یہ جو ساغر نینوں سے چھلک رہے ہیں
نشے میں ڈوبے ہم باعثِ شراب کم تھے کیا؟؟
یہ جو غرورِ حسن آپ کی, گردن میں آ سمایا ہے
اداؤں میں تیری, اشرارِ شباب کم تھے کیا؟؟؟
دولت کے رنگ آپ کو بھی, اب کے چڑھنے لگے ہیں جو
شہر بھر میں اس سے پہل, نواب کم تھے کیا
تُم نے اب کے دسمبر, لہجہ بھی سرد کر ڈالا
زیرِ گگن سردیوں کے عذاب کم تھے کی؟؟
اور پھِر سے توڑا ہے, اِک دلِ معصوم آپ نے.....!!!!
قبل اِس سے بھی درج , ثواب کم تھے کیا؟؟؟
اِک راہی کے تمام ارماں کیوں ڈھا دئیے تم نے
تمہارے اپنے ہی رنگیں خواب کم تھے کیا؟؟؟
جامِ اُلفت جو میری آنکھوں میں سجا دئیے تم نے
میری ریزہ ریزہ سی ذات میں سراب کم تھے کیا؟
تیرے جانے سے جو سوال آن لِپٹے ہیں مجھے
بے راہ تلاش میں گمشدہ جواب کم تھے کیا؟؟
عطا کِیا ہے آپ نے, جو تحفۂِ دیوانگی ہمیں
تِیرِ اُلفت کے مارے اوّلیں, خراب کم تھے کیا؟؟
کیوں مجھ کو ہی چُنا, خاص کرنے کیلئے
سجی محفل میں تیری, احباب کم تھے کیا؟؟؟
نمولیوں کی صورت میں تلخ ہو گیا ہوں
تیری جھولی میں چاہت کے عناب کم تھے کیا؟؟؟
اِک بے طرح بکھرے, ٹوٹے, اُجڑے راہی کے لڑکھڑاتے قدموں سے مأخوذ
ساحر کے قلم سے
۵ دسبر کی منتظرِ سَحر شبِ مضطر سے مستعار الفاظ