سبحان شاہ صاحب گھر کے بڑے بیٹے ہیں۔۔۔۔۔۔
گھر میں تین چھوٹے بھائی موجود ہیں دو کی شادی ہو چکی جبکہ ایک کیلئے رشتہ دیکھنے آج جانا ہے
سب تیاریوں میں لگے ہیں ،والدہ کے ہمراہ سبحان نے بڑے شاہ جی (ابا جی) کے پاس جا کر ان کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے کہا دعا کیجئے گا
سبحان کے والد عرصہءِ دراز سے صاحبِ فراش تھے
سبحان سب سے بڑا تھا تو یہ ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ پڑی
چھوٹی سی عمر سے ہی چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھتے رکھتے وہ اپنا خیال رکھنا بھول گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان میں نے گاڑی سٹارٹ کر دی ہے آ جائیے
سبحان نے آہستہ سے بی بی جان (والدہ) سے کہا
اچھا بیٹا آرہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان بڑے دھیمے اور محتاط انداز میں گاڑی چلا رہا تھا
بڑی خاموشی سی تھی
بیٹا وہ اپنے قربان شاہ صاحب کی جانب جانا ہوا تمہارا ۔۔۔۔۔؟؟؟
بی بی جان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
جی چند دن ہوئے ملاقات ہوئی تھی
سبحان نے مختصر سا جواب دیا
بنتِ قربان سے بھی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بی بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا
جی۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی دیکھا تھا
سبحان نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا
قربان صاحب نے مجھ سے تمہارے چھوٹے بھائی کے بارے میں رشتے کی بات کی تھی اپنی صاحبزادی کیلئے۔۔۔۔۔۔
سبحان کا حلق تک کڑوا ہو گیا
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے منہ سے بس اس قدر ہی نکل سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکلوتی بیٹی ہے ان کی ،اور انہوں بڑی شدومد سے مجھ سے استفسار کیا تھا
بی بی جان اسے بتا رہی تھیں
مگر نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جا رہا ہو
وہ بس خاموشی سے سنتا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
...................
آٹھ سال قبل۔۔۔۔۔۔
سبحان روزانہ کی طرح جلدی جلدی کام سے فارغ ہو کر یونیورسٹی پہنچا
اور ہمیشہ کی طرح پہلا لیکچر چھوٹ چکا تھا
وہ اپنے ہم جماعتوں سے بے نیاز جونئیر کلاس کے سامنے کھڑا تھا
وہ پچھلے تین سالوں سے اپنے سے تین سال جونئیر کلاس کے باہر عین پہلے لیکچر کے اختتام پر کھڑا ہوتا
اور کلاس کے طلبا کے باہر نکلتے ہی بس ایک چہرے کو غور سے دیکھا کرتا
اور ان کے چلے جانے پر اپنی کلاس لے کر واپس اپنے ہوٹل چلا جایا کرتا
شہر کے کاروباری علاقے کے مرکز میں یہ ہوٹل بڑے شاہ جی کی محنت کا شاہ کار تھا
اور سبحان ایک سعادت مند بیٹے کی مانند اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس ہوٹل کے تمام انتظام و انصرام دیکھا کرتا تھا
وہ روز پہلا لیکچر جان بوجھ کر چھوڑ دیا کرتا تھا
فقط اس لڑکی کی خاطر جو بہت چھوئی موئی سی، نازک کلیوں کی طرح، آنکھوں میں آفتابی چمک لئے چہرہ چھپائے اس کے قریب سے گزر جایا کرتی تھی
وہ بس روز ایک امید لے کر آتا تھا کہ کبھی تو بس ایک نظر اٹھا کر وہ اجنبی نظروں سے ہی سہی، بس اسے دیکھ لے
مگر وہ تو نجانے کس قصرِ فروزاں کی شہزادی تھی عجب بے نیازی سے گزر جایا کرتی تھی
یہ سبحان کا آخری سال تھا
اور اس کا دل جیسے روز کوئی جکڑ لیتا تھا
وہ چاہتا تھا ایک بار صرف ایک بار وہ اس نازک اندام کو پکارے
مگر روز اس کی قوتِ گویائی اس کا ساتھ چھوڑ دیا کرتی تھی اور سبحان کسی لٹے ہوئے مسافر کی طرح واپس لوٹ جایا کرتا تھا
