Saturday, June 23, 2018

تنہا تماشائی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کرنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو 
اسے واپس بلانا ہو 
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
........
الغرض منیر نیازی صاحب کا مکمل کلام پڑھنے کے بعد عجب کیفیت طاری ہوئی 
تمام عمر گزار کر بھانت بھانت کی بولیاں, عجب غضب نظارے, اچھے برے لوگ اور سکھ دکھ سے بھرپور حالات جھیلنے کے بعد ہم اپنی زندگی میں چند ایک یادوں کے سہارے جیتے ہیں 
وہ یادیں گنے چنے لمحوں پر محیط ہوتی ہیں مگر ہماری تمام تر عمر پر حاوی رہتی ہیں 
اور ان یادوں میں ہم سے ہو جانے والی یا ہم سے کی گئی ان دونوں میں سے کسی ایک محبت کی داستانِ الم موجود ہوتی ہے
محبت کر لینا, ہو جانا یا کسی کی محبت کو اوڑھ لینا کسی ایک شخص کے دائرۂِ اختیار میں نہیں ہوتا مگر پھر بھی ہم اپنے شعوری و لاشعوری غلطیوں کوتاہیوں پر ساری زندگی نظرِثانی کرتے ہوئے ان حالات میں ان تمام امور کو بدل کر اک خیالی زندگی جیتے ہیں اور اس کے حقیقی نہ ہونے کے درد اور اذیت سے سرورِ محبت کشید کرتے گزار دیتے ہیں 
تڑپتے مچلتے عمر گزار دینا, عمر بھر کا روگ لینا یہ سب جانے تمام اہلِ جہاں کو عجیب و معیوب کیوں لگتا ہے 
ہاں مگر ان تمام کے باوجود اک ایسے شخص کی تلاش ضرور رہتی ہے جو ہمیں دیر نہ کرنے دے 
ہم دیر کرنے لگیں تو ہمیں بالوقت جتا دے, ہمیں اپنے وقت اور زمانے کا حصہ بنا لے 
مگر یہ بھی اک اٹل حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنے وقت, حالات, زندگی اور شخصیت میں کسی دوسرے کو شریک کرنا گوارہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا 
جانے کن لوگوں میں یہ حوصلہ آ جاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دان کر دیتے ہیں 
زندگی بس تلاشِ ہم سفر ہے شاید










سفرِ آگہی

Monday, June 18, 2018

فطرتِ انساں

آج اک شخص سے سننے میں آیا کہ جائیں سب بھاڑ میں ہمیں بھی کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا 
جناب کسی سے سخت ناراض ہو رہے تھے 
اور وجوہات کچھ ایسی تھیں کہ کہنے کو مسائل تھے اور در حقیقت چھوٹی چھوٹی چاہتیں تھیں جو کہ نہ دوسروں کی سمجھ میں آ رہی تھیں اور نہ ہی جناب ان سے دستبردار ہونے کو تیار تھے 
یوں کہئے کہ چاہت تھی کہ مجھے بھوک لگے اور کھانے میں پسند جانتے ہوئے بھی دینے والا جلدی میں کچھ اور کھانے کو دے دے مبادا کہیں بھوک سے جان نہ نکلے 
اور موصوف سمجھیں کہ بس یہاں تو قہر برس گیا ہم سے دھوکہ ہو گیا جان بوجھ کر ہمیں ہماری پسند سے دور رکھا گیا 
تو جناب
انسان کا نام ہی ایسا جانور ہے جو زندگی کو محسوس کرے جذبات سے احساسات سے بھرپور زندگی جئیے نہ کہ گزار دے بے فائدہ بے وجہ............
تو اگر کسی کو دیکھنے کی چاہت,  کسی کے ساتھ زندگی کے چند پل گزار دینے کے بعد بھی اگر کسی سے الفت, چاہت اور انسیت نہ ہو اور کسی سے دلی لگاؤ نہ ہو 
تو ذرا خود کو آئینے میں دیکھئے اور غور کیجئے سوچئیے
کیا آپ انسان ہیں ؟؟؟؟؟ 
کیوں کہ جذبات سے عاری تو مشینیں ہوا کرتی ہیں فائدے اور نقصان کا حساب رکھنے والی اور بنا تغیر کے بس ایک ہی طرح بنا کسی موسم کی, انسان کی اور کسی اور عنصر کا اثر لئے بغیر پروا کئے بغیر بس ایک ہی طرح چلتے رہنے والی ........
تو سود و زیاں کا حساب رشتوں اور محبتوں میں زہرِ قاتل ہوا کرتا ہے اور زندگی کو خود غرضی سے گزارنے کا طریق دکھلاتا ہے 
ایسی زندگی پھر زندگی نہ ہوئی اور ایسے انسان انسان تو نہ ہوئے
جانے پھر انہیں کیا کہا جائے....
بس ذرا اک پل کو ٹھہرئیے اور سوچئیے اور اگر نہ سمجھ آئے تو چل پڑئیے پھر آپ خود سے بھی مخلص نہیں ہو سکتے 









سفرِآگہی

Wednesday, June 13, 2018

بابا جان کی یاد میں


رَبِّ الرْحَمھُماَ کَما رَبّیاَنِی صَغِیراً
جان سے پیارے بابا جان کے نام 
کہ جنہوں نے اسلوبِ زندگی سکھائے اچھے اداروں سے پڑھایا اعلی تربیت دی 
اور تا دمِ آخر ہر آرام و سکون اور آسائش میسر کی بےپناہ محبت و توجہ کے ساتھ دین سے آشنائی کرا دی
آج انہیں ہم سے بچھڑے چھ سال گزرے 
الله ان کی قبر کو جنت کے باغوں کا باغ بنائے اور جنت الفردوس عطا فرمائے
آمین
آج یاد تم بے حساب آئے
یوم_الحزن




سفرِآگہی©

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...