباعث اس کے اردگرد کا ماحول بگڑنے لگے تو وہ اسے فطرت و قدرت نے نزدیک واپس لے جانے کی انتھک و جاں توڑ کوششیں کیا کرتا ہے 
چونکہ حضرتِ انسان زمینِ دنیا پر خلیفہءِ خدا ہیں 





سفرِآگہی۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, April 26, 2018

جھوٹے مرد

جھوٹ بولتے ہو تم۔۔۔۔۔!!!!!
مجھ سے ہر بات چھپاتے ہو۔۔۔، خود باہر عیاشیاں کرتے ہو اور میں یہاں اس قیدخانے میں تمہارے ان بچوں کے ساتھ پابند رہتی ہوں 
تم انتہائی گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔!!!!!!!!
جھگڑے کی آوازیں گلی میں دور تک جا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
اور حیرت کی بات تھی کہ اس جھگڑے میں آواز ایک ہی تھی 
میمونہ خاتون ہمیشہ عامرمیاں کے ساتھ اسی انداز سے پیش آیا کرتی تھیں
عامر میاں ایک پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور بہت مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور خود ذاتی لحاظ سے بھی بہت نیک سیرت انسان تھے 
شہر سے دور کہیں ملازمت کیا کرتے ہیں اور اوسطاً دو تین ماہ بعد گھر آتے ہیں
دونوں میاں بیگم میں یوں تو بہت سلوک ہے مگر اکثر و بیشتر میمونہ خاتون عامر میاں سے بدظن رہا کرتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کہتی ہوں کچھ تو بتاؤ کیا کر رہے تھے اس قدر رات گئے دوستوں کے ساتھ۔۔۔؟؟؟؟؟
میمونہ خاتون خاصی برہم تھیں ،کچھ اس قدر کہ آج بچوں کا لحاظ بھی اٹھ گیا تھا 
اب خاموش کیوں ہیں بولتے کیوں نہیں؟؟؟؟؟،جواب دیجئے مجھے۔۔۔!!!!!
میمونہ خاتون ان کی خاموشی سے مزید غصہ ہوئے جا رہی تھیں 
بلآخر عامر میاں بولے ۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ احباب کے ساتھ بڑے بازار تک گیا تھا ۔۔۔۔۔
کیا آگ لگی تھی وہاں جو آپ بجھانے چلے تھے ؟؟؟؟
بازار کیا رکھا تھا ؟؟؟؟؟
کبھی ہمارے بارے میں سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
ارے ہم تو اک زندگی اسی قیدخانے میں گزار چکے، اک ہمیں ہی رہائی نصیب نہ ہوئی
خود تو دوست احباب کے ساتھ عیاشیاں کر آتے ہیں 
اور اوپر سے جھوٹ پر جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیجئے جو کرنا ہے آپ کو، ہم تو نہ روک سکے کبھی
ہوئے جو آپ بھی مرد ، جھوٹے، دغا باز۔۔۔۔۔
اب میمونہ خاتون بولے گئیں اور ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ دھلانے کو سفلچی لے آئیں 
لائیے جناب ہاتھ آگے کیجئے خادمہ آپ کی خدمت کو حاضر ہے۔۔۔۔۔!!!!
میمونہ خاتون نے سفلچی آگے کرتے ہوئے طنز سے کہا
ان کی خدمتیں کرو اور صلہ ندارد۔۔۔۔۔۔
ہمارے لئے اس دنیا میں کیا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میمونہ خاتون بڑبڑائے گئیں 
جب کہ عامر میاں ازلی فطرت کے ہاتھوں مجبور خاموشی سے سر نیواڑے کھانا کھانے لگے
جب کہ پسِ منظر میں میمونہ خاتون کا بڑبڑانا جاری تھا 
کھانے کے برتن سمیٹتے ہوئے میمونہ خاتون نے دیکھا خوان کے رومال کے اوپر اک ریشمی گتھلی پڑی تھی 
کھول کر دیکھی تو کچھ روپے تھے، کچھ دل کو تسلی ہوئی مگر پھر سے غصہ چھا گیا 
ہاں اب دے لیجئے رشوتیں ،ایک تو الله مارے نجانے اس دنیا میں یہ روپے کی قدر زیادہ کیوں ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!
