ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کرنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو
اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
........
الغرض منیر نیازی صاحب کا مکمل کلام پڑھنے کے بعد عجب کیفیت طاری ہوئی
تمام عمر گزار کر بھانت بھانت کی بولیاں, عجب غضب نظارے, اچھے برے لوگ اور سکھ دکھ سے بھرپور حالات جھیلنے کے بعد ہم اپنی زندگی میں چند ایک یادوں کے سہارے جیتے ہیں
وہ یادیں گنے چنے لمحوں پر محیط ہوتی ہیں مگر ہماری تمام تر عمر پر حاوی رہتی ہیں
اور ان یادوں میں ہم سے ہو جانے والی یا ہم سے کی گئی ان دونوں میں سے کسی ایک محبت کی داستانِ الم موجود ہوتی ہے
محبت کر لینا, ہو جانا یا کسی کی محبت کو اوڑھ لینا کسی ایک شخص کے دائرۂِ اختیار میں نہیں ہوتا مگر پھر بھی ہم اپنے شعوری و لاشعوری غلطیوں کوتاہیوں پر ساری زندگی نظرِثانی کرتے ہوئے ان حالات میں ان تمام امور کو بدل کر اک خیالی زندگی جیتے ہیں اور اس کے حقیقی نہ ہونے کے درد اور اذیت سے سرورِ محبت کشید کرتے گزار دیتے ہیں
تڑپتے مچلتے عمر گزار دینا, عمر بھر کا روگ لینا یہ سب جانے تمام اہلِ جہاں کو عجیب و معیوب کیوں لگتا ہے
ہاں مگر ان تمام کے باوجود اک ایسے شخص کی تلاش ضرور رہتی ہے جو ہمیں دیر نہ کرنے دے
ہم دیر کرنے لگیں تو ہمیں بالوقت جتا دے, ہمیں اپنے وقت اور زمانے کا حصہ بنا لے
مگر یہ بھی اک اٹل حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنے وقت, حالات, زندگی اور شخصیت میں کسی دوسرے کو شریک کرنا گوارہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا
جانے کن لوگوں میں یہ حوصلہ آ جاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دان کر دیتے ہیں
زندگی بس تلاشِ ہم سفر ہے شاید