اس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا جب اس نے ٹھان لیا کہ آج اس لڑکی سے بات کر ہی لے گا
وہ جماعت کے دروازے پر کھڑا انتظار کر رہا تھا
ستمبر کی خنک ہوا میں بھی اسے پسینے آرہے تھے اس کا محض چند منٹوں کا انتظار اس پر جیسے صدیوں سے گراں گزر رہا تھا
بلآخر اسے اس کا زیرِنقاب چہرہ نظر آیا چہرہ کیا فقط آنکھیں نظر آیا کرتی تھیں جو سبحان کو چہرے بھی زیادہ مکمل دکھائی دیا کرتی تھیں
وہ سبحان کے سامنے سے گزر گئی اور اس کے دور جانے پر اسے احساس ہوا تو اس نے اپنے حواس مجتمع کئے، جی کڑا کر اس کے پیچھے چلنے لگا
آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے کنارے سے مڑتے ہوئے اردگرد کسی کی غیرموجودگی ایک شخص کا پیچھا کرنا محسوس کر کے وہ مڑی اور سبحان کے سارے مجتمع حواس بکھر سے گئے
وہ تمام الفاظ جو اس نے کئی روز سے سوچ رکھے تھے
ہوٹل کے دفتر میں بارہا بار دہرا رکھے تھے، سب بھول گئے
اس کا چہرہ سرخ ہو گیا
کیا مسئلہ ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں ؟؟؟ ؟
شکل سے تو شریف زادے لگتے ہیں! !
اس لڑکی نے اچانک سے مڑ کر اس قدر سخت لہجے میں کہا کہ سبحان گڑبڑا گیا
نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو انگلش ڈیپارٹمنٹ جا رہا تھا
سبحان کو اور تو کچھ نہ سوجھی تو اچانک سے اس کے منہ سے انگلش ڈیپارٹمنٹ نکل گیا
جناب ذرا آنکھوں کا علاج کروائیں۔۔۔۔۔۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ آپ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں یہ یونیورسٹی کا آخری ڈیپارٹمنٹ ہے
آپ کو شاید بھول جانے کی بیماری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے استہزائیہ انداز میں کہا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان گھبرا گیا
گھبراہٹ میں اسے محل وقوع کا بلکل خیال نہ رہا
آپ پچھلے تین سالوں سے یہی کچھ کر رہے ہیں ، بلا ناغہ میری جماعت کے سامنے آپکا کیا کام ہوتا ہے
آپ سنئیر ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ من چاہی حرکات کرنے لگیں
میں تو آپ کو ذاتی طور پر جانتی تک نہیں
خدارا میری جان چھوڑ دیجئے
سبحان شرمندہ شرمندہ سا بس کھڑا تھا
وہ لڑکی اتنا کہہ کر پلٹ کر جانے لگی تو سبحان اچانک سے بولا
بس اپنا تعارف کرواتی جائیے پلیز
میں دوبارہ کبھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔۔۔۔۔
سبحان اپنی اس جرأت پر خود حیران تھا
وہ پلٹی
اور سبحان کو گھورنے لگی
سبحان نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں
میرا نام صاعقہ شاہ ہے اور میں قربان شاہ کی بیٹی ہوں
دوبارہ کبھی میرے راستے میں کھڑے نظر آئے تو تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا
بے حد سخت لہجے میں کہہ کر وہ پلٹی اور چلتی گئی
سبحان حق دق کھڑا رہ گیا
قربان شاہ سے اس کے کاروباری مراسم تھے
اور بڑے شاہ جی کے پرانے واقف کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد وہ نہ یونیورسٹی گیا اور نہ کبھی اس کی ہمت ہی ہو سکی
صاعقہ حقیقتاً اپنے نام کی طرح بجلی مانند تھی
وہ اسے کبھی بھلا نہیں پایا، اس نے قربان شاہ سے مشورے لینا اور ان کے دفتر جا کر ملنا زیادہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کی شادیاں کیں اور انہیں خود پر ترجیح دیتا رہا
اور اس ترجیح کے پسِ پردہ شاید کہیں صاعقہ شاہ کا وجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
..............
