Friday, May 25, 2018

اصولِ حیات

وفا اور بے رخی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہنے سننے والوں سے اکثر یہی تاثر ملتا ہے کہ اعلیٰ ظرفی وہ ہے کہ کوئی آپ سے برا کرے تو اس سے اچھائی کرو، کوئی آپ کو ستائے تو آپ بدلے میں اسے آسانی فراہم کرو ،کوئی آپ کو رلائے تو آپ اس کیلئے باعثِ مسکراہٹ بنو
مگر 
لکھنے پڑھنے والے بتلاتے ہیں کہ جو وفا کرے اس پر جان نچھاور کر دو ،اس کی ہمیشہ قدر کرو اسے ساتھ لے کر چلو، اور اس کے قدم سے قدم کندھے سے کندھا ملاؤ 
مگر جو وفا کے نام پر دھبا لگائے اور وفا کہہ کر جفا کرے، دھوکہ دے، دغا کرے، کچھ کہہ کر کچھ اور کرے تو ایسے شخص کی جان لینا بھی یوں سمجھیں کہ جیسے کارِثواب ہے 
کیونکہ آج آپ ڈسے جا رہے ہیں کل کوئی دوسرا ہو گا تو انسانیت کی رہنمائی و بھلائی اسی میں ہے کہ اس پاجی کو زندہ نہیں رہنا چاہئے
کیونکہ وفائیں اور جفائیں صرف اس انسانی دنیا تک تو محدود نہیں رہتیں 
آسمانی و روحانی دنیا جو کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی سے مزین ہے، تو زندگی کوئی بھی ہو رفیق و ہم سفر تو لازم ہیں
تو پھر اس دنیا میں جو لوگ آپ سے وفا نہ کر پائے ان سے حیاتِ عقبیٰ میں کیا امید کہ وہ وہاں آپ کے ساتھ رہنا پسند کریں گے یا نہیں 
الغرض اس جہانِ فانی میں بھی رفیق رفقاء ایسے رکھیں کہ جو آپ سے وفا کریں اور راست گو رہیں
اور یہ دنیاوی لوگ ہی تو حیاتِ عقبیٰ بہتر بنانے میں مدد کرتے ،کبھی کہیں نیکی کی جانب لے جاتے تو کبھی بدی سے بچانے آ پہنچتے ہیں 
اور درحقیقت یہی لوگ سرمایہءِ حیات ہوا کرتے ہیں 
زندگی نظریاتی بنائیے اور حیاتِ عقبیٰ کی فکر کیجئے 
خدائے بزرگ و برتر رحمتوں، برکتوں اور آسانیوں سے مرحمت فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو 
آمین







©سفرِآگہی

Wednesday, May 23, 2018

خیالِ یار سے مأخوذ

مصیبتیں ،مشکلیں اور آفتیں سب ہیچ ہوتی ہیں
جو نظرِ قاتل کے اُٹھنے پر مچل جائے دلِ حساس 



ساحر کے قلم سے۔۔۔۔۔

©سفرِآگہی

Saturday, May 19, 2018

مسافرت

سفر۔۔۔۔۔

یوں تو کہا جاتا ہے کہ سفر انسانی زندگی میں سانس کے جاری ہونے پر ہی شروع ہو جایا کرتا ہے جسے سب زندگی کا نام دیا کرتے ہیں
البتہ انسان پھر اس زندگی کے سفر میں معمولاتِ حیات کے پیشِ نظر کرۃءِارض پر ملکوں ملکوں، شہروں شہر مسافرت اختیار کرتا ہے 
اور اس دنیا میں اختیار کئیے جانے والے سفر کے مأخوذات اس کے زندہ رہنے کیلئے جہدِ مسلسل کا اک حصہ ہوا کرتے ہیں 
انسان ارضیاتی مسافرت اپنے زندگی کے معاشی معاملات و معاشرتی خوشحالی کیلئے اختیار کرتا ہے، کبھی زمینِ دنیا پر بکھرے قدرت کے جلوے دیکھنے کیلئے سیر و سیاحت کی غرض سے ،کبھی رموز قدرت و اسرارِ ارض کھوجنے کیلئے،  تو کبھی دنیا پر بکھری معاشرتی و ثقافتی تہاذیب کو دیکھنے اور اپنی زندگی کی نظریاتی تجدید کیلئے اور کبھی ذاتی و روحانی تسکین کیلئے انسان کرہءِارض پر میلوں میل کا سفر اختیار کرتا ہے 
انسانی فطرت ہے کہ ہر معاملے کو کچھ متعین اوقات سے منسوب کرتا ہے، زندگی کے بہت سے مراحل کیلئے منصوبہ سازی کرتا ہے اور ان کے متعلق اسباب جوڑ رکھتا ہے 
اسی طرح مسافرت کیلئے زادِراہ جمع کرتا ہے، سفر کے رستے اور ان میں درپیش آنے والے ممکنہ مشکلات و مسائل سے نمٹنے کے اسباب کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر طوالتِ سفر متعین کرتا ہے 
مگر یہ تمام تر امور اس کے اختیار سے بالاتر ہوا کرتے ہیں
چونکہ سفر زندگی کا ہو یا دورانِ حیات ارضیاتی مسافرت دونوں میں سفر راستے، پڑاؤ ،منزلیں اور اسرار و رموز ہمیشہ خود طے کیا کرتا ہے 
یہ اک الگ بات ہے کہ سفر کی تکمیل ویسی ہو جانا جیسے مسافر نے سوچ رکھی تھی محض رحمتِ خداوندی اور اس کا انعام ہوا کرتا ہے 
مسافرت مسافر کو بہت سے تجربات عطا کرتی ہے، اور ان تمام تر تلخ و شیریں تجربات سے یا تو اس کی آئندہ مسخر ہونے والی منزلوں کے رستے آسان ہو جایا کرتے ہیں یا پھر وہ اپنے راستوں کی مشکلات و مصائب کو بڑھا لیا کرتا ہے 
اب سوچا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟ ؟؟
تو 
مسافرت انسان کو تجربات تو بہت سے دیتی ہے مگر کچھ ایسے تجربے بھی ہو جایا کرتے ہیں جو وقت سے پہلے اور ذہنی استعداد سے بالاتر ہوا کرتے ہیں 
ان تجربات سے بہت کم لوگ مستفید ہوا کرتے ہیں اور ان لوگوں کا شمار ایسے خوش نصیب انسانوں میں ہوتا ہے جو صحیح فیصلہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر لیتے ہیں اور آگے کی طرف بڑھتے ہوئے بہت سی مشکلات و مصائب سے دامن بچا کر زندگی کی نئی منزلوں کو تسخیر کیا کرتے ہیں 
اور کچھ لوگ ان تجربات کو نہ سمجھتے ہوئے نادانی و کند ذہنی کا ثبوت کا دیتے ہوئے صحیح فیصلہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر نہیں لے پاتے اور اک صحیح سمت میں بڑھتے رہنے کے باوجود صحیح فیصلہ غلط جگہ اور غلط وقت پر لے کر اپنی منزلوں کی راہوں سے بھٹک جایا کرتے ہیں اور نادار رہتے ہیں
خدائے بزرگ و برتر ہم سب کا حامی و ناصر ہو 
اپنی رحمتوں، برکات اور آسانیوں سے زندگی کو سہل بنانے کی توفیق عطا فرمائے 
آمین


طوالتِ سفر سے گھبرائے اک مسافر کی گفتگو 
ساحر کے قلم سے 









©سفرِآگہی

تمثیلِ جرأت



کنڈل شاھی پُل کے حادثے میں رقم ہونے والی 

بہادری کی داستان ۔۔۔

صائم شفاعت

ایک معمولی مگر “غیر معمولی” خوانچہ فروش جو کنڈل شاہی پل کے پاس پکوڑے بیچا کرتا تھا 
اس بہادر کشمیری بچے کے والد کنڈل شاہی پُل کے پاس ایک ٹھیلہ لگاتے ہیں اور جب پُل کا حادثہ ہوا تو اس بچے نے لوگوں کو بچانے کیلئے دریا میں چھلانگ لگا دی ایک کو زندہ بچایا پھر ایک لاش کو نکالا تیسری دفعہ پھر کسی کو بچانے کیلیے دریا میں چھلانگ لگائی لیکن واپس نا آ سکا۔۔۔۔بہادری اور انسانیت عمر کی محتاج نہی ۔۔۔
جرأت اور جذبہءِ خدمت کسی طبقے تک محدود نہیں ہوا کرتا 
صائم تجھے سلام




سفرِآگہی©

Thursday, May 17, 2018

محبت یا عزت۔۔۔۔!!!!