ہر شخص یوں سمجھتا ہے کہ بس روپے سے ہر معاملہ سیدھا ہو جائے گا 
عامر میاں نے پھر سے غصہ زور مارتے دیکھا تو ذرا کسمسائے۔۔۔۔۔
بیگم جان ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
انہوں نے بڑے پیار سے پکارا ۔۔۔۔
جی بول دیجئے، میرے کان کام کرتے ہیں ابھی اس قدر دور نہیں کہ سن نہ سکوں۔۔۔۔
میمونہ خاتون کو ان کا یوں بلانا اچھا نہ لگا 
یہاں آکر بیٹھئے ،کچھ کہنا ہے آپ سے ۔۔۔۔۔
عامر میاں نے نرمی سے کہا 
میمونہ خاتون آکر پائنتی بیٹھ گئیں 
جی حکم صادر فرمائیے۔۔۔۔۔۔فرمائیے۔۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، کیا نام لیا تھا اس دن ۔۔۔۔۔،
امروز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔، آپ کا بھتیجا، اس کی شادی میں شرکت کیلئے کپڑے بنا لیجئے اور تیاری کیجئے
پرسوں ہم جاتے ہوئے آپ کو ان کے یہاں چھوڑ کر ملازمت کیلئے جائیں گے 
عامر میاں نے ذرا جھجھکتے ہوئے مدعا بیان کیا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے مت جاؤ۔۔۔
اب کیسی دریا دلی دکھائی جا رہی۔۔۔۔، خیریت ہے نا ۔۔!!!
میمونہ بیگم اچھنبے سے کہنے لگیں 
جی ، وہ ۔۔۔۔۔۔۔، کچھ خاص بات نہیں
اپنے فہیم میاں کا لڑکا ہے، اپنے بچوں جیسی بات ہے 
بس آپ تیاری کیجئے۔۔۔۔۔۔
عامر میاں بس کسی طرح بات کو ٹالنا چاہ رہے تھے
اچھا چلئیے جیسا آپ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا آپ واپس کب آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔
ننھا اقبال افسردگی سے عامر میاں سے پوچھ رہا تھا 
عامر جب کبھی ملازمت پر ہوتے اور گھر فون کیا کرتے ننھا ایسے ہی اداس ہو جایا کرتا تھا اور بس اسی ایک سوال کی رٹ لگایا کرتا تھا 
جبکہ گڑیا بیٹی چہک چہک کر فرمائشیں کیا کرتی تھی 
بیٹھا ہم اگلے ہفتے گھر آ رہے ہیں 
عامر میاں نے بیٹے کو بتایا 
اچھا بیٹا اپنی اماں جان سے بات کروانا ذرا 
عامر میاں نے بیٹے سے کہا تو میمونہ خاتون فون پر آ موجود ہوئیں
تسلیم و آداب کے بعد پوچھنے لگیں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
کچھ خاص نہیں ابھی ذرا بس لیٹنے لگا تھا 
عامر میاں نے کمال اطمینان سے اپنے اوزاروں کے بستے کی جانب اور میلے کپڑوں پر ہاتھ پھراتے ہوئے کہا
کھانا وغیرہ کھا لیا آپ نے ؟؟؟؟؟
میمونہ خاتون نے پوچھا 
جی ابھی کھایا ہے 
عامر میاں نے اپنے بند ٹفن کی جانب دیکھا جس میں صبح کی دال بند پڑی تھی
کیا کھایا ۔۔۔۔؟؟؟؟
سوال پر سوال تو جیسے میمونہ خاتون کا خاصہ تھا 
گوشت کا سالن تھا اور ساتھ روغنی نان 
عامر میاں نے بڑی تسلی سے جھوٹ بولا 
اچھا وقت بہت ہو گیا آپ سو جائیے 
صبح آپ نے کام بھی کرنا ہے 
میمونہ خاتون نے ذرا خیال سے کہا 
ہاں مجھے بھی غنودگی چھا رہی تھی 
عامر میاں نے بہانا بنایا 
اوہو تو آپ سو جاتے پھر بات ہو جاتی آپ کے آرام میں خلل آیا 
سو جائیے اس طرح صبح نیند پوری نہ ہونے سے سر گرانی رہے گی
اپنی صحت کا خیال رکھا کیجئے 
السلام علیکم 
میمونہ خاتون نے نصیحتوں کے ساتھ فون بند کر دیا 
عامر میاں نے اپنی میلی وردی اور اردگرد بکھرے اوزاروں کو دیکھا اور پھر سے کام میں جت گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