بیٹا یہ لڑکی تو اچھی ہے، پر مجھے مسز قربان نے کل پھر فون کیا تھا کھانے پر بلایا ہے
تم بھی چلنا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے دیکھے گئے رشتے پر رائے زنی کرتے ہوئی اسے بتایا
وہ چائے پی رہا تھا کہ اسے بڑے زور کا اچھو لگا اور چائے اس کے کپڑوں پر اور قالین پر گری
بس کپ اس سے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا
اوہو۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا کیا بات ہے طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
الله خیر کرے۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے ذرا تشویش سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
ارے مختاراں ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو یہ چائے گری ہے صاف کرو
بی بی جان نے خادمہ کو آواز دی
چلو بیٹا یہ کپڑے بدلو
میں تمہارے لئے اور چائے بنواتی ہوں
بی بی جان نے سبحان سے کہا
نہیں نہیں بس ٹھیک ہے آپ چائے رہنے دیجئے
وہ بی بی جان سے کہتا ہوا اٹھ گیا
اب تو پانی نگلنا بھی دشوار لگنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ آفس بیٹھا تھا
فون بجنے لگا
السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جیتے رہو ، خوش رہو ۔۔۔۔۔
بی بی جان نے سلام کے جواب میں اسے دعاؤں سے نوازا
بیٹا وہ مسز قربان کی طرف جانا تھا
تم آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے اسے یاد دلایا
نہیں بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ذرا ایک ہنگامی میٹنگ میں شرکت کو جا رہا ہوں اور ہو آئیے میرا سلام دیجئے گا
اس نے جلدی سے سوچا سمجھا بہانہ بنایا
ارے بیٹا میں نے کل سے کہہ رکھا تھا تمہیں۔۔۔۔
بی بی جان نے ذرا زور دیا
بی بی جان اب یہ کاروباری معاملات تو وقت بے وقت ہی ہوا کرتے ہیں
آپ سمجھا کریں نا
آپ ہو آئیے میں پھر کسی دن آپ کے ہمراہ چکر لگا لوں گا
اس نے ٹالتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون بند ہوا تو وہ کرسی کی پُشت سے ٹیک لگائے پیشانی مسلنے لگا
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی سانس رک رک کر آ رہی ہو چلتے اے سی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس نے کھڑکی کھول کر گرم ہوا کے جھونکوں میں گہرے گہرے سانس لئیے
مگر جیسے اس کا دل اسے مسلسل کچوکے لگا رہا تھا
اس نے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھا چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ خود حیران رہ گیا
اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے
جانے اس کاکا خود پر سے اختیار ختم ہونے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے گھر لوٹا تو بی بی جان لان میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہی تھیں
السلام عليكم بی بی جان ۔۔۔۔۔
اس نے آ کر بڑے ادب سے سلام کیا بی بی جان کا ہاتھ چوما
اور سنائیں بی بی جان کیسی رہی مسز قربان سے ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔
اس بظاہر خوش مزاجی سے مگر اندر سے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔
ہاں الحمدلله بہت اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ ہے بنتِ قربان نے اس قدر خوش ذائقہ پکوان بنا رکھے تھے کہ مت پوچھو
ارے مجھے تو تمہاری خالہ مرحوم یاد آ گئیں
کس قدر لذت و ذائقہ ہے اس کے ہاتھوں میں بھئی ماشاءالله ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان تو گویا صاعقہ کی تعریفوں میں زمین و آسماں ایک کر دینے کے موڈ میں تھیں