نمرہ کی سسکیوں کی آواز دروزے کے دوسری طرف صاف سنائی دے رہی تھی، آج پھر سے اسکی خوشگوار زندگی کی ایک اُداس رات تھی۔
نمرہ ایک ادنیٰ درجے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، اکلوتی ہونے کے باعث مکمل توجہ اور بے تحاشہ لاڈ پیار کے باعث کافی ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضدی بھی تھی، بچپن سے نوجوانی تک کا سفر خوشگوار طریقے سے گزارا، مگر نوجوانی میں اس کی زندگی کا ایک ایسا باب کھلا کہ اس کی تمام ضد دھری کی دھری رہ گئی، ہاں وہ کالج پڑھتی تھی جب وجیہہ سے اس کی ملاقات ہوئی اور پھر ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔
اس کے ساتھ ہوتی تو وہ ہر چیز بھول جایا کرتی تھی۔ اس کیلئے اپنی ہر ضد کو نیچا دکھاتی، ہر وہ کام کرتی کہ جو وجیہہ کو پسند ہو، وجیہہ بھی اس کے ساتھ اچھا محسوس کرتا۔
نمرہ کیلئے شاید اس کے بغیر کچھ سوچنا بھی محال تھا، وہ سب کچھ بھول سکتی تھی مگر وجیہہ ! یہ ناممکن لگتا تھا مگر شاید اس کی یہ خوشیاں قدرت کو راس نہ آسکیں یا شاید وجیہہ اس بے لوث محبت کے قابل نہ تھا، بس ایک دن وجیہہ جو گیا تو پھر اس کا کوئی پتہ نہ چلا، اس نے نمرہ کے اپنے تک آنے والا ہر راستہ بند کردیا۔ نمرہ کو بے بس کردیا تھا وجیہہ نے۔
اور نمرہ ۔۔۔ ! اس کی زندگی میں تو اچانک سے ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی تھی، سب کچھ اندھیر ہوگیا، اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وجیہہ ایسا بھی کرسکتا ہے ؟؟ اور رسوائی و بدنامی کا داغ الگ سے آن موجود ہوا، وہ زندگی کے اس غم و اندوہ کے پہاڑ میں جاگری، جہاں ہر طرف اسے اندھیرا ہی نظر آتا تھا، وہ مایوس ہوچکی تھی۔ 
جب کبھی آئینہ دیکھتی تھی تو اسے وجیہہ کو ہر لفظ یاد آتا تھا اور پھر آنسو بے مہر اسکے گالوں کو دھو جاتے تھے، لیکن زندگی کی تاش میں ایک بازی موجود تھی۔
احمر۔۔۔
وہ اپنے ماں باپ کا چہیتا بیٹا تھا اور افضل صاحب تو ویسے بھی نمرہ کے والد کے بچپن کے دوست تھے، افضل صاحب نے ایک دن نمرہ کے والد سے کہا کہ کیوں نہ دوستی کو رشتہ داری میں بدلیں۔ زندگی کے اس موڑ پر دوستی کو عزت بخشیں۔ ابھی یہ معاملات چل رہے تھے اور نمرہ کی اُداسی بھی اب چھٹنے لگی تھی اسے اپنی محبت پر پشیمانی تھی، حسب عادت نمرہ صبح ناشتے کے بعد لاؤنج میں چائے کی چسکیاں لے رہی تھی، اچانک سے اماں نے کہا چلو شاپنگ کیلئے چلتے ہیں، وہ حیران و پریشان سی بدقتِ تمام اماں کے ساتھ شاپنگ کیلئے چل دی۔ 
اچھی خاصی شاپنگ کے بعد وہ واپسی کیلئے بس سٹینڈ کی طرف بڑھ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اماں سے ہونے والی اچانک شاپنگ کی وجہ جاننا چاہ رہی تھی، جیسے ہی وہ بس سٹینڈ پر پہنچی اسے وہ چہرہ دکھائی دیا، حزن و ملال میں ڈوبا۔
ہاں، وہ وجیہہ ہی تھا، اس کا دل تڑپ اُٹھا، آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو بے تاب ہونے لگے، اس نے منہ پھیر لیا، وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی، گھر آکر وہ تھکاوٹ کا بہانہ بناکر بہت دیر تک روتی رہی، اگلے دن اسکا دل چاہا وہ وجیہہ کو فون کرے مگر دماغ اب بھروسہ نہیں کررہا تھا اور دل تڑپ رہا تھا۔
اس شام اماں نے زبردستی اسے نیا کام دار سوٹ پہناکر تیار کیا اور ہلکے میک اپ کے ساتھ اسے آرام سے بیٹھنے کو کہہ کر اماں کچن میں کام کرنے چلی گئیں۔
نمرہ کو بے چینی نے آگھیرا، اک عجب گھبراہٹ طاری ہونے لگی، اس نے اماں سے پوچھا، تو اماں کہنے لگیں کہ تمہارے افضل چچا کی دعوت ہے آج۔
شام ہوئی، مہمان آپہنچے۔۔۔، اماں نے بیٹھتے ہی اسے چائے لانے کو کہا وہ چائے سرو کرنے لگی کہ افضل چچا کی بیگم نے نمرہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا ۔۔۔ اور بڑے چاؤ سے اماں سے کہا کہ آج سے یہ ہماری بیٹی ہے، اسے ہم احمر کی دُلہن بنائیں گے، یہ الفاظ گویا سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جیسے نمرہ کے دماغ میں ایٹم بم سے بھی بھیانک دھماکے کرگئے۔
وہ تو اپنا دل کسی اور کو سونپ چکی تھی اور وہ بھی ایک ایسے شخص کو جو صرف جسم کا طلبگار تھا، جسے اسکی عزت سے اس کی خود داری سے اعتماد سے کوئی سروکار نہ تھا، مگر پھر بھی نمرہ کے تمام تر جذبات اسی کے نام تھے، مگر زندگی کے اس موڑ پر وہ کیا کرے، اس کا دل بار بار بغاوت پر اُکسا رہا تھا، اس کی بے چینی بڑھ رہی تھی، مگر اس نے ماضی کا پچھتاوا اپنی پشیمانی سب دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
اس نے احمر کی عزت قبول کی، ان کی شادی بڑی دُھوم دھام سے ہوئی تھی، سب کچھ جیسے خواب سا تھا اور آج ایک عرصہ گزرنے کے بعد اب وہ ماں بن چکی، ایک خاندان بنا چکی ۔ 
مگر۔۔۔!
اسے کبھی کسی چیز کی خواہش نہ ہوئی نہ کبھی کسی کی ضرورت محسوس ہوئی، اب تمام جذبات سرد پڑگئے تھے، مگر دل میں اِک کسک سے اُٹھتی ہے، احمر سویا پڑا ہے مگر نمرہ جاگ رہی ہے، احمر کو کبھی پتہ نہ چل سکا کہ نمرہ رات کو جاگتی بھی ہے اور نمرہ کو کبھی اسے بتانے کی، اسے احساس دلانے کی ضرورت محسوس نہ ہوسکی کیونکہ اس کی محبت راکھ بن چکی تھی جبکہ احمر کی عزت حقیقت عین ہے!




ساحر کے قلم سے 




سفرِآگہی©

Tuesday, May 15, 2018

الفاظ سے آشنائی

الفاظ لکھے جاتے ہیں مگر لہجے، جذبات اور احساسات لکھنا ناممکن ہوا کرتا ہے
الفاظ لکھ دینے سے عمومی تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ لکھا گیا جملہ یا تحریر پڑھنے والا سمجھ پائے گا
مگر
بعض اوقات لکھی گئی تحریر میں الفاظ کا ابہام انسان کو لکھی گئی تحریر کا موضع و مقصد سمجھنے میں الجھن در پیش ہو جاتی ہے
جس سے تحریر کے اغراض و مقاصد بہت مختلف ہو جایا کرتے ہیں
یہ سب لکھنے والے کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ تحریر کس نظریے و سوچ سے پڑھ رہا ہے اور زیرِ نظر تحریر کس کی ہے
انسان الفاظ کو جذبات سے ہمیشہ جدا کرتا ہے لکھی گئی ہزار ہا کتابوں کو جذبات و احساسات سے جدا کرنا کسی کے بس کی بات نہیں
کیونکہ ہر حرف ،لفظ، جملہ اور سطر کسی نہ کسی سوچ و جذبے کے تحت ہی لکھی جاتی ہے
مگر
الفاظ کو یقین و اعتماد سے پڑھ کر سمجھنا بہت کم لوگ جانتے ہیں
الفاظ سے شناسائی بہت اذیت ناک ہوا کرتی ہے اور بعض اوقات تو انسان کی شخصیت تک کو الجھا دیا کرتی ہے 
الفاظ سے شناسا  شخص صرف الفاظ تک محدود رہ جاتا ہے پھر اسے لہجے، رویے اور اظہار سے کوئی سروکار نہیں رہتا 
وہ بس الفاظ کی گہرائی جانچتا ہے اور کہنے والے کے چناؤ پر نظر رکھتا ہے اور باقی تمام تر روئیات کو بس انہیں میں تولتا ہے
کہئے، لکھئے اور پڑھئیے مگر یقین و اعتماد کے ساتھ، کوشش کیجئے لکھنے ،کہنے والے کے الفاظ کا چناؤ اور اس کی الفاظ سے وابستگی کو مدِنظر رکھئے 
اور اس سے بھی اہمیت کا حامل آپ کا اور اس کا تعلق ،رشتہ ،وابستگی زیادہ اہم ہے 
کیونکہ انہی الفاظ سے رشتوں میں چاہتیں رہتی ہیں اور ان ہی کی ادائیگی سے ان میں رنجشیں و دراڑیں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدائے بزرگ و برتر ہدایت سے سرفراز کرے اور ہمارا حامی و ناصر ہو 
آمین