"زندگی کی تلخ سچائیوں سے اِک منظر"
ساحر  کے قلم سے




©سفرِآگہی


Tuesday, April 24, 2018

فطرتِ خیر و شر

نیکی یا بدی، گناہ یا ثواب، اچھائی یا برائی اور نقائص و فوائد الغرض دنیا میں تمام تر امورِ ہائے زندگی کے ہر پہلو میں کہیں نہ کہیں سود و زیاں کا پہلو موجود ہے 
مگر 
اس سود و زیاں کے معاملے میں بھی انفرادیت و اجتماعیت کا پہلو بھی غور طلب ہے 
انسان ہمیشہ انفرادی فائدے اور نقصان کو اولین ترجیح پر پرکھتا ہے مگر درحقیقت امتحان یہی ہے کہ انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کو فوقیت دی جائے اور معاشرت بنا کر زندگی گزاری جائے 
انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو بنیادی طور پر تمام تر مخلوقات پر فوقیت بخشتے ہوئے اسے اختیار دیا گیا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ چیزوں کو پرکھنے کی سمجھ عطا کی 
اور پھر تمام تر نعمتوں اور عطاؤں کے خیر و شر، امن و فساد ،بھلائی برائی، نیکی بدی الغرض ہر چیز میں الله رب العزت نے ہمیں احکامات بھی بتا دئیے، اپنی رضا سے آگاہ بھی کیا اور اپنی رضا میں راضی ہو جانے پر انعام و اکرام کی تفصیل بھی بیاں کی اس پر سوا یہ کہ اس کے دوسرے ناراضی کا سبب پہلو بھی دکھائے اور ان کی رنگینیوں کے ہمراہ سزا و عذاب کی تشریح سے بھی آگاہ کر دیا 
پھر ان تمام پراختیار دیا، نفس دیا کہ اب اس پر قدرت حاصل کرو اس کو قابو میں کرو تآنکہ میری رضا پا سکو 
اب نفس کو قابو کرنے کیلئے ہمیں نیکی بدی، خیر و شر ،برائی بھلائی، گناہ و ثواب میں سے ہمیشہ نیکی، خیر، بھلائی اور ثواب کی طرف جانا ہو گا اور وہ راستہ اختیار کرنا ہو گا جس سے ہمیں سزا کی بجائے جزا مل سکے 
دانش وروں کے مطابق ہم اپنے نفس کو جب مار نہیں پاتے اور اس پر قابو پانے کے بجائے جب وہ ہم پر قابو پا لیتا ہے تو ہم اپنی کوتاہی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہمیشہ شیطان کو نشانہ بنایا کرتے ہیں 
جب کہ ہم اپنے شیطان ہمیشہ خود بناتے ہیں 
اور ان شیاطین کو مار ڈالنے کی بجائے ہم بدی کی راہوں کی چکا چوند سے اس قدر متاثر ہو جایا کرتے ہیں کہ ہم ان شیاطین کے مغلوب ہو جایا کرتے ہیں کہ پھر ان پر ہمیں کوئی اختیار نہیں رہتا 
ہر انسان میں نیکی و بدی پہچاننے اور اسے اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے 
اس میں فطرتِ خیر و بھلائی اور فطرتِ شر و فساد اپنا مقام رکھتی ہیں
مگر ان پر اختیاراختیار، ان کو وجود بخشنے کا، ان میں ڈھل جانے کی رضا ہماری اپنی ہی ہوا کرتی ہے 
الله ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے
اور 
خیر و بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے 

آمین

خیر اندیش 

ساحر 




سفرِآگہی©

Friday, April 20, 2018

تعلق کچھ نہیں ہوتا

وفاؤں کا اداؤں سے، تعلق کچھ نہیں ہوتا 
جفاؤں کا وفاؤں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
اگر باقی رہیں دل میں، بسری یادوں کے چند اک پل
صداؤں کا گداؤں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
اگر کچھ رہ گیا باقی، بکھرتے اس تعلق میں
فقط جذبات سے زیادہ متعلق کچھ نہیں ہوتا 
جو تم کہہ دو ہزاروں بار، تمہیں نفرت ہے ہر ممکن
رشتوں سے نفرتوں کا تعلق کچھ نہیں ہوتا 
چلو اک بار جو کہہ دو، یہ میرے روبرو ہو کر 
مسافر کا ٹھکانے سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
چلو اب کوچ کر جاؤ، یہاں سے چل پڑو ساحر
فصیلوں کا گھروندوں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 


اِک آوارہ شام سے منسوب 
بے ربط، بے غرض، بے معنیٰ الفاظ
ساحر  کے قلم سے




©سفرِآگہی


رشتے

رشتے۔۔۔۔!!!!!