اچھا تو پھر کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔۔۔
بلآخر سبحان نے دل مضبوط کر کے وہ سوال پوچھ ہی لیا جس کے جواب سے اس کا دل ڈر رہا تھا
ہاں بھئی وہ تو بہت اصرار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
البتہ اپنے وہاج کو بھی لڑکی بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
سبحان نے چونکتے ہوئے پوچھا
ارے بھائی انہوں نے تصویر بھیجی ہے
بی بی جان نے تپائی سے لفافہ اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا
اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ تھاما مگر اسے کھولنے کی ہمت نہ ہوئی
آٹھ سالوں سے اس کی بجلی سی چمک لئے آنکھوں کا منظر اس کی ذہن میں ایک مکمل کائنات کی حیثیت رکھتا تھا
تم دیکھو تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟
بی بی جان نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بی بی جان آپ کی رائے زیادہ اہم ہے آپ کہئیے
اس نے چہرے پر بشاشت و شادابی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
سبحان تم وہاج کے بڑے بھائی ہو باپ کی طرح ہو تم دیکھو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے سبحان سے کہا
ارے بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! بڑے شاہ ابھی ہمارے ساتھ ہیں
الله انہیں صحت عطا کرے میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا
مجھے اپنے بھائی وہاج کی خوشی سے بڑھ کر کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بی بی جان کے پاس گھاس پر بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر کہنے لگا
ارے بیٹا ۔۔۔۔۔۔!!! رب العالمین تم پر اپنا رحم و فضل کرے تم سا بھائی اور سعادت مند بیٹا سب کو نصیب ہو
بی بی جان سبحان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگیں
تو پھر میں زوہیب صاحب سے معذرت کر لوں ہم ان کی جانب سے بھی ہو آئے تھے ، وہ بھی ہمارے کسی جواب کے منتظر ہوں گے
سبحان نے سر اُٹھا کے پُوچھا
ہاں ان سے کہہ دینا
مسز قربان بس چند ایک روز میں بات پکی کرنے آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے اسے بتایا
ٹھیک ہے بی بی جان جیسے آپ چاہیں ۔۔۔۔۔
اب میں چل کے سوتا ہوں۔۔۔۔
وہ بی بی جان کے پاس سے اٹھ گیا
اب راتوں کی نیندیں تو اس سے روٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
...........
آج وہاج شاہ کی منگنی کی رسم ادا کی جا رہی تھی
قربان شاہ صاحب نے بڑی محبت سے وہاج کو نئی گاڑی تحفے میں دی
مسز قربان نے چاندی کی منقش دیدہ زیب انگوٹھی اور نہایت قیمتی گھڑی تحفتاً دی
سبحان نے بہت خوشی و شادمانی سے تمام انتظام کیا اور بہت مسرت سے اس مجلس میں شریک ہوا
اگلے روز ان کی جانب سے بات پکی کرنے جانے کا طے پایا تھا
مگر عین وقت پر دفتر سے فون آیا کہ چند ایک ضروری کاموں کی بنا پر کچھ کاروباری لوگ سبحان نے ملنے آئے ہیں تو بی بی جان خاصی جزبز ہوئیں مگر کسی طرح سبحان دفتر جانے میں کامیاب ہو ہی گیا
اس نے دفتر میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر فون کر کے تہمینہ خانم کو اپنے دفتر بلایا
اور انتظار میں ٹہلنے لگا
دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ جاؤ۔۔۔۔
اس نے اونچی آواز میں کہا
دروازہ کھلا اور سرو قد گندمی رنگت میں جاذب نقوش کی حامل تہمینہ خانم اندر آئیں
جی سر ۔۔۔۔۔!!!!
