الفاظ لکھے جاتے ہیں مگر لہجے، جذبات اور احساسات لکھنا ناممکن ہوا کرتا ہے
الفاظ لکھ دینے سے عمومی تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ لکھا گیا جملہ یا تحریر پڑھنے والا سمجھ پائے گا
مگر
بعض اوقات لکھی گئی تحریر میں الفاظ کا ابہام انسان کو لکھی گئی تحریر کا موضع و مقصد سمجھنے میں الجھن در پیش ہو جاتی ہے
جس سے تحریر کے اغراض و مقاصد بہت مختلف ہو جایا کرتے ہیں
یہ سب لکھنے والے کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ تحریر کس نظریے و سوچ سے پڑھ رہا ہے اور زیرِ نظر تحریر کس کی ہے
انسان الفاظ کو جذبات سے ہمیشہ جدا کرتا ہے لکھی گئی ہزار ہا کتابوں کو جذبات و احساسات سے جدا کرنا کسی کے بس کی بات نہیں
کیونکہ ہر حرف ،لفظ، جملہ اور سطر کسی نہ کسی سوچ و جذبے کے تحت ہی لکھی جاتی ہے
مگر
الفاظ کو یقین و اعتماد سے پڑھ کر سمجھنا بہت کم لوگ جانتے ہیں
الفاظ سے شناسائی بہت اذیت ناک ہوا کرتی ہے اور بعض اوقات تو انسان کی شخصیت تک کو الجھا دیا کرتی ہے
الفاظ سے شناسا شخص صرف الفاظ تک محدود رہ جاتا ہے پھر اسے لہجے، رویے اور اظہار سے کوئی سروکار نہیں رہتا
وہ بس الفاظ کی گہرائی جانچتا ہے اور کہنے والے کے چناؤ پر نظر رکھتا ہے اور باقی تمام تر روئیات کو بس انہیں میں تولتا ہے
کہئے، لکھئے اور پڑھئیے مگر یقین و اعتماد کے ساتھ، کوشش کیجئے لکھنے ،کہنے والے کے الفاظ کا چناؤ اور اس کی الفاظ سے وابستگی کو مدِنظر رکھئے
اور اس سے بھی اہمیت کا حامل آپ کا اور اس کا تعلق ،رشتہ ،وابستگی زیادہ اہم ہے
کیونکہ انہی الفاظ سے رشتوں میں چاہتیں رہتی ہیں اور ان ہی کی ادائیگی سے ان میں رنجشیں و دراڑیں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدائے بزرگ و برتر ہدایت سے سرفراز کرے اور ہمارا حامی و ناصر ہو
آمین
No comments:
Post a Comment