زندگی کی اکائیوں جیسے، خاندان کے افراد سے، ہم سفر ہم رکاب کی طرح، دھوپ اور چھاؤں سے ساتھ ساتھ، یوم و شب کی چادر لئے، سرد و گرم کا امتزاج انسانوں کی معاشرت کے بنیادی جزو رشتے۔
کسی ایک انسان کا دوسرے سے کسی قسم کا تعلق و سلسلہءِ معاملات ایک رشتہ کہلاتا ہے 
ہاں البتہ رشتے اچھے معنوں میں زندگی کی خوشیاں ہوا کرتے ہیں اور اگر بدقسمتی سے رشتے چند لمحوں کے، اچھے وقت کے، انفرادی و ذاتی یک طرفہ مفاد لئے ہوں تو کہلاتے رشتے ہی ہیں مگر بس ان کی نوعیت بدل جاتی ہے ان سے جڑے جذبات و احساسات بدل جاتے ہیں ان سے جڑی تمام تر خواہشات یکسر اپنا وجود کھو دیتی ہیں 
اور اگر رشتے خونی ہوں تو مثالی ہوا کرتے ہیں 
مگر جس طرح ہر چیز کی کچھ حدود و قیود اور چند ایک شرائط و ضوابط ہوا کرتی ہیں
بلکل اسی طرح خونی رشتے اپنے اعتبار سے ایک حساس و جذبات سے بھرپور حدبندی پر قائم رہتے ہیں اور اس کی شرائط و ضوابط میں سوائے دل و جان سے وفادار و مخلص رہنے کے کچھ نہیں 
اور اگر یہی خونی رشتے اپنوں کا ہی خون چوسنے لگیں، بہانے لگیں اور ان سے ہر تعلق و احساس سے بے نیاز انفرادیت و یکسر ذاتی مفاد کو پرکھنے لگیں تو وہ رشتے فقط نفسانی خواہشات و وحشیانہ سلوک اور حیوانی جذبات جیسی کیفیات کے زیرِاثر انسانی ہاتھوں کو داغدار کرتے ہوئے انسانیت و انسان پر کلنک کا ٹیکا لگا دیتے ہیں 
اپنوں سے دغا تو انسان کو موت سے دوچار کر دیا کرتا ہے اور کچھ اس طرح کہ وہ موت فقط اپنی ہی ذات کی ہوا کرتی ہے اور یہ دنیا انہیں زندوں میں شمار کرتے ہوئے مزید سامانِ اذیت و نشانِ عبرت بنا دیا کرتی ہے 
رشتے ہر طرح سے رشتے ہی رہا کرتے ہیں مگر نوعیت و افکار بدل جایا کرتے ہیں 

"تعلق تو تعلق ہے، کہیں کا ہو بھلے سے ہی

مگر رکھنا عداوت کا، تعلق زہر ہوتا ہے

جو رشتوں میں دراڑیں ہوں، محبت بھی رہے قائم

کہ ناطہ توڑ دینا بھی، خدا کا قہر ہوتا ہے"

ساحؔر 

اِک رشتے سے متعلق آنسو لئے بے نام شخص سے گفتگو

ساحر کے قلم سے





©سفرِآگہی

Tuesday, April 17, 2018

لاحاصل امیدیں

وقت۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی فطرت ہے وہ اپنے کچھ اصول و ضوابط اور زندگی کی چند ایک ترجیحات بنا لیتا ہے، اور پھر ان پر اپنی ذات کی ڈگر استوار کر لیتا ہے
فطرتِ انسانی کے اس نظام کے تحت ہر انسان اپنے اصول و ترجیحات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا
چہ جائیکہ اس کا ذہن بدلا جائے، زاویہءِ نظر بدل دیا جائے یا پھر اسے اس حد درجہ مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنی ذات کچل کر اپنی زندگی سے سمجھوتہ کر لے
زندگی ہر انسان کو مواقع فراہم کرتی ہے، ہر وہ موقع جو اسے اس کے مقدر کا سکندر بنا دے، بخت کے تخت کا وارث کر دے یا اسے اس کی دنیا کا ستارہ بنا دے
اب یہ زندگی جینے والے پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کے بخشے گئے ان مواقع سے کس قدر استفادہ حاصل کرتا ہے کتنی محنت کرتا ہے
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک نویدِ روشن کے ملنے کے بعد بھی ہم یہ سوچا کرتے ہیں "ابھی وقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"، مگر جب تک سمجھ میں کچھ آ سکے بہت تاخیر ہو چکی ہوتی ہے اور اس میسر شدہ موقع سے فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا
"ابھی وقت ہے"
یہ ایک جملہ، سوچ کا پہلا حصہ ہمیں ناکامی سے روشناس کرا دیتا ہے کیونکہ وقت کسی کیلئے رک نہیں جایا کرتا
زندگی کے پہر لگ جایا کرتے ہیں وقت کے ایک موقع دینے کے انتظار میں،  اور جب موقع حاصل ہوتا ہے تو ہم سست پڑ جایا کرتے ہیں جبکہ وہی تو جاں توڑ محنت کا طلب گار ہوتا ہے اور بدلے میں آپ کو زندگی کی ایک نئی سحرِ کامیاب سے روبرو کرواتا ہے
اور اگر کہیں ہم اس لمحے کو رد کر دیں فقط اتنا سوچ کر کہ "ابھی وقت ہے"، تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر زندگی کبھی کسی کو دوسرا موقع نہیں بخشا کرتی
کیونکہ پھر وقت ایسے لوگوں کو دھتکار دیا کرتا ہے
وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لمحہءِ امید سے روشن خیالوں کی ایک نشست

ساحر کے قلم سے





©سفرِآگہی 

Saturday, April 14, 2018

زندگی، اِک سوال۔۔۔۔۔!!!!

زندگی۔۔۔۔۔
پیدا ہونے سے موت تک کا سفر ۔۔۔۔۔
دنیا میں آکر اک مجسمِ خاکی کی صورت سانس لیتے رہنا اور اس سجے ہوئے بازار کا حصہ بن جانا زندگی تو نہیں کہلا سکتا۔
زندگی فقط سانس لینے کا نام نہیں ہے، ایک ذی روح ہونے کے ناطے انسان کے جسم کا باقاعدہ تعلق صرف سانس تک کا نہیں ہے
روح اس جسدِ خاکی میں ایک بنیادی جزو کے طور پر اپنا وجود رکھتی ہے۔
سانس لیتے رہنا زندگی کی علامت ہے، سب کہتے ہیں شاید سچ کہتے ہیں
مگر فقط سانس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا اس دنیا میں آ کر صرف سانس لینا زندگی ہے؟؟؟؟؟؟
قطعی نہیں
اس دنیا میں پیدا ہو کر، ایک انسان بنایا جانا، کائنات میں موجود تمام تر مخلوقات سے افضل قرار پانا، اشرف المخلوقات کا لقب پانا، اور پھر اس سے بھی سوا یہ کہ قوتِ گویائی اور عقل و دانش کا حامل ہونا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنا، اگر تو صرف سانس لینا زندگی ہے تو یہ سب اوصافِ انسانی کیونکر تخلیق کے مراحل سے گزرے
حضرتِ انسان کو خلیفۃ الارض کیوں مقرر کیا گیا؟؟؟؟
کیا زندگی ایک بے نام رشتہ ہے جسے فقط علامتِ تنفس کی ضرورت ہے؟؟؟
زندگی کا تو لفظی تعارف بھی نجانے کس قدر بامقصد و بامعنی اور پرلطف ہوگا
اس دنیا کے رنگوں، چرندوں پرندوں کی چہچہاہٹ اور جہانِ دنیا پر موجود ہزار ہا انواع و اقسام کی دل بہلانے کی نعمتوں کا معنی و تعارف اور ان تمام کا زندگی سے تعلق بے مقصد و بے معنی ہر گز نہیں ہوسکتا
اگر سانس لینا زندگی ہوتا تو ان تمام چیزوں کے وجود کی کوئی اہمیت نہ ہوتی، کسی نعمت کی طلب نہ ہوتی، کسی بھی قسم کی خواہش اور کسی تعلق سے چاہت کا کوئی وجود نہ ہوتا
اور اگر ان تمام تر بیانات کے مطابق ان تمام چیزوں کی موجودگی کا زندگی سے کوئی معمولی تعلق بھی ہے تو زندگی ایک انمول، بامقصد، بامعنی اور باوجہ تعارف رکھتی ہے اور اسے گزارنے کے کچھ اسلوب و اطوار بھی ہوں گے
زندگی کے معاملات و تعلقات کا کوئی نہ کوئی منبع بھی ہو گا، احساسات اور جذبات و خیالات کا کوئی نہ کوئی مبداء ہو گا اور انسان کی سوچ بھی کسی منتہٰی کے تابع ہو گی
زندگی فقط ایک لفظ نہیں بلکہ اظہارِ حیات ہے

