گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان شاہ کو دبئی آئے چار دن ہو چلے تھے، اور ان چار دنوں میں بس وہ روتا رہا تھا
عشاء کی نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے وہ بس ہچکیوں سے روئے جا رہا تھا
اس نے کبھی صاعقہ کو حاصل کرنے کی دعا نہیں کی تھی اور آج بھی وہ یہی کر رہا تھا
"اے ربِ ذوالجلال!!! اے کُل کائنات کے خالق..... ہر ذی نفس و روح کی تقدیر لکھنے والے ۔۔۔۔۔
میرے دل کو قرار دے دے ۔۔۔
اے رب العرش العظیم ۔۔۔۔ میرے دل کو قرار دے دے
مجھے اس درد کی کیفیت سے آزادی عطا فرما
اے الله میں تیری رضا میں راضی ہوں
میری روح کو اس سراب سے آزاد کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ دعا مانگے جا رہا تھا اور روئے جا رہا تھا
مسجد سے نکلتے ہوئے اس نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ جو ہو گا رضاءِ خداوندی سے ہو گا
مجھے واپس چلے جانا چاہئیے
اگلے دن وہاج کی بارات تھی، سبحان نے ایجنٹ سے رابطہ کر کے فوری ٹکٹ کروائی اور وہ صبح سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جانا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان صبح ہی صبح جاءِ نماز پر بیٹھی اذکار میں مصروف تھیں، ان کے دل میں عجب وسوسے آ رہے تھے
انہوں نے رات بھی وہاج سے کہا تھا کہ چھوٹے شاہ جی سے کسی طرح رابطہ کرو
لیکن وہاج کا سبحان سے رابطہ نہیں ہو پایا تھا
آج وہاج کی بارات تھی، مہمان سب پہنچ چکے تھے گھر میں زور و شور سے تیاریاں چل رہی تھیں
سب خوشی سے چہک رہے تھے بس ایک بی بی جان بار بار آنکھوں کو رگڑ رگڑ کر خشک کر رہی تھیں کہ مبادا کوئی ان کے آنسو نہ دیکھ لے
سب ناشتے سے فارغ ہو کر اب بارات کے وقت کا انتظار کر رہے تھے
وہاج شیروانی میں ملبوس، خوشنما کلاہ پہنے بی بی جان کے سامنے آ کھڑا ہوا
لیجئے بی بی جان ۔۔۔!!! ہم بھی تیار کھڑے ہیں
بی بی جان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
انہوں کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، ماتھا چوما
بی بی جان آنکھیں بند کئے زیرِلب دعائیں پڑھ رہی تھیں
کہ اچانک سے وہاج کا موبائل بجنے لگا
بی بی جان کے ہونٹ پھڑپھڑائے، انہیں آج موبائل کی آواز بہت اونچی لگی، کچھ اس قدر کے ان کا دل جیسے مُٹھی میں آ گیا ہو
وہاج نے عجلت میں فون اُٹھایا
جی السلام عليكم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے سلام کے جواب کے بعد کچھ کہا گیا
وہاج کے رنگ اُڑ گئے، اس سے کچھ دیر بولا نہ گیا
بدقت اس نے خود کو سنبھال کر چہرے پر بشاشت لانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا
اچھا ۔۔۔۔۔۔!!!! کب، کس جگہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ابھی کہاں ہیں؟؟؟؟؟؟؟
اور فوراً سے کلاہ اُتار کر پاس کھڑے عم زاد کو پکڑا کر گیر کی طرف بڑھنے لگا
بی بی جان آنسوؤں سے تربتر چہرے سے دیوانوں کی مانند اس کے پیچھے لپکیں
اسے پلٹا کر پوچھا کیا ہوا۔۔۔؟؟؟؟؟
کہاں جا رہے ہو؟؟؟؟؟
سبحان کا فون تھا۔؟؟؟؟؟؟
کہاں ہے وہ؟؟؟؟
تم کہاں جا رہے ہو؟؟؟؟؟
کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟؟ کچھ بتاتے کیوں نہیں؟؟؟؟
