نمرہ کی سسکیوں کی آواز دروزے کے دوسری طرف صاف سنائی دے رہی تھی، آج پھر سے اسکی خوشگوار زندگی کی ایک اُداس رات تھی۔
نمرہ ایک ادنیٰ درجے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، اکلوتی ہونے کے باعث مکمل توجہ اور بے تحاشہ لاڈ پیار کے باعث کافی ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضدی بھی تھی، بچپن سے نوجوانی تک کا سفر خوشگوار طریقے سے گزارا، مگر نوجوانی میں اس کی زندگی کا ایک ایسا باب کھلا کہ اس کی تمام ضد دھری کی دھری رہ گئی، ہاں وہ کالج پڑھتی تھی جب وجیہہ سے اس کی ملاقات ہوئی اور پھر ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔
اس کے ساتھ ہوتی تو وہ ہر چیز بھول جایا کرتی تھی۔ اس کیلئے اپنی ہر ضد کو نیچا دکھاتی، ہر وہ کام کرتی کہ جو وجیہہ کو پسند ہو، وجیہہ بھی اس کے ساتھ اچھا محسوس کرتا۔
نمرہ کیلئے شاید اس کے بغیر کچھ سوچنا بھی محال تھا، وہ سب کچھ بھول سکتی تھی مگر وجیہہ ! یہ ناممکن لگتا تھا مگر شاید اس کی یہ خوشیاں قدرت کو راس نہ آسکیں یا شاید وجیہہ اس بے لوث محبت کے قابل نہ تھا، بس ایک دن وجیہہ جو گیا تو پھر اس کا کوئی پتہ نہ چلا، اس نے نمرہ کے اپنے تک آنے والا ہر راستہ بند کردیا۔ نمرہ کو بے بس کردیا تھا وجیہہ نے۔
اور نمرہ ۔۔۔ ! اس کی زندگی میں تو اچانک سے ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی تھی، سب کچھ اندھیر ہوگیا، اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وجیہہ ایسا بھی کرسکتا ہے ؟؟ اور رسوائی و بدنامی کا داغ الگ سے آن موجود ہوا، وہ زندگی کے اس غم و اندوہ کے پہاڑ میں جاگری، جہاں ہر طرف اسے اندھیرا ہی نظر آتا تھا، وہ مایوس ہوچکی تھی۔
جب کبھی آئینہ دیکھتی تھی تو اسے وجیہہ کو ہر لفظ یاد آتا تھا اور پھر آنسو بے مہر اسکے گالوں کو دھو جاتے تھے، لیکن زندگی کی تاش میں ایک بازی موجود تھی۔
احمر۔۔۔
وہ اپنے ماں باپ کا چہیتا بیٹا تھا اور افضل صاحب تو ویسے بھی نمرہ کے والد کے بچپن کے دوست تھے، افضل صاحب نے ایک دن نمرہ کے والد سے کہا کہ کیوں نہ دوستی کو رشتہ داری میں بدلیں۔ زندگی کے اس موڑ پر دوستی کو عزت بخشیں۔ ابھی یہ معاملات چل رہے تھے اور نمرہ کی اُداسی بھی اب چھٹنے لگی تھی اسے اپنی محبت پر پشیمانی تھی، حسب عادت نمرہ صبح ناشتے کے بعد لاؤنج میں چائے کی چسکیاں لے رہی تھی، اچانک سے اماں نے کہا چلو شاپنگ کیلئے چلتے ہیں، وہ حیران و پریشان سی بدقتِ تمام اماں کے ساتھ شاپنگ کیلئے چل دی۔
اچھی خاصی شاپنگ کے بعد وہ واپسی کیلئے بس سٹینڈ کی طرف بڑھ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اماں سے ہونے والی اچانک شاپنگ کی وجہ جاننا چاہ رہی تھی، جیسے ہی وہ بس سٹینڈ پر پہنچی اسے وہ چہرہ دکھائی دیا، حزن و ملال میں ڈوبا۔
ہاں، وہ وجیہہ ہی تھا، اس کا دل تڑپ اُٹھا، آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو بے تاب ہونے لگے، اس نے منہ پھیر لیا، وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی، گھر آکر وہ تھکاوٹ کا بہانہ بناکر بہت دیر تک روتی رہی، اگلے دن اسکا دل چاہا وہ وجیہہ کو فون کرے مگر دماغ اب بھروسہ نہیں کررہا تھا اور دل تڑپ رہا تھا۔
اس شام اماں نے زبردستی اسے نیا کام دار سوٹ پہناکر تیار کیا اور ہلکے میک اپ کے ساتھ اسے آرام سے بیٹھنے کو کہہ کر اماں کچن میں کام کرنے چلی گئیں۔
نمرہ کو بے چینی نے آگھیرا، اک عجب گھبراہٹ طاری ہونے لگی، اس نے اماں سے پوچھا، تو اماں کہنے لگیں کہ تمہارے افضل چچا کی دعوت ہے آج۔
شام ہوئی، مہمان آپہنچے۔۔۔، اماں نے بیٹھتے ہی اسے چائے لانے کو کہا وہ چائے سرو کرنے لگی کہ افضل چچا کی بیگم نے نمرہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا ۔۔۔ اور بڑے چاؤ سے اماں سے کہا کہ آج سے یہ ہماری بیٹی ہے، اسے ہم احمر کی دُلہن بنائیں گے، یہ الفاظ گویا سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جیسے نمرہ کے دماغ میں ایٹم بم سے بھی بھیانک دھماکے کرگئے۔
وہ تو اپنا دل کسی اور کو سونپ چکی تھی اور وہ بھی ایک ایسے شخص کو جو صرف جسم کا طلبگار تھا، جسے اسکی عزت سے اس کی خود داری سے اعتماد سے کوئی سروکار نہ تھا، مگر پھر بھی نمرہ کے تمام تر جذبات اسی کے نام تھے، مگر زندگی کے اس موڑ پر وہ کیا کرے، اس کا دل بار بار بغاوت پر اُکسا رہا تھا، اس کی بے چینی بڑھ رہی تھی، مگر اس نے ماضی کا پچھتاوا اپنی پشیمانی سب دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے احمر کی عزت قبول کی، ان کی شادی بڑی دُھوم دھام سے ہوئی تھی، سب کچھ جیسے خواب سا تھا اور آج ایک عرصہ گزرنے کے بعد اب وہ ماں بن چکی، ایک خاندان بنا چکی ۔
مگر۔۔۔!
اسے کبھی کسی چیز کی خواہش نہ ہوئی نہ کبھی کسی کی ضرورت محسوس ہوئی، اب تمام جذبات سرد پڑگئے تھے، مگر دل میں اِک کسک سے اُٹھتی ہے، احمر سویا پڑا ہے مگر نمرہ جاگ رہی ہے، احمر کو کبھی پتہ نہ چل سکا کہ نمرہ رات کو جاگتی بھی ہے اور نمرہ کو کبھی اسے بتانے کی، اسے احساس دلانے کی ضرورت محسوس نہ ہوسکی کیونکہ اس کی محبت راکھ بن چکی تھی جبکہ احمر کی عزت حقیقت عین ہے!
ساحر کے قلم سے
سفرِآگہی©
No comments:
Post a Comment