مسافرت سے اکتائے اور حالات کے مارے ایک مسافر سے گفتگو
ساحر کے قلم سے




©سفرِآگہی 

Friday, April 13, 2018

محبوب و محبت

سرکارِ دل۔۔۔۔۔۔.!!!!!!!۔
دل کی عجب سی حالت ہوا کرتی ہے جب کسی سے کوئی بھولا بسرا افسانوی یا نیم حقیقی عشق یا داستانِ محبت سننے کو ملے
دل کو عجب بے چینی سی ہوتی ہے جب دوست احباب بنا کسی سابقے و لاحقے کا لحاظ کئیے کسی نام سے آپ کا نام جوڑا جائے
محبت کہہ دینے سے، یا محبت لفظ لکھ لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ فرق پڑتا ہے جب اس لفظ کو پڑھنے، سننے،  لکھنے یا بولنے میں اسے محسوس کر لیا جائے
لازم نہیں محبت کسی طبعی واسطے یا طبعی ظہور کی محتاج ہو
لازم نہیں کہ محبت کو کسی طرح تولا جا سکے، ماپا جا سکے یا اس کی شدت کی پیمائش کی جا سکے
بس محبت محبت ہوتی ہے
محبوب کے رنگ میں رنگ جانا، اس کی ہر بات سے اپنی رضا جوڑ لینا اور بلا غرض و اختیار اس کی خوشی کیلئے کوشاں ہونا
محبوب کے ابروءِ اشک کو سمجھنا، اس کی تمام تر عادات و خصائل سے واقفیت رکھنا، اس کی پسند نہ پسند سے آگاہ رہنا
مگر اس سے طبعی واسطے کی احتیاج نہ رکھنا
محبت اس طرح اپنا وجود رکھتی ہے
محبت کر لینا سنتِ خداوندی ہے، عطا ہے، اور قربِ الہی کا باعث ہے
محبت ہو جانا رحمت ہے، عنایت ہے، فضل ہے، نعمتِ باری تعالیٰ ہے
مگر مندرجہ بالا دو جملوں کو پڑھا جائے ان پر غور کیا جائے
تو
زندگی کا ہر پہلو زیرک نظری سے جانچنا پڑتا ہے
اور محبت کرنا یا محبوب ہو جانا اس قدر معمولی کام ہوتا
شاید کہ پھر اس جہان کے وجود کا کوئی مقصد نہ رہ جاتا
اور پھر اسوہءِ حسنہ کو مثال نہ بنایا جاتا
چونکہ رحمتِ عالم نے محبت کا کا جواب اسوہءِ حسنہ سے دیا
محبت کو سمجھنے کیلئے پہلا ضابطہ
عزم و ہمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و ذہنی بلندی بھی درکار ہوا کرتی ہے