بی بی جان نے اٹکتے الفاظ میں ہچکیوں سے روتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کر دی
وہاج کا ضبط چھوٹ گیا آنسو اس کی آنکھوں کے بند توڑ کے بہنے لگے
بی بی جان!!! چھوٹے شاہ جی نہیں رہے۔۔۔۔۔
وہاج نے انہیں اپنے بازوؤں میں بھینچ کر لرزتے ہونٹوں سے اپنی آواز کی لرزاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بتایا
بی بی جان سے یہ الفاظ برداشت نہ ہو پائے، وہ وہیں وہاج کی بانہوں میں جھول گئیں
گھر میں اک کہرام سا مچ گیا
وہاج نے بی بی جان کو اُٹھا کر تخت پر لٹایا، کوئی پانی لایا کسی نے وہاج کو گلے لگایا
اک عجب رنج و الم کی فضا تھی۔۔۔۔۔
وہاج کیلئے سبحان صرف چھوٹے شاہ جی یا بڑا بھائی نہ تھا وہ تو اس کیلئے باپ کی طرح تھا
اس گھر کا سہارا تھا
بڑے شاہ جی کو تو کچھ بولے ہوئے بھی اک عرصہ گزر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان شاہ نے جاتے ہوئے فون پر کہا تھا
وہاج میں تیری بارات پر پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ بارات پر تو پہنچ گئے تھے
آج چھوٹے شاہ جی، سید سبحان فیروز علی شاہ کا جنازہ تھا
ان کی موت ایک کار حادثے میں اپنے دفتر سے گھر جاتے ہوئے صبحِ کاذب سے کچھ پہلے ہوئی تھی
وقت کے ساتھ غم ہلکا ہو جایا کرتا ہے، وقت بہت بڑا مرہم ہے
مرحوم اسی رات دبئی سے اپنے کاروباری دورے کے بعد واپس آئے تھے
آخری دیدار کرنے والوں نے اس کے چہرے پر سکون اور مسرت آمیز مسکان محسوس کی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاج کی شادی کو چار سال گزر چکے اب تو ماشاء الله دو بچے بھی ہیں
سارا دن بی بی جان سے کھیلتے اور بی بی جان کا دل بہلایا کرتے
یہیں کھڑے رہنا ہے یا ناشتے کیلئے بھی آئیں گے جناب۔۔۔۔
صاعقہ نے وہاج کو برآمدے میں چھوٹے شاہ کی تصویر کے آگے کھڑے دیکھا تو آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا اچھا ہوتا نا صاعقہ۔۔۔۔۔۔!!!
آج چھوٹے شاہ جی ہمارے ساتھ ہوتے ۔۔۔۔
وہاج نے نم لہجے میں کہا
صاعقہ کا جی کٹ گیا اس بات پر ۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں وہ ان کی مجرم تھی، اس نے آہستگی سے کہا
ہاں۔۔۔!!! گھر کے بڑے نہ ہوں تو کتنا عجیب لگتا ہے نا، کیا وہ بھی آپ کی طرح سنجیدہ مزاج تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
چھوٹے شاہ جی کو اس قدر قریب سے جاننے کے باوجود وہ ان سے شناسائی سے کتنی مہارت سے انکاری تھی
نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔
سبحان بھیا تو ہر محفل کی جان ہوا کرتے تھے، انتہائی خوش اخلاق، ہروقت ہر بات میں مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے وہاج کیا کچھ کہے جا رہا تھا چھوٹے شاہ جی کے بارے میں اور صاعقہ ہر آواز سے بے نیاز بس تصویر میں سبحان کی گہری، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں دیکھے جارہی تھی
اور بار بار اس کی اپنی نظر آنسوؤں سے دھندلا جاتی تھی
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا تھا اور وہ دونوں وہیں کھڑے تھے۔۔۔۔۔
ختم شد
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment