رشتے۔۔۔۔!!!!!
زندگی کی اکائیوں جیسے، خاندان کے افراد سے، ہم سفر ہم رکاب کی طرح، دھوپ اور چھاؤں سے ساتھ ساتھ، یوم و شب کی چادر لئے، سرد و گرم کا امتزاج انسانوں کی معاشرت کے بنیادی جزو رشتے۔
کسی ایک انسان کا دوسرے سے کسی قسم کا تعلق و سلسلہءِ معاملات ایک رشتہ کہلاتا ہے
ہاں البتہ رشتے اچھے معنوں میں زندگی کی خوشیاں ہوا کرتے ہیں اور اگر بدقسمتی سے رشتے چند لمحوں کے، اچھے وقت کے، انفرادی و ذاتی یک طرفہ مفاد لئے ہوں تو کہلاتے رشتے ہی ہیں مگر بس ان کی نوعیت بدل جاتی ہے ان سے جڑے جذبات و احساسات بدل جاتے ہیں ان سے جڑی تمام تر خواہشات یکسر اپنا وجود کھو دیتی ہیں
اور اگر رشتے خونی ہوں تو مثالی ہوا کرتے ہیں
مگر جس طرح ہر چیز کی کچھ حدود و قیود اور چند ایک شرائط و ضوابط ہوا کرتی ہیں
بلکل اسی طرح خونی رشتے اپنے اعتبار سے ایک حساس و جذبات سے بھرپور حدبندی پر قائم رہتے ہیں اور اس کی شرائط و ضوابط میں سوائے دل و جان سے وفادار و مخلص رہنے کے کچھ نہیں
اور اگر یہی خونی رشتے اپنوں کا ہی خون چوسنے لگیں، بہانے لگیں اور ان سے ہر تعلق و احساس سے بے نیاز انفرادیت و یکسر ذاتی مفاد کو پرکھنے لگیں تو وہ رشتے فقط نفسانی خواہشات و وحشیانہ سلوک اور حیوانی جذبات جیسی کیفیات کے زیرِاثر انسانی ہاتھوں کو داغدار کرتے ہوئے انسانیت و انسان پر کلنک کا ٹیکا لگا دیتے ہیں
اپنوں سے دغا تو انسان کو موت سے دوچار کر دیا کرتا ہے اور کچھ اس طرح کہ وہ موت فقط اپنی ہی ذات کی ہوا کرتی ہے اور یہ دنیا انہیں زندوں میں شمار کرتے ہوئے مزید سامانِ اذیت و نشانِ عبرت بنا دیا کرتی ہے
رشتے ہر طرح سے رشتے ہی رہا کرتے ہیں مگر نوعیت و افکار بدل جایا کرتے ہیں
"تعلق تو تعلق ہے، کہیں کا ہو بھلے سے ہی
مگر رکھنا عداوت کا، تعلق زہر ہوتا ہے
جو رشتوں میں دراڑیں ہوں، محبت بھی رہے قائم
کہ ناطہ توڑ دینا بھی، خدا کا قہر ہوتا ہے"
ساحؔر
اِک رشتے سے متعلق آنسو لئے بے نام شخص سے گفتگو
No comments:
Post a Comment