اسباقِ محبت کے اولیں اوراق سے اقتباس
اک محبوب مسافر کے نام
ساحر کے قلم سے



©سفرِآگہی

Wednesday, April 11, 2018

سوچ در سوچ در سوچ

سوچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک فطری عمل ہے ۔۔۔۔!!!!!!۔
حضرتِ انسان پر بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کی عطا تو ہے، مگر رب ذوالجلال نے جو خاصہ انسان کو عطا کیا وہ کسی اور مخلوقِ کائنات کسی کو عطا نہیں کیا
انسان کو سوچنے کی صلاحیت سے نوازا گیا
ایک عدد دماغ سے نوازا گیا جو کسی مین فریم کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیزرفتاری سے مختلف سمتوں میں، مختلف امور کو کو سوچ سکتا ہے ان میں موجود تمام تر کھرے کھوٹے پہلوؤں کو زیرِ غور لے آتا ہے
انسان کا یہی طرہءِ امتیاز ہے کہ انسان کو علم عطا کیا گیا اور سونے پر سہاگہ کہ پھر اس پر غور کرنے، پرکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا گیا اور ان تمام پر سوا یہ کہ پھر نیکی بدی، اچھائی برائی اور گناہ ثواب کی سمجھ بوجھ بھی عطا کی
کسی بھی چیز کو سمجھنے کیلئے اور اسے سمجھ کر فیصلہ لینے کیلئے جس قدر زینے اپنا وجود رکھتے ہیں تمام تر حضرت انسان کو عطا کئیے
اور سب سے بڑی جو نعمت عطا کی گئی وہ تھی "اختیار"۔
اب کسی بھی عمل سے پہلے اسے جاننا، سمجھنا ،سوچنا، اس کے تمام تر پہلوؤں پر غور کرنا اور پھر اسے جزا و سزا کے ترازو میں پرکھ کر پھر اس کے تمام پہلوؤں پر اختیار ہوتے ہوئے وہ پہلو چننا جسے مالکِ کُل خالقِ کائنات نے تمہارے لئے پسند کیا
اسی کو تقاضاءِ بشریت اور بندگی کہا جاتا ہے
مگر
یہاں اس جہانِ فانی میں اکثر لوگ باتوں کو مفاد فی الارض کی حد تک سوچتے اور پرکھتے ہیں
اور پھر بہت جلدبازی میں فیصلہ کرتے ہیں اور اسی جلد بازی میں اپنا اختیار کچھ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق و معانی پسِ پُشت ڈال دیا کرتے ہیں
اور چند ایک ایسے بھی ہیں
جو اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ڈرا کرتے ہیں
اور بس کچھ کرنے سے پہلے سوچے چلے جاتے ہیں سوچے چلے جاتے ہیں اور بس سوچے ہی جاتے ہیں
اور گناہ و ثواب، سود و زیاں کے گھیرے میں پھنسے ڈرتے ڈرتے اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں اور ڈگمگاتے قدموں، کپکپاتے ہاتھوں صحیح کرنے کی آرزو میں اپنے ڈر کے تابع غلط کر بیٹھتے ہیں
ہاں مگر اس جہانِ لاثانی میں خدائے بزرگ و برتر نے کچھ ایسے لوگ بھی بھیجے ہیں
جن میں خداداد صلاحیتیں ہوا کرتی ہیں وہ برموقع و بروقت صحیح لمحے میں صحیح راہ کا استعمال کرتے ہوئے اپنا اختیار کچھ ایسے استعمال کرتے ہیں کہ الله کے قرب کے حقدار ٹھہرتے ہیں
بس
اس کائنات میں امتحان اسی ایک اختیار کا ہے
کب، کون، کہاں، کیسے اور کیوں اپنا اختیار استعمال کرتا ہے
اپنی زندگی کے مختاری معاملات کو کس طرح سرانجام دیتا ہے کہ قربِ الہی کا فیض حاصل کر سکے اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکے


رب ذوالجلال ہم سب کو اختیاری معاملات میں بہتری لانے اور اپنے اختیار کو صحیح فیصلہ اور صحیح رستہ اختیار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
دعاءِ زندگی و صحت کے ہمراہ
۔۔۔۔۔
سوچ, خیال, خواب کے تقابل میں اِک یاد سے مأخوذ
ساحر کے قلم سے




©سفرِآگہی

Tuesday, April 10, 2018

توازنِ زندگی

آسمانِ دنیا پر ہزاروں ستارے اور کرہءِ ارض کے علاوہ سیاروں کے بہت سے چاند بھی ہیں
مگر
جیسے سیارے چاند کے وجود سے بے نیاز اپنے مدار میں گردش کئیے جا رہے ہیں بلکل اسی طرح چاند بھی گرد و پیش سے بے نیاز اپنے مدار میں ایک مرکز کے گرد بس چکر لگائے جارہے ہیں
کتنے ستارے، کتنے سیارے کس قدر حیاتِ افلاک کے مدار ہیں کسی کو ان کے اعداد و شمار سے براہِ راست کوئی واسطہ نہیں
اس زمین کی جہانِ دنیا میں بھی اب یہی قانون رائج ہوتا جا رہا ہے، اس دنیا کا افلاکی دنیا سے یہی ایک فرق ہے کہ حیاتِ کرہءِ ارض پر ہوا، پانی، روشنی کے ساتھ ساتھ کششِ ثقل اور اسی طرح کے ہزار ہا عناصر سے وابستگی اس زمینی دنیا کو افلاکی دنیا سے جدا اور بامقصد بناتی ہے
مگر
افلاکی دنیا کی طرح اب زمینی قانون کا بدلاؤ کچھ اس طرح ہے کہ ہم جذبات و احساسات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں اور تعلقاتِ احباب، رشتوں کی محبت، اور زندگی کی مسکراہٹ میں سرد مہری سے ہم افلاکی دنیا کی طرح ایک خلاء پیدا کر رہے ہیں
جس سے ہم اپنے اردگرد محبت، چاہت اور حقیقی رشتوں اور تعلقات کا احترام بھول کر ہم ایک طرح سے اپنی معاشرتی زندگی کی آکسیجن کو خود اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں
اور افلاکی دنیا کی طرح بے حس ہوتے جا رہے ہیں
جب کہ
کرہءِ ارض کا امتیاز یہی ہے کہ یہاں انسان بستے ہیں
جو کہ جذبات، احساسات اور ایک عدد دل سے نوازے گئے ہیں
الله ہم سب کو زمینِ دنیا کے باسی بنائے
انسان بنائے
اور اپنی بندگی کا شرف عطا فرمائے
آمین
روایات و اطوار کے اسباق میں نصاب کے بدلاؤ سے اک جھلک
ساحر کے قلم سے







