وقت۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی فطرت ہے وہ اپنے کچھ اصول و ضوابط اور زندگی کی چند ایک ترجیحات بنا لیتا ہے، اور پھر ان پر اپنی ذات کی ڈگر استوار کر لیتا ہے
فطرتِ انسانی کے اس نظام کے تحت ہر انسان اپنے اصول و ترجیحات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا
چہ جائیکہ اس کا ذہن بدلا جائے، زاویہءِ نظر بدل دیا جائے یا پھر اسے اس حد درجہ مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنی ذات کچل کر اپنی زندگی سے سمجھوتہ کر لے
زندگی ہر انسان کو مواقع فراہم کرتی ہے، ہر وہ موقع جو اسے اس کے مقدر کا سکندر بنا دے، بخت کے تخت کا وارث کر دے یا اسے اس کی دنیا کا ستارہ بنا دے
اب یہ زندگی جینے والے پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کے بخشے گئے ان مواقع سے کس قدر استفادہ حاصل کرتا ہے کتنی محنت کرتا ہے
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک نویدِ روشن کے ملنے کے بعد بھی ہم یہ سوچا کرتے ہیں "ابھی وقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"، مگر جب تک سمجھ میں کچھ آ سکے بہت تاخیر ہو چکی ہوتی ہے اور اس میسر شدہ موقع سے فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا
"ابھی وقت ہے"
یہ ایک جملہ، سوچ کا پہلا حصہ ہمیں ناکامی سے روشناس کرا دیتا ہے کیونکہ وقت کسی کیلئے رک نہیں جایا کرتا
زندگی کے پہر لگ جایا کرتے ہیں وقت کے ایک موقع دینے کے انتظار میں، اور جب موقع حاصل ہوتا ہے تو ہم سست پڑ جایا کرتے ہیں جبکہ وہی تو جاں توڑ محنت کا طلب گار ہوتا ہے اور بدلے میں آپ کو زندگی کی ایک نئی سحرِ کامیاب سے روبرو کرواتا ہے
اور اگر کہیں ہم اس لمحے کو رد کر دیں فقط اتنا سوچ کر کہ "ابھی وقت ہے"، تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر زندگی کبھی کسی کو دوسرا موقع نہیں بخشا کرتی
کیونکہ پھر وقت ایسے لوگوں کو دھتکار دیا کرتا ہے
وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمحہءِ امید سے روشن خیالوں کی ایک نشست
No comments:
Post a Comment