سفرِآگہی©

Sunday, May 13, 2018

پیاری ماں


لاثانی و بے مول رشتہ ۔۔۔۔۔
ماں، جس کا کوئی نعم البدل ہے نہ ہی اس جیسا کوئی دوسرا۔۔۔۔۔
ایک ایسا بے غرض رشتہ جو زندگی بھر بلا سود و زیاں سوچے ہمیشہ اپنے بچوں کا بھلا چاہتا ہے اور بدلے میں کچھ بھی ملے بس خاموشی سے سمیٹ لیتا ہے، چاہے وہ خدمت و فرمانبرداری ہو یا ناہنجاری و بے حسی۔۔۔۔


وہ اکثر مجھ سے کہتی تھیں, زمانہ خراب ہے
دنیا کی بھیڑ میں تم، اپنا خیال رکھنا

ساحر

رَبّ الرْحمھُماَ کَما رَبّیاَنِی صَغِیراً
آمینْ

 

سفرِآگہی©



نئے دور کی اداسی یا گزرے وقت کی یاد

باباجی بولے جارہے تھے اور میں ان کو سنے جارہا تھا اور ان کی طرف غور سے دیکھے جارہا تھا۔
وہ کہہ رہے تھے۔
بیٹا جب میں جوان تھا تو اس دور میں پڑھائی اتنی اہمیت نہیں رکھا کرتی تھی بلکہ ہم تو اس جوان سے باقاعدہ متاثر ہوا کرتے تھے جو کسی فن میں طاق ہوا کرتا تھا، چہ جائیکہ وہ پڑھا لکھا نہیں ہوتا تھا مگر کوئی بھی کام سیکھتا تھا تو اس کی مہارت کو پانے کی کوشش کرتا تھا، میں نے بھی اپنی نوجوانی میں ہی ایک بڑھئی کی شاگردی اختیار کی تھی، میرا اُستاد پورے شہر میں اپنے فن کی مہارت میں یکتا تھا، اس کی شاگردی میرے لئے سند کی حیثیت رکھتی تھی، اس دور میں اس کے پاس تمام اوزار بیش قیمت و جدید ترین تھے۔ 
بابا وہی پرانے دور کے اوزار جو آج کل پرانے ’’مستری‘‘ استعمال کرتے ہیں، میں نے پوچھا۔
بابا جی بولے ۔۔۔ ہاں بیٹا وہی اوزار جو لکڑی کے تنے کو خوبصورت نقش نگار کے ساتھ مزین فرنیچر میں بدلتے تھے اور آج بھی اس کو فن پاروں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ 
مگر اب ۔۔۔! اب تو مشینوں کا دور ہے۔
بابا جی نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا، میں نے ان کی آنکھوں میں ایک کرب دیکھا، نمی دیکھی، میں بھی ششدر رہ گیا۔ 
مگر بابا مشینیں تو بڑی تیزی کے ساتھ فرنیچر بنادیتی ہیں اور وہ خوبصورت بھی ہوتا ہے، پرانے اوزاروں کے ساتھ تو مہینوں لگتے تھے۔ 
میں نے جلدی سے کہا ۔۔۔ 
بابا مسکرا کر کہنے لگے۔ 
بیٹا تو بھی صحیح کہتا ہے، پھر تجھے پتہ ہے اب ان مشینوں کو چلانے کیلئے پہلے ڈھیر سا پڑھتا ہے، پھر بھی مہارت نہیں آتی۔
نئی مشینیں آئی، اس کے ساتھ نئے کتابچے، نئی خصوصیت، سب کچھ نیا، پھر سے سیکھنا شروع۔۔۔ ۔
بابا اس سے تو علم بڑھتا ہے، پڑھنے میں کیسی قباحت۔۔۔؟
میں نے جلدی سے توجیہہ پیش کی۔ 
مگر بابا ہنسے ۔۔۔ ہنستے ہوئے انکی آنکھوں کی نمی سے دو موتی جھریوں بھرے رُخساروں پر پھسلتے چلے گئے۔ 
کہنے لگے ۔۔۔
بیٹا پھر جب پڑھتے ہی رہنا ہے تو پھر مہارت کہاں سے آئے گی، جب ہر گزرتے دن نئے اوزاروں کی خصوصیات لئے مشین کو سیکھنے بیٹھو گے تو کام میں پختگی تو نہ آئے گی۔ 
تو اس کا مطلب بابا ۔۔۔ آپ ان مشینوں سے نفرت کرتے ہیں، انہیں چھوڑ کر دوبارہ اسی پتھر کے دور میں جانا چاہتے ہیں۔ 
میں نے تنگ آکر تلخ لہجے میں کہا۔
بابا نے ہنوز مسکراتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پیار سے بولے۔
نہیں بیٹا یہ تو نہیں چھوڑی جاسکتیں۔
مگر خود بتاؤ ۔۔۔ کیا یہ مشینیں تمہاری ثقافت اور تہذیب سے جڑی وہ مہارت، وہ جذبات رکھتی ہیں، ایک بڑھئی جب اپنا کام کرتا تھا ، تو وہ اپنے کام میں ڈوب جایا کرتا تھا، اپنی ثقافت، تہذیب سے لگاؤ، اپنے اسلاف سے سیکھے تمام گُر وہ آزماتا تھا، اسے اپنے فن سے اپنے فن پاروں سے محبت تھی، لگاؤ تھا۔۔۔، وہ کام سیکھتا تھا تو اپنی تہذیب و ثقافت بھی سیکھتا تھا، اسے اوڑھ لیتا تھا اور پھر جب مہارت آجاتی تھی تو وہ اپنی ثقافت و تہذیب کو اپنے فن کی بدولت اپنے فن پاروں میں ڈھالتا تھا۔ 
بس بیٹا ۔۔۔ یہ باتیں آج ان مشینوں کو تو سمجھ نہیں آتی نا ۔۔۔
خیر چھوڑ ان باتوں کو بتا لسی پیئے گا۔۔۔ اور اتنا کہہ کر بابا اپنی چوکی سے اُٹھے اور اس پرانی سے ورکشاپ کے پچھلے حصے کی طرف جانے لگے۔ 
مگر میں اب تک یہی سوچ رہا تھا کہ یہ بابا جی کیا کہہ گئے تھے، ان کے آنسوؤں میں ایسا کیا تھا۔۔۔ 
بے چینی، دکھ یا کچھ اور ۔۔۔ یہ ان میں پرانے دور کی یادیں تھی یا ۔۔۔ 
نئے دور کی اُداسی ۔۔۔!






ساحر مرزا

©سفرِآگہی

Friday, May 11, 2018

خاموش تعلق

لازم تو نہیں تم سے کہ ہو طبعی تعلق
ہوتے نہیں کمزور یہ خاموشی کے رشتے

ساحر 

قرضِ محبت ۲

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان شاہ کو دبئی آئے چار دن ہو چلے تھے، اور ان چار دنوں میں بس وہ روتا رہا تھا
عشاء کی نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے وہ بس ہچکیوں سے روئے جا رہا تھا
اس نے کبھی صاعقہ کو حاصل کرنے کی دعا نہیں کی تھی اور آج بھی وہ یہی کر رہا تھا 
"اے ربِ ذوالجلال!!! اے کُل کائنات کے خالق..... ہر ذی نفس و روح کی تقدیر لکھنے والے ۔۔۔۔۔
میرے دل کو قرار دے دے ۔۔۔
اے رب العرش العظیم ۔۔۔۔ میرے دل کو قرار دے دے 
مجھے اس درد کی کیفیت سے آزادی عطا فرما 
اے الله میں تیری رضا میں راضی ہوں 
میری روح کو اس سراب سے آزاد کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ دعا مانگے جا رہا تھا اور روئے جا رہا تھا 
مسجد سے نکلتے ہوئے اس نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ جو ہو گا رضاءِ خداوندی سے ہو گا 
مجھے واپس چلے جانا چاہئیے 
اگلے دن وہاج کی بارات تھی، سبحان نے ایجنٹ سے رابطہ کر کے فوری ٹکٹ کروائی اور وہ صبح سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جانا چاہتا تھا 