سفرِآگہی©

Friday, April 6, 2018

چاہت اور سوچ، دل اور دماغ

سوچا تو سب کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!۔
مگر دو طرح سے۔۔۔۔۔
ایک۔۔۔۔لوگ زندگی کو سہل اور کارآمد بنانے کا سوچتے ہیں۔ فقط بوقتِ ضرورت بلاوجہ اور ہر چیز پر نہیں سوچا کرتے ۔ بس ان چیزوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو ان کے کام کی ہوں یا کسی طرح سے کارآمد نظر آتی ہوں
ان لوگوں کو عام فہم انداز میں جدید سوچ کے حامل افراد کہا جاتا ہے
ایسے افراد کا مزاج بہت نفاست پسند اور پُر تکلف انداز و اطوار لئے ہوتا ہے
ایسے لوگ مفاد پرست ہوا کرتے ہیں زیادہ منافع زیادہ فائدہ
انہیں دنیا ایک کاروبار کی طرح لگتی ہے
ہر چیز کا متبادل ان کے ذہن نے بنا رکھا ہوتا ہے، بہت طبعی یعنی مادیت پسند ہو جایا کرتے ہیں
ان کی زندگی میں خوشیاں اور غم بلکل وقتی ہوا کرتے ہیں
غمگین ہونے پر یہ غمزدہ جبکہ خوش ہونے پر بے قابو ہو جایا کرتے ہیں
زندگی کا ہر لمحہ ہر رشتہ سود و زیاں کی سوچ لئے ہوتا ہے
ایسے لوگ جذبات اور ذہنی دباؤ سے بلکل عاری ہوا کرتے ہیں
ان کی زندگی ایک حصار میں گزرتی ہے جس کا مرکز وہ خود ہوا کرتے ہیں
ایسے لوگ عموماً شہرت یافتہ، نامور اور پرکشش شخصیت کے حامل ہوا کرتے ہیں
آئیے اب دیکھتے ہیں تصویر کا دوسرا رخ


اس کرہءِ ارض پر کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ عوام الناس کے فہم و خیال سے جدا سوچ رکھتے ہیں
یہ لوگ زندگی کو سہل بنانے کی نہیں سوچتے
ہے نا عجیب بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!۔
جی ہاں یہ کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں
یہ زندگی کی آسائشات کو مزید سہل اور جدید بنانے کی بجائے زندگی کو مزید سادہ اور قدرت کا محتاج دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں
یہ سوچتے ہیں اور بس سوچے ہی جاتے ہیں کوئی چیز کسی بھی طرح کی کسی بھی حالت میں ان کی توجہ کا۔مرکز بن سکتی ہے
ان کے نزدیک ہر وہ چیز جو اس دنیا میں وجود رکھتی ہے کائناتِ رب ذوالجلال میں مقام رکھتی ہے بے فائدہ و بے کار اور فضول نہیں ہے
ایسے لوگ ہمیشہ فطرتِ انسانی کو اوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں غیر انسانی رویوں اور اشیاءِ روزمرہ سے پہلو تہی کیا کرتے ہیں تآنکہ زندگی سادہ اور آسان رہے
آسائشات اور جدت ان کی نظر میں وجود نہیں رکھتی
ایسے لوگ حد درجہ جذباتی اور حساس ہوا کرتے ہیں
ان کیلئے جذبات بے مول ہوا کرتے ہیں، ہر کام ہر بات ہر عمل جو ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں عمل رکھتا ہے ان کی ذات سے نتھی ہوتا ہے
یہ ہر لمحہ زندگی  کو محسوس کر کے جذبات کے زیرِ اثر گزار دیتے ہیں
ہمیشہ زندگی کے فیصلے دماغ سے سوچ سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر دل سے لیا کرتے ہیں
یہ جب خوش ہوتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جایا کرتی ہیں
اور جب غم ان کی ذات کا محاصرہ کر لے تو مسکان لبوں پر سجائے کبھی موسمِ دل کی خبر کسی دوسرے تک پہنچنے نہیں دیتے
ان کی ذات اکثر گمنام رہا کرتی ہے اور اکثر معاشرے میں مطعون
ٹھہرائے جاتے ہیں
ایک اقتباس۔۔۔۔۔۔

ساحر کے قلم سے

©سفرِآگہی


خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...