مُجھے کافی سے مطلب تھا
اُسے جانے کی تھی جلدی
وفا مجھ میں تھی کچھ باقی
مُروّت اُس نے بھی رکھی
جو لمحے دو میّسر تھے
وہ گزرے یوں کہ جلد از جلد
تجربہ اُس کا اچھا تھا
میری تھی آخری غلطی
سالِ رفتہ سے اِک محفلِ خاص کے نام
سلسلۂِ احساسات, جذبات و مناجات جو کہ روندا گیا
No comments:
Post a Comment