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان صبح ہی صبح جاءِ نماز پر بیٹھی اذکار میں مصروف تھیں، ان کے دل میں عجب وسوسے آ رہے تھے 
انہوں نے رات بھی وہاج سے کہا تھا کہ چھوٹے شاہ جی سے کسی طرح رابطہ کرو 
لیکن وہاج کا سبحان سے رابطہ نہیں ہو پایا تھا 
آج وہاج کی بارات تھی، مہمان سب پہنچ چکے تھے گھر میں زور و شور سے تیاریاں چل رہی تھیں 
سب خوشی سے چہک رہے تھے بس ایک بی بی جان بار بار آنکھوں کو رگڑ رگڑ کر خشک کر رہی تھیں کہ مبادا کوئی ان کے آنسو نہ دیکھ لے 
سب ناشتے سے فارغ ہو کر اب بارات کے وقت کا انتظار کر رہے تھے 
وہاج شیروانی میں ملبوس، خوشنما کلاہ پہنے بی بی جان کے سامنے آ کھڑا ہوا 
لیجئے بی بی جان ۔۔۔!!! ہم بھی تیار کھڑے ہیں
بی بی جان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے 
انہوں کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، ماتھا چوما 
بی بی جان آنکھیں بند کئے زیرِلب دعائیں پڑھ رہی تھیں
کہ اچانک سے وہاج کا موبائل بجنے لگا 
بی بی جان کے ہونٹ پھڑپھڑائے، انہیں آج موبائل کی آواز بہت اونچی لگی، کچھ اس قدر کے ان کا دل جیسے مُٹھی میں آ گیا ہو 
وہاج نے عجلت میں فون اُٹھایا 
جی السلام عليكم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے سلام کے جواب کے بعد کچھ کہا گیا 
وہاج کے رنگ اُڑ گئے، اس سے کچھ دیر بولا نہ گیا 
بدقت اس نے خود کو سنبھال کر چہرے پر بشاشت لانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا 
اچھا ۔۔۔۔۔۔!!!! کب، کس جگہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ابھی کہاں ہیں؟؟؟؟؟؟؟ 
اور فوراً سے کلاہ اُتار کر پاس کھڑے عم زاد کو پکڑا کر گیر کی طرف بڑھنے لگا 
بی بی جان آنسوؤں سے تربتر چہرے سے دیوانوں کی مانند اس کے پیچھے لپکیں 
اسے پلٹا کر پوچھا کیا ہوا۔۔۔؟؟؟؟؟
کہاں جا رہے ہو؟؟؟؟؟
سبحان کا فون تھا۔؟؟؟؟؟؟
کہاں ہے وہ؟؟؟؟ 
تم کہاں جا رہے ہو؟؟؟؟؟ 
کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟؟ کچھ بتاتے کیوں نہیں؟؟؟؟ 
بی بی جان نے اٹکتے الفاظ میں ہچکیوں سے روتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کر دی 
وہاج کا ضبط چھوٹ گیا آنسو اس کی آنکھوں کے بند توڑ کے بہنے لگے
بی بی جان!!!  چھوٹے شاہ جی نہیں رہے۔۔۔۔۔
وہاج نے انہیں اپنے بازوؤں میں بھینچ کر لرزتے ہونٹوں سے اپنی آواز کی لرزاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بتایا 
بی بی جان سے یہ الفاظ برداشت نہ ہو پائے، وہ وہیں وہاج کی بانہوں میں جھول گئیں 
گھر میں اک کہرام سا مچ گیا 
وہاج نے بی بی جان کو اُٹھا کر تخت پر لٹایا، کوئی پانی لایا کسی نے وہاج کو گلے لگایا 
اک عجب رنج و الم کی فضا تھی۔۔۔۔۔
وہاج کیلئے سبحان صرف چھوٹے شاہ جی یا بڑا بھائی نہ تھا وہ تو اس کیلئے باپ کی طرح تھا 
اس گھر کا سہارا تھا
بڑے شاہ جی کو تو کچھ بولے ہوئے بھی اک عرصہ گزر گیا 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان شاہ نے جاتے ہوئے فون پر کہا تھا
وہاج میں تیری بارات پر پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ بارات پر تو پہنچ گئے تھے
آج چھوٹے شاہ جی، سید سبحان فیروز علی شاہ کا جنازہ تھا 
ان کی موت ایک کار حادثے میں اپنے دفتر سے گھر جاتے ہوئے صبحِ کاذب سے کچھ پہلے ہوئی تھی 
وقت کے ساتھ غم ہلکا ہو جایا کرتا ہے، وقت بہت بڑا مرہم ہے 
مرحوم اسی رات دبئی سے اپنے کاروباری دورے کے بعد واپس آئے تھے 
آخری دیدار کرنے والوں نے اس کے چہرے پر سکون اور مسرت آمیز مسکان محسوس کی ۔۔۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہاج کی شادی کو چار سال گزر چکے اب تو ماشاء الله دو بچے بھی ہیں 
سارا دن بی بی جان سے کھیلتے اور بی بی جان کا دل بہلایا کرتے
یہیں کھڑے رہنا ہے یا ناشتے کیلئے بھی آئیں گے جناب۔۔۔۔
صاعقہ نے وہاج کو برآمدے میں چھوٹے شاہ کی تصویر کے آگے کھڑے دیکھا تو آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا اچھا ہوتا نا صاعقہ۔۔۔۔۔۔!!!
آج چھوٹے شاہ جی ہمارے ساتھ ہوتے ۔۔۔۔
وہاج نے نم لہجے میں کہا 
صاعقہ کا جی کٹ گیا اس بات پر ۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں وہ ان کی مجرم تھی، اس نے آہستگی سے کہا 
ہاں۔۔۔!!! گھر کے بڑے نہ ہوں تو کتنا عجیب لگتا ہے نا، کیا وہ بھی آپ کی طرح سنجیدہ مزاج تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 
چھوٹے شاہ جی کو اس قدر قریب سے جاننے کے باوجود وہ ان سے شناسائی سے کتنی مہارت سے انکاری تھی 
نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔
سبحان بھیا تو ہر محفل کی جان ہوا کرتے تھے، انتہائی خوش اخلاق، ہروقت ہر بات میں مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے وہاج کیا کچھ کہے جا رہا تھا چھوٹے شاہ جی کے بارے میں اور صاعقہ ہر آواز سے بے نیاز بس تصویر میں سبحان کی گہری، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں دیکھے جارہی تھی 
اور بار بار اس کی اپنی نظر آنسوؤں سے دھندلا جاتی تھی 
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا تھا اور وہ دونوں وہیں کھڑے تھے۔۔۔۔۔


                                ختم شد



ساحر کے قلم سے












سفرِآگہی©

Tuesday, May 8, 2018

قرضِ محبت

سبحان شاہ صاحب گھر کے بڑے بیٹے ہیں۔۔۔۔۔۔

گھر میں تین چھوٹے بھائی موجود ہیں دو کی شادی ہو چکی جبکہ ایک کیلئے رشتہ دیکھنے آج جانا ہے

سب تیاریوں میں لگے ہیں ،والدہ کے ہمراہ سبحان نے بڑے شاہ جی (ابا جی) کے پاس جا کر ان کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے کہا دعا کیجئے گا 

سبحان کے والد عرصہءِ دراز سے صاحبِ فراش تھے

سبحان سب سے بڑا تھا تو یہ ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ پڑی

چھوٹی سی عمر سے ہی چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھتے رکھتے وہ اپنا خیال رکھنا بھول گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان میں نے گاڑی سٹارٹ کر دی ہے آ جائیے

سبحان نے آہستہ سے بی بی جان (والدہ) سے کہا

اچھا بیٹا آرہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان بڑے دھیمے اور محتاط انداز میں گاڑی چلا رہا تھا

بڑی خاموشی سی تھی

بیٹا وہ اپنے قربان شاہ صاحب کی جانب جانا ہوا تمہارا ۔۔۔۔۔؟؟؟

بی بی جان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا

جی چند دن ہوئے ملاقات ہوئی تھی

سبحان نے مختصر سا جواب دیا

بنتِ قربان سے بھی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

بی بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا

جی۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی دیکھا تھا

سبحان نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا

قربان صاحب نے مجھ سے تمہارے چھوٹے بھائی کے بارے میں رشتے کی بات کی تھی اپنی صاحبزادی کیلئے۔۔۔۔۔۔

سبحان کا حلق تک کڑوا ہو گیا

اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے منہ سے بس اس قدر ہی نکل سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکلوتی بیٹی ہے ان کی ،اور انہوں بڑی شدومد سے مجھ سے استفسار کیا تھا

بی بی جان اسے بتا رہی تھیں

مگر نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جا رہا ہو

وہ بس خاموشی سے سنتا گیا

۔۔۔۔۔۔۔

                            ...................

