وفا اور بے رخی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنے سننے والوں سے اکثر یہی تاثر ملتا ہے کہ اعلیٰ ظرفی وہ ہے کہ کوئی آپ سے برا کرے تو اس سے اچھائی کرو، کوئی آپ کو ستائے تو آپ بدلے میں اسے آسانی فراہم کرو ،کوئی آپ کو رلائے تو آپ اس کیلئے باعثِ مسکراہٹ بنو
مگر
لکھنے پڑھنے والے بتلاتے ہیں کہ جو وفا کرے اس پر جان نچھاور کر دو ،اس کی ہمیشہ قدر کرو اسے ساتھ لے کر چلو، اور اس کے قدم سے قدم کندھے سے کندھا ملاؤ
مگر جو وفا کے نام پر دھبا لگائے اور وفا کہہ کر جفا کرے، دھوکہ دے، دغا کرے، کچھ کہہ کر کچھ اور کرے تو ایسے شخص کی جان لینا بھی یوں سمجھیں کہ جیسے کارِثواب ہے
کیونکہ آج آپ ڈسے جا رہے ہیں کل کوئی دوسرا ہو گا تو انسانیت کی رہنمائی و بھلائی اسی میں ہے کہ اس پاجی کو زندہ نہیں رہنا چاہئے
کیونکہ وفائیں اور جفائیں صرف اس انسانی دنیا تک تو محدود نہیں رہتیں
آسمانی و روحانی دنیا جو کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی سے مزین ہے، تو زندگی کوئی بھی ہو رفیق و ہم سفر تو لازم ہیں
تو پھر اس دنیا میں جو لوگ آپ سے وفا نہ کر پائے ان سے حیاتِ عقبیٰ میں کیا امید کہ وہ وہاں آپ کے ساتھ رہنا پسند کریں گے یا نہیں
الغرض اس جہانِ فانی میں بھی رفیق رفقاء ایسے رکھیں کہ جو آپ سے وفا کریں اور راست گو رہیں
اور یہ دنیاوی لوگ ہی تو حیاتِ عقبیٰ بہتر بنانے میں مدد کرتے ،کبھی کہیں نیکی کی جانب لے جاتے تو کبھی بدی سے بچانے آ پہنچتے ہیں
اور درحقیقت یہی لوگ سرمایہءِ حیات ہوا کرتے ہیں
زندگی نظریاتی بنائیے اور حیاتِ عقبیٰ کی فکر کیجئے
خدائے بزرگ و برتر رحمتوں، برکتوں اور آسانیوں سے مرحمت فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو
آمین
No comments:
Post a Comment