آٹھ سال قبل۔۔۔۔۔۔

سبحان روزانہ کی طرح جلدی جلدی کام سے فارغ ہو کر یونیورسٹی پہنچا

اور ہمیشہ کی طرح پہلا لیکچر چھوٹ چکا تھا

وہ اپنے ہم جماعتوں سے بے نیاز جونئیر کلاس کے سامنے کھڑا تھا

وہ پچھلے تین سالوں سے اپنے سے تین سال جونئیر کلاس کے باہر عین پہلے لیکچر کے اختتام پر کھڑا ہوتا

اور کلاس کے طلبا کے باہر نکلتے ہی بس ایک چہرے کو غور سے دیکھا کرتا

اور ان کے چلے جانے پر اپنی کلاس لے کر واپس اپنے ہوٹل چلا جایا کرتا

شہر کے کاروباری علاقے کے مرکز میں یہ ہوٹل بڑے شاہ جی کی محنت کا شاہ کار تھا

اور سبحان ایک سعادت مند بیٹے کی مانند اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس ہوٹل کے تمام انتظام و انصرام دیکھا کرتا تھا

وہ روز پہلا لیکچر جان بوجھ کر چھوڑ دیا کرتا تھا

فقط اس لڑکی کی خاطر جو بہت چھوئی موئی سی، نازک کلیوں کی طرح، آنکھوں میں آفتابی چمک لئے چہرہ چھپائے اس کے قریب سے گزر جایا کرتی تھی

وہ بس روز ایک امید لے کر آتا تھا کہ کبھی تو بس ایک نظر اٹھا کر وہ اجنبی نظروں سے ہی سہی، بس اسے دیکھ لے

مگر وہ تو نجانے کس قصرِ فروزاں کی شہزادی تھی عجب بے نیازی سے گزر جایا کرتی تھی

یہ سبحان کا آخری سال تھا

اور اس کا دل جیسے روز کوئی جکڑ لیتا تھا

وہ چاہتا تھا ایک بار صرف ایک بار وہ اس نازک اندام کو پکارے

مگر روز اس کی قوتِ گویائی اس کا ساتھ چھوڑ دیا کرتی تھی اور سبحان کسی لٹے ہوئے مسافر کی طرح واپس لوٹ جایا کرتا تھا

اس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا جب اس نے ٹھان لیا کہ آج اس لڑکی سے بات کر ہی لے گا

وہ جماعت کے دروازے پر کھڑا انتظار کر رہا تھا

ستمبر کی خنک ہوا میں بھی اسے پسینے آرہے تھے اس کا محض چند منٹوں کا انتظار اس پر جیسے صدیوں سے گراں گزر رہا تھا

بلآخر اسے اس کا زیرِنقاب چہرہ نظر آیا چہرہ کیا فقط آنکھیں نظر آیا کرتی تھیں جو سبحان کو چہرے بھی زیادہ مکمل دکھائی دیا کرتی تھیں

وہ سبحان کے سامنے سے گزر گئی اور اس کے دور جانے پر اسے احساس ہوا تو اس نے اپنے حواس مجتمع کئے، جی کڑا کر اس کے پیچھے چلنے لگا

آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے کنارے سے مڑتے ہوئے اردگرد کسی کی غیرموجودگی ایک شخص کا پیچھا کرنا محسوس کر کے وہ مڑی اور سبحان کے سارے مجتمع حواس بکھر سے گئے

وہ تمام الفاظ جو اس نے کئی روز سے سوچ رکھے تھے

ہوٹل کے دفتر میں بارہا بار دہرا رکھے تھے، سب بھول گئے

اس کا چہرہ سرخ ہو گیا

کیا مسئلہ ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں ؟؟؟ ؟

شکل سے تو شریف زادے لگتے ہیں! !

اس لڑکی نے اچانک سے مڑ کر اس قدر سخت لہجے میں کہا کہ سبحان گڑبڑا گیا

نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو انگلش ڈیپارٹمنٹ جا رہا تھا

سبحان کو اور تو کچھ نہ سوجھی تو اچانک سے اس کے منہ سے انگلش ڈیپارٹمنٹ نکل گیا

جناب ذرا آنکھوں کا علاج کروائیں۔۔۔۔۔۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ آپ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں یہ یونیورسٹی کا آخری ڈیپارٹمنٹ ہے

آپ کو شاید بھول جانے کی بیماری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس لڑکی نے استہزائیہ انداز میں کہا

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان گھبرا گیا

گھبراہٹ میں اسے محل وقوع کا بلکل خیال نہ رہا

آپ پچھلے تین سالوں سے یہی کچھ کر رہے ہیں ، بلا ناغہ میری جماعت کے سامنے آپکا کیا کام ہوتا ہے

آپ سنئیر ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ من چاہی حرکات کرنے لگیں

میں تو آپ کو ذاتی طور پر جانتی تک نہیں

خدارا میری جان چھوڑ دیجئے

سبحان شرمندہ شرمندہ سا بس کھڑا تھا

وہ لڑکی اتنا کہہ کر پلٹ کر جانے لگی تو سبحان اچانک سے بولا

بس اپنا تعارف کرواتی جائیے پلیز

میں دوبارہ کبھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔۔۔۔۔

سبحان اپنی اس جرأت پر خود حیران تھا

وہ پلٹی

اور سبحان کو گھورنے لگی

سبحان نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں

میرا نام صاعقہ شاہ ہے اور میں قربان شاہ کی بیٹی ہوں

دوبارہ کبھی میرے راستے میں کھڑے نظر آئے تو تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا

بے حد سخت لہجے میں کہہ کر وہ پلٹی اور چلتی گئی

سبحان حق دق کھڑا رہ گیا

قربان شاہ سے اس کے کاروباری مراسم تھے

اور بڑے شاہ جی کے پرانے واقف کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن کے بعد وہ نہ یونیورسٹی گیا اور نہ کبھی اس کی ہمت ہی ہو سکی

صاعقہ حقیقتاً اپنے نام کی طرح بجلی مانند تھی

وہ اسے کبھی بھلا نہیں پایا، اس نے قربان شاہ سے مشورے لینا اور ان کے دفتر جا کر ملنا زیادہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کی شادیاں کیں اور انہیں خود پر ترجیح دیتا رہا

اور اس ترجیح کے پسِ پردہ شاید کہیں صاعقہ شاہ کا وجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                               ..............


بیٹا یہ لڑکی تو اچھی ہے، پر مجھے مسز قربان نے کل پھر فون کیا تھا کھانے پر بلایا ہے

تم بھی چلنا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے دیکھے گئے رشتے پر رائے زنی کرتے ہوئی اسے بتایا 

وہ چائے پی رہا تھا کہ اسے بڑے زور کا اچھو لگا اور چائے اس کے کپڑوں پر اور قالین پر گری 

بس کپ اس سے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا 

اوہو۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا کیا بات ہے طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

الله خیر کرے۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے ذرا تشویش سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔

ارے مختاراں ۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو یہ چائے گری ہے صاف کرو 

بی بی جان نے خادمہ کو آواز دی 

چلو بیٹا یہ کپڑے بدلو 

میں تمہارے لئے اور چائے بنواتی ہوں

بی بی جان نے سبحان سے کہا 

نہیں نہیں بس ٹھیک ہے آپ چائے رہنے دیجئے 

وہ بی بی جان سے کہتا ہوا اٹھ گیا 

اب تو پانی نگلنا بھی دشوار لگنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

وہ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ آفس بیٹھا تھا

فون بجنے لگا 

السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جیتے رہو ، خوش رہو ۔۔۔۔۔

بی بی جان نے سلام کے جواب میں اسے دعاؤں سے نوازا 

بیٹا وہ مسز قربان کی طرف جانا تھا 

تم آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے اسے یاد دلایا 

نہیں بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ذرا ایک ہنگامی میٹنگ میں شرکت کو جا رہا ہوں اور ہو آئیے میرا سلام دیجئے گا 

اس نے جلدی سے سوچا سمجھا بہانہ بنایا 

ارے بیٹا میں نے کل سے کہہ رکھا تھا تمہیں۔۔۔۔

بی بی جان نے ذرا زور دیا 

بی بی جان اب یہ کاروباری معاملات تو وقت بے وقت ہی ہوا کرتے ہیں 

آپ سمجھا کریں نا 

آپ ہو آئیے میں پھر کسی دن آپ کے ہمراہ چکر لگا لوں گا 

اس نے ٹالتے ہوئے کہا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فون بند ہوا تو وہ کرسی کی پُشت سے ٹیک لگائے پیشانی مسلنے لگا 

اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی سانس رک رک کر آ رہی ہو چلتے اے سی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس نے کھڑکی کھول کر گرم ہوا کے جھونکوں میں گہرے گہرے سانس لئیے

مگر جیسے اس کا دل اسے مسلسل کچوکے لگا رہا تھا 

اس نے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھا چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ خود حیران رہ گیا 

اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے 

جانے اس کاکا خود پر سے اختیار ختم ہونے لگا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات گئے گھر لوٹا تو بی بی جان لان میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہی تھیں 

السلام عليكم بی بی جان  ۔۔۔۔۔

اس نے آ کر بڑے ادب سے سلام کیا بی بی جان کا ہاتھ چوما 

اور سنائیں بی بی جان کیسی رہی مسز قربان سے ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔

اس بظاہر خوش مزاجی سے مگر اندر سے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔

ہاں الحمدلله بہت اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے بنتِ قربان نے اس قدر خوش ذائقہ پکوان بنا رکھے تھے کہ مت پوچھو 

ارے مجھے تو تمہاری خالہ مرحوم یاد آ گئیں 

کس قدر لذت و ذائقہ ہے اس کے ہاتھوں میں بھئی ماشاءالله ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان تو گویا صاعقہ کی تعریفوں میں زمین و آسماں ایک کر دینے کے موڈ میں تھیں

اچھا تو پھر کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔۔۔

بلآخر سبحان نے دل مضبوط کر کے وہ سوال پوچھ ہی لیا جس کے جواب سے اس کا دل ڈر رہا تھا 

ہاں بھئی وہ تو بہت اصرار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔

البتہ اپنے وہاج کو بھی لڑکی بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

سبحان نے چونکتے ہوئے پوچھا

ارے بھائی انہوں نے تصویر بھیجی ہے 

بی بی جان نے تپائی سے لفافہ اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا 

اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ تھاما مگر اسے کھولنے کی ہمت نہ ہوئی 

آٹھ سالوں سے اس کی بجلی سی چمک لئے آنکھوں کا منظر اس کی ذہن میں ایک مکمل کائنات کی حیثیت رکھتا تھا 

تم دیکھو تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟

بی بی جان نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے بی بی جان آپ کی رائے زیادہ اہم ہے آپ کہئیے 

اس نے چہرے پر بشاشت و شادابی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا 

سبحان تم وہاج کے بڑے بھائی ہو باپ کی طرح ہو تم دیکھو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے سبحان سے کہا

ارے بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! بڑے شاہ ابھی ہمارے ساتھ ہیں

الله انہیں صحت عطا کرے میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا 

مجھے اپنے بھائی وہاج کی خوشی سے بڑھ کر کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ بی بی جان کے پاس گھاس پر بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر کہنے لگا 

ارے بیٹا ۔۔۔۔۔۔!!! رب العالمین تم پر اپنا رحم و فضل کرے تم سا بھائی اور سعادت مند بیٹا سب کو نصیب ہو 

بی بی جان سبحان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگیں

تو پھر میں زوہیب صاحب سے معذرت کر لوں ہم ان کی جانب سے بھی ہو آئے تھے ، وہ بھی ہمارے کسی جواب کے منتظر ہوں گے

سبحان نے سر اُٹھا کے پُوچھا 

ہاں ان سے کہہ دینا 

مسز قربان بس چند ایک روز میں بات پکی کرنے آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے اسے بتایا

ٹھیک ہے بی بی جان جیسے آپ چاہیں ۔۔۔۔۔

اب میں چل کے سوتا ہوں۔۔۔۔

وہ بی بی جان کے پاس سے اٹھ گیا 

اب راتوں کی نیندیں تو اس سے روٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

                               ...........

آج وہاج شاہ کی منگنی کی رسم ادا کی جا رہی تھی 

قربان شاہ صاحب نے بڑی محبت سے وہاج کو نئی گاڑی تحفے میں دی 

مسز قربان نے چاندی کی منقش دیدہ زیب انگوٹھی اور نہایت قیمتی گھڑی تحفتاً دی 

سبحان نے بہت خوشی و شادمانی سے تمام انتظام کیا اور بہت مسرت سے اس مجلس میں شریک ہوا 

اگلے روز ان کی جانب سے بات پکی کرنے جانے کا طے پایا تھا 

مگر عین وقت پر دفتر سے فون آیا کہ چند ایک ضروری کاموں کی بنا پر کچھ کاروباری لوگ سبحان نے ملنے آئے ہیں تو بی بی جان خاصی جزبز ہوئیں مگر کسی طرح سبحان دفتر جانے میں کامیاب ہو ہی گیا

اس نے دفتر میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر فون کر کے تہمینہ خانم کو اپنے دفتر بلایا 

اور انتظار میں ٹہلنے لگا 

دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ جاؤ۔۔۔۔

اس نے اونچی آواز میں کہا 

دروازہ کھلا اور سرو قد گندمی رنگت میں جاذب نقوش کی حامل تہمینہ خانم اندر آئیں 

جی سر ۔۔۔۔۔!!!!

انہوں نے مؤدب لہجے میں کہا اور مؤدب کھڑی رہیں 

میرے لئے کوئی فون آئے، کوئی ملاقاتی آئے کچھ ہو جائے آپ کو صرف اس قدر علم ہے کہ چند کاروباری حضرات کے ساتھ میں میٹنگ میں ہوں 

عمارت کے اس کمرے تک میری اجازت کے بغیر کوئی نہ پہنچے 

اس نے سخت لہجے میں حکم دیا ۔۔۔۔۔۔

جی سر ۔۔۔۔۔۔۔!!!! ایسا ہی ہو گا 

تہمینہ خانم نے مؤدب لہجے میں کہا 

ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔

نجانے آج سبحان کچھ زیادہ ہی بکھرا بکھرا تھا، وہ جان بوجھ کر اکیلا رہنا چاہتا تھا 

وہ صاعقہ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا تھا، وہ اس کے سامنے جانا ہی نہیں چاہتا تھا، وہ فرش پر ٹانگیں پھیلائے خود سے بے نیاز بیٹھا تھا ، اس کا دل چاہ رہا تھا دہاڑیں مار مار کر روئے 

مگر شاید اس کی آواز کہیں گم گئی تھی، وہ خود سے لڑ رہا تھا ، آٹھ سال تک ایک خواب کو پالا تھا اس نے اور وہ ایک خواب بھی پورا نہ دیکھ پایا 

وہ اپنوں کی خوشیاں خریدتے خریدتے اپنی خوشیاں داؤ پر لگا گیا، وہ خوشیاں، وہ لمحے، وہ مناظر جو اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے اب اسے وہ سب کچھ اپنے بھائی پر لٹانا تھا 

وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ نوچ کر پھنکنا چاہ رہا تھا مگر اس کی آنکھیں تو باہر آ سکتیں تھیں وہ خواب اب باہر نہیں آ سکتے تھے 

وہ سب حسرتیں اس کی آنکھوں میں اس کے اندر اس حد تک پیوست ہو چکی تھیں کہ اب وہ انہیں جدا نہیں کر سکتا تھا 

اب اسے سب فنا کرنا تھا 

اس نے ایک لمحے میں کچھ سوچا اور فون اٹھا کر آپریٹر کو گھر فون ملانے کا کہا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ بھیا کب تک لوٹیں گے بی بی جان اتنا انتظار کر کے پھر گئیں ہیں مہمانوں کے ہمراہ ۔۔۔۔

فون اٹھاتے ہی وہاج نے تفتیش شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔

ارے تھوڑا صبر رکھو ۔۔۔۔۔۔ مجھے ذرا دو چار ضروری کاموں سے ایک آدھ دن کیلئے دوبئی جانا پڑ رہا ہے تمہاری بارات تک پہنچ جاؤں گا 

تم بے فکر ہو جاؤ اور بی بی جان کو سنبھال لینا 

ٹھیک ہے السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان نے کچھ مزید سنے کہے بغیر فون رکھ دیا 

جلدی جلدی دراز سے ضروری کاغذات نکالے اور ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سبحان شاہ صاحب گھر کے بڑے بیٹے ہیں۔۔۔۔۔۔

گھر میں تین چھوٹے بھائی موجود ہیں دو کی شادی ہو چکی جبکہ ایک کیلئے رشتہ دیکھنے آج جانا ہے

سب تیاریوں میں لگے ہیں ،والدہ کے ہمراہ سبحان نے بڑے شاہ جی (ابا جی) کے پاس جا کر ان کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے کہا دعا کیجئے گا 

سبحان کے والد عرصہءِ دراز سے صاحبِ فراش تھے

سبحان سب سے بڑا تھا تو یہ ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ پڑی

چھوٹی سی عمر سے ہی چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھتے رکھتے وہ اپنا خیال رکھنا بھول گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان میں نے گاڑی سٹارٹ کر دی ہے آ جائیے

سبحان نے آہستہ سے بی بی جان (والدہ) سے کہا

اچھا بیٹا آرہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان بڑے دھیمے اور محتاط انداز میں گاڑی چلا رہا تھا

بڑی خاموشی سی تھی

بیٹا وہ اپنے قربان شاہ صاحب کی جانب جانا ہوا تمہارا ۔۔۔۔۔؟؟؟

بی بی جان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا

جی چند دن ہوئے ملاقات ہوئی تھی

سبحان نے مختصر سا جواب دیا

بنتِ قربان سے بھی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

بی بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا

جی۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی دیکھا تھا

سبحان نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا

قربان صاحب نے مجھ سے تمہارے چھوٹے بھائی کے بارے میں رشتے کی بات کی تھی اپنی صاحبزادی کیلئے۔۔۔۔۔۔

سبحان کا حلق تک کڑوا ہو گیا

اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے منہ سے بس اس قدر ہی نکل سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکلوتی بیٹی ہے ان کی ،اور انہوں بڑی شدومد سے مجھ سے استفسار کیا تھا

بی بی جان اسے بتا رہی تھیں

مگر نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جا رہا ہو

وہ بس خاموشی سے سنتا گیا

۔۔۔۔۔۔۔

                            ...................

آٹھ سال قبل۔۔۔۔۔۔

سبحان روزانہ کی طرح جلدی جلدی کام سے فارغ ہو کر یونیورسٹی پہنچا

اور ہمیشہ کی طرح پہلا لیکچر چھوٹ چکا تھا

وہ اپنے ہم جماعتوں سے بے نیاز جونئیر کلاس کے سامنے کھڑا تھا

وہ پچھلے تین سالوں سے اپنے سے تین سال جونئیر کلاس کے باہر عین پہلے لیکچر کے اختتام پر کھڑا ہوتا

اور کلاس کے طلبا کے باہر نکلتے ہی بس ایک چہرے کو غور سے دیکھا کرتا

اور ان کے چلے جانے پر اپنی کلاس لے کر واپس اپنے ہوٹل چلا جایا کرتا

شہر کے کاروباری علاقے کے مرکز میں یہ ہوٹل بڑے شاہ جی کی محنت کا شاہ کار تھا

اور سبحان ایک سعادت مند بیٹے کی مانند اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس ہوٹل کے تمام انتظام و انصرام دیکھا کرتا تھا

وہ روز پہلا لیکچر جان بوجھ کر چھوڑ دیا کرتا تھا

فقط اس لڑکی کی خاطر جو بہت چھوئی موئی سی، نازک کلیوں کی طرح، آنکھوں میں آفتابی چمک لئے چہرہ چھپائے اس کے قریب سے گزر جایا کرتی تھی

وہ بس روز ایک امید لے کر آتا تھا کہ کبھی تو بس ایک نظر اٹھا کر وہ اجنبی نظروں سے ہی سہی، بس اسے دیکھ لے

مگر وہ تو نجانے کس قصرِ فروزاں کی شہزادی تھی عجب بے نیازی سے گزر جایا کرتی تھی

یہ سبحان کا آخری سال تھا

اور اس کا دل جیسے روز کوئی جکڑ لیتا تھا

وہ چاہتا تھا ایک بار صرف ایک بار وہ اس نازک اندام کو پکارے

مگر روز اس کی قوتِ گویائی اس کا ساتھ چھوڑ دیا کرتی تھی اور سبحان کسی لٹے ہوئے مسافر کی طرح واپس لوٹ جایا کرتا تھا

اس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا جب اس نے ٹھان لیا کہ آج اس لڑکی سے بات کر ہی لے گا

وہ جماعت کے دروازے پر کھڑا انتظار کر رہا تھا

ستمبر کی خنک ہوا میں بھی اسے پسینے آرہے تھے اس کا محض چند منٹوں کا انتظار اس پر جیسے صدیوں سے گراں گزر رہا تھا

بلآخر اسے اس کا زیرِنقاب چہرہ نظر آیا چہرہ کیا فقط آنکھیں نظر آیا کرتی تھیں جو سبحان کو چہرے بھی زیادہ مکمل دکھائی دیا کرتی تھیں

وہ سبحان کے سامنے سے گزر گئی اور اس کے دور جانے پر اسے احساس ہوا تو اس نے اپنے حواس مجتمع کئے، جی کڑا کر اس کے پیچھے چلنے لگا

آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے کنارے سے مڑتے ہوئے اردگرد کسی کی غیرموجودگی ایک شخص کا پیچھا کرنا محسوس کر کے وہ مڑی اور سبحان کے سارے مجتمع حواس بکھر سے گئے

وہ تمام الفاظ جو اس نے کئی روز سے سوچ رکھے تھے

ہوٹل کے دفتر میں بارہا بار دہرا رکھے تھے، سب بھول گئے

اس کا چہرہ سرخ ہو گیا

کیا مسئلہ ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں ؟؟؟ ؟

شکل سے تو شریف زادے لگتے ہیں! !

اس لڑکی نے اچانک سے مڑ کر اس قدر سخت لہجے میں کہا کہ سبحان گڑبڑا گیا

نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو انگلش ڈیپارٹمنٹ جا رہا تھا

سبحان کو اور تو کچھ نہ سوجھی تو اچانک سے اس کے منہ سے انگلش ڈیپارٹمنٹ نکل گیا

جناب ذرا آنکھوں کا علاج کروائیں۔۔۔۔۔۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ آپ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں یہ یونیورسٹی کا آخری ڈیپارٹمنٹ ہے

آپ کو شاید بھول جانے کی بیماری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس لڑکی نے استہزائیہ انداز میں کہا

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان گھبرا گیا

گھبراہٹ میں اسے محل وقوع کا بلکل خیال نہ رہا

آپ پچھلے تین سالوں سے یہی کچھ کر رہے ہیں ، بلا ناغہ میری جماعت کے سامنے آپکا کیا کام ہوتا ہے

آپ سنئیر ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ من چاہی حرکات کرنے لگیں

میں تو آپ کو ذاتی طور پر جانتی تک نہیں

خدارا میری جان چھوڑ دیجئے

سبحان شرمندہ شرمندہ سا بس کھڑا تھا

وہ لڑکی اتنا کہہ کر پلٹ کر جانے لگی تو سبحان اچانک سے بولا

بس اپنا تعارف کرواتی جائیے پلیز

میں دوبارہ کبھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔۔۔۔۔

سبحان اپنی اس جرأت پر خود حیران تھا

وہ پلٹی

اور سبحان کو گھورنے لگی

سبحان نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں

میرا نام صاعقہ شاہ ہے اور میں قربان شاہ کی بیٹی ہوں

دوبارہ کبھی میرے راستے میں کھڑے نظر آئے تو تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا

بے حد سخت لہجے میں کہہ کر وہ پلٹی اور چلتی گئی

سبحان حق دق کھڑا رہ گیا

قربان شاہ سے اس کے کاروباری مراسم تھے

اور بڑے شاہ جی کے پرانے واقف کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن کے بعد وہ نہ یونیورسٹی گیا اور نہ کبھی اس کی ہمت ہی ہو سکی

صاعقہ حقیقتاً اپنے نام کی طرح بجلی مانند تھی

وہ اسے کبھی بھلا نہیں پایا، اس نے قربان شاہ سے مشورے لینا اور ان کے دفتر جا کر ملنا زیادہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کی شادیاں کیں اور انہیں خود پر ترجیح دیتا رہا

اور اس ترجیح کے پسِ پردہ شاید کہیں صاعقہ شاہ کا وجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                               ..............


بیٹا یہ لڑکی تو اچھی ہے، پر مجھے مسز قربان نے کل پھر فون کیا تھا کھانے پر بلایا ہے

تم بھی چلنا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے دیکھے گئے رشتے پر رائے زنی کرتے ہوئی اسے بتایا 

وہ چائے پی رہا تھا کہ اسے بڑے زور کا اچھو لگا اور چائے اس کے کپڑوں پر اور قالین پر گری 

بس کپ اس سے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا 

اوہو۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا کیا بات ہے طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

الله خیر کرے۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے ذرا تشویش سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔

ارے مختاراں ۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو یہ چائے گری ہے صاف کرو 

بی بی جان نے خادمہ کو آواز دی 

چلو بیٹا یہ کپڑے بدلو 

میں تمہارے لئے اور چائے بنواتی ہوں

بی بی جان نے سبحان سے کہا 

نہیں نہیں بس ٹھیک ہے آپ چائے رہنے دیجئے 

وہ بی بی جان سے کہتا ہوا اٹھ گیا 

اب تو پانی نگلنا بھی دشوار لگنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

وہ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ آفس بیٹھا تھا

فون بجنے لگا 

السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جیتے رہو ، خوش رہو ۔۔۔۔۔

بی بی جان نے سلام کے جواب میں اسے دعاؤں سے نوازا 

بیٹا وہ مسز قربان کی طرف جانا تھا 

تم آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے اسے یاد دلایا 

نہیں بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ذرا ایک ہنگامی میٹنگ میں شرکت کو جا رہا ہوں اور ہو آئیے میرا سلام دیجئے گا 

اس نے جلدی سے سوچا سمجھا بہانہ بنایا 

ارے بیٹا میں نے کل سے کہہ رکھا تھا تمہیں۔۔۔۔

بی بی جان نے ذرا زور دیا 

بی بی جان اب یہ کاروباری معاملات تو وقت بے وقت ہی ہوا کرتے ہیں 

آپ سمجھا کریں نا 

آپ ہو آئیے میں پھر کسی دن آپ کے ہمراہ چکر لگا لوں گا 

اس نے ٹالتے ہوئے کہا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فون بند ہوا تو وہ کرسی کی پُشت سے ٹیک لگائے پیشانی مسلنے لگا 

اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی سانس رک رک کر آ رہی ہو چلتے اے سی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس نے کھڑکی کھول کر گرم ہوا کے جھونکوں میں گہرے گہرے سانس لئیے

مگر جیسے اس کا دل اسے مسلسل کچوکے لگا رہا تھا 

اس نے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھا چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ خود حیران رہ گیا 

اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے 

جانے اس کاکا خود پر سے اختیار ختم ہونے لگا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات گئے گھر لوٹا تو بی بی جان لان میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہی تھیں 

السلام عليكم بی بی جان  ۔۔۔۔۔

اس نے آ کر بڑے ادب سے سلام کیا بی بی جان کا ہاتھ چوما 

اور سنائیں بی بی جان کیسی رہی مسز قربان سے ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔

اس بظاہر خوش مزاجی سے مگر اندر سے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔

ہاں الحمدلله بہت اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے بنتِ قربان نے اس قدر خوش ذائقہ پکوان بنا رکھے تھے کہ مت پوچھو 

ارے مجھے تو تمہاری خالہ مرحوم یاد آ گئیں 

کس قدر لذت و ذائقہ ہے اس کے ہاتھوں میں بھئی ماشاءالله ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان تو گویا صاعقہ کی تعریفوں میں زمین و آسماں ایک کر دینے کے موڈ میں تھیں

اچھا تو پھر کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔۔۔

بلآخر سبحان نے دل مضبوط کر کے وہ سوال پوچھ ہی لیا جس کے جواب سے اس کا دل ڈر رہا تھا 

ہاں بھئی وہ تو بہت اصرار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔

البتہ اپنے وہاج کو بھی لڑکی بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

سبحان نے چونکتے ہوئے پوچھا

ارے بھائی انہوں نے تصویر بھیجی ہے 

بی بی جان نے تپائی سے لفافہ اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا 

اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ تھاما مگر اسے کھولنے کی ہمت نہ ہوئی 

آٹھ سالوں سے اس کی بجلی سی چمک لئے آنکھوں کا منظر اس کی ذہن میں ایک مکمل کائنات کی حیثیت رکھتا تھا 

تم دیکھو تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟

بی بی جان نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے بی بی جان آپ کی رائے زیادہ اہم ہے آپ کہئیے 

اس نے چہرے پر بشاشت و شادابی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا 

سبحان تم وہاج کے بڑے بھائی ہو باپ کی طرح ہو تم دیکھو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے سبحان سے کہا

ارے بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! بڑے شاہ ابھی ہمارے ساتھ ہیں

الله انہیں صحت عطا کرے میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا 

مجھے اپنے بھائی وہاج کی خوشی سے بڑھ کر کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ بی بی جان کے پاس گھاس پر بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر کہنے لگا 

ارے بیٹا ۔۔۔۔۔۔!!! رب العالمین تم پر اپنا رحم و فضل کرے تم سا بھائی اور سعادت مند بیٹا سب کو نصیب ہو 

بی بی جان سبحان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگیں

تو پھر میں زوہیب صاحب سے معذرت کر لوں ہم ان کی جانب سے بھی ہو آئے تھے ، وہ بھی ہمارے کسی جواب کے منتظر ہوں گے

سبحان نے سر اُٹھا کے پُوچھا 

ہاں ان سے کہہ دینا 

مسز قربان بس چند ایک روز میں بات پکی کرنے آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جان نے اسے بتایا

ٹھیک ہے بی بی جان جیسے آپ چاہیں ۔۔۔۔۔

اب میں چل کے سوتا ہوں۔۔۔۔

وہ بی بی جان کے پاس سے اٹھ گیا 

اب راتوں کی نیندیں تو اس سے روٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

                               ...........

آج وہاج شاہ کی منگنی کی رسم ادا کی جا رہی تھی 

قربان شاہ صاحب نے بڑی محبت سے وہاج کو نئی گاڑی تحفے میں دی 

مسز قربان نے چاندی کی منقش دیدہ زیب انگوٹھی اور نہایت قیمتی گھڑی تحفتاً دی 

سبحان نے بہت خوشی و شادمانی سے تمام انتظام کیا اور بہت مسرت سے اس مجلس میں شریک ہوا 

اگلے روز ان کی جانب سے بات پکی کرنے جانے کا طے پایا تھا 

مگر عین وقت پر دفتر سے فون آیا کہ چند ایک ضروری کاموں کی بنا پر کچھ کاروباری لوگ سبحان نے ملنے آئے ہیں تو بی بی جان خاصی جزبز ہوئیں مگر کسی طرح سبحان دفتر جانے میں کامیاب ہو ہی گیا

اس نے دفتر میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر فون کر کے تہمینہ خانم کو اپنے دفتر بلایا 

اور انتظار میں ٹہلنے لگا 

دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ جاؤ۔۔۔۔

اس نے اونچی آواز میں کہا 

دروازہ کھلا اور سرو قد گندمی رنگت میں جاذب نقوش کی حامل تہمینہ خانم اندر آئیں 

جی سر ۔۔۔۔۔!!!!

انہوں نے مؤدب لہجے میں کہا اور مؤدب کھڑی رہیں 

میرے لئے کوئی فون آئے، کوئی ملاقاتی آئے کچھ ہو جائے آپ کو صرف اس قدر علم ہے کہ چند کاروباری حضرات کے ساتھ میں میٹنگ میں ہوں 

عمارت کے اس کمرے تک میری اجازت کے بغیر کوئی نہ پہنچے 

اس نے سخت لہجے میں حکم دیا ۔۔۔۔۔۔

جی سر ۔۔۔۔۔۔۔!!!! ایسا ہی ہو گا 

تہمینہ خانم نے مؤدب لہجے میں کہا 

ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔

نجانے آج سبحان کچھ زیادہ ہی بکھرا بکھرا تھا، وہ جان بوجھ کر اکیلا رہنا چاہتا تھا 

وہ صاعقہ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا تھا، وہ اس کے سامنے جانا ہی نہیں چاہتا تھا، وہ فرش پر ٹانگیں پھیلائے خود سے بے نیاز بیٹھا تھا ، اس کا دل چاہ رہا تھا دہاڑیں مار مار کر روئے 

مگر شاید اس کی آواز کہیں گم گئی تھی، وہ خود سے لڑ رہا تھا ، آٹھ سال تک ایک خواب کو پالا تھا اس نے اور وہ ایک خواب بھی پورا نہ دیکھ پایا 

وہ اپنوں کی خوشیاں خریدتے خریدتے اپنی خوشیاں داؤ پر لگا گیا، وہ خوشیاں، وہ لمحے، وہ مناظر جو اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے اب اسے وہ سب کچھ اپنے بھائی پر لٹانا تھا 

وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ نوچ کر پھنکنا چاہ رہا تھا مگر اس کی آنکھیں تو باہر آ سکتیں تھیں وہ خواب اب باہر نہیں آ سکتے تھے 

وہ سب حسرتیں اس کی آنکھوں میں اس کے اندر اس حد تک پیوست ہو چکی تھیں کہ اب وہ انہیں جدا نہیں کر سکتا تھا 

اب اسے سب فنا کرنا تھا 

اس نے ایک لمحے میں کچھ سوچا اور فون اٹھا کر آپریٹر کو گھر فون ملانے کا کہا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ بھیا کب تک لوٹیں گے بی بی جان اتنا انتظار کر کے پھر گئیں ہیں مہمانوں کے ہمراہ ۔۔۔۔

فون اٹھاتے ہی وہاج نے تفتیش شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔

ارے تھوڑا صبر رکھو ۔۔۔۔۔۔ مجھے ذرا دو چار ضروری کاموں سے ایک آدھ دن کیلئے دوبئی جانا پڑ رہا ہے تمہاری بارات تک پہنچ جاؤں گا 

تم بے فکر ہو جاؤ اور بی بی جان کو سنبھال لینا 

ٹھیک ہے السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبحان نے کچھ مزید سنے کہے بغیر فون رکھ دیا 


جلدی جلدی دراز سے ضروری کاغذات نکالے اور ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔





سفرِآگہی©

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...