انہوں نے مؤدب لہجے میں کہا اور مؤدب کھڑی رہیں
میرے لئے کوئی فون آئے، کوئی ملاقاتی آئے کچھ ہو جائے آپ کو صرف اس قدر علم ہے کہ چند کاروباری حضرات کے ساتھ میں میٹنگ میں ہوں
عمارت کے اس کمرے تک میری اجازت کے بغیر کوئی نہ پہنچے
اس نے سخت لہجے میں حکم دیا ۔۔۔۔۔۔
جی سر ۔۔۔۔۔۔۔!!!! ایسا ہی ہو گا
تہمینہ خانم نے مؤدب لہجے میں کہا
ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔
نجانے آج سبحان کچھ زیادہ ہی بکھرا بکھرا تھا، وہ جان بوجھ کر اکیلا رہنا چاہتا تھا
وہ صاعقہ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا تھا، وہ اس کے سامنے جانا ہی نہیں چاہتا تھا، وہ فرش پر ٹانگیں پھیلائے خود سے بے نیاز بیٹھا تھا ، اس کا دل چاہ رہا تھا دہاڑیں مار مار کر روئے
مگر شاید اس کی آواز کہیں گم گئی تھی، وہ خود سے لڑ رہا تھا ، آٹھ سال تک ایک خواب کو پالا تھا اس نے اور وہ ایک خواب بھی پورا نہ دیکھ پایا
وہ اپنوں کی خوشیاں خریدتے خریدتے اپنی خوشیاں داؤ پر لگا گیا، وہ خوشیاں، وہ لمحے، وہ مناظر جو اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے اب اسے وہ سب کچھ اپنے بھائی پر لٹانا تھا
وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ نوچ کر پھنکنا چاہ رہا تھا مگر اس کی آنکھیں تو باہر آ سکتیں تھیں وہ خواب اب باہر نہیں آ سکتے تھے
وہ سب حسرتیں اس کی آنکھوں میں اس کے اندر اس حد تک پیوست ہو چکی تھیں کہ اب وہ انہیں جدا نہیں کر سکتا تھا
اب اسے سب فنا کرنا تھا
اس نے ایک لمحے میں کچھ سوچا اور فون اٹھا کر آپریٹر کو گھر فون ملانے کا کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ بھیا کب تک لوٹیں گے بی بی جان اتنا انتظار کر کے پھر گئیں ہیں مہمانوں کے ہمراہ ۔۔۔۔
فون اٹھاتے ہی وہاج نے تفتیش شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔
ارے تھوڑا صبر رکھو ۔۔۔۔۔۔ مجھے ذرا دو چار ضروری کاموں سے ایک آدھ دن کیلئے دوبئی جانا پڑ رہا ہے تمہاری بارات تک پہنچ جاؤں گا
تم بے فکر ہو جاؤ اور بی بی جان کو سنبھال لینا
ٹھیک ہے السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان نے کچھ مزید سنے کہے بغیر فون رکھ دیا
جلدی جلدی دراز سے ضروری کاغذات نکالے اور ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان شاہ صاحب گھر کے بڑے بیٹے ہیں۔۔۔۔۔۔
گھر میں تین چھوٹے بھائی موجود ہیں دو کی شادی ہو چکی جبکہ ایک کیلئے رشتہ دیکھنے آج جانا ہے
سب تیاریوں میں لگے ہیں ،والدہ کے ہمراہ سبحان نے بڑے شاہ جی (ابا جی) کے پاس جا کر ان کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے کہا دعا کیجئے گا
سبحان کے والد عرصہءِ دراز سے صاحبِ فراش تھے
سبحان سب سے بڑا تھا تو یہ ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ پڑی
چھوٹی سی عمر سے ہی چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھتے رکھتے وہ اپنا خیال رکھنا بھول گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان میں نے گاڑی سٹارٹ کر دی ہے آ جائیے
سبحان نے آہستہ سے بی بی جان (والدہ) سے کہا
اچھا بیٹا آرہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان بڑے دھیمے اور محتاط انداز میں گاڑی چلا رہا تھا
بڑی خاموشی سی تھی
بیٹا وہ اپنے قربان شاہ صاحب کی جانب جانا ہوا تمہارا ۔۔۔۔۔؟؟؟
بی بی جان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
جی چند دن ہوئے ملاقات ہوئی تھی
سبحان نے مختصر سا جواب دیا
بنتِ قربان سے بھی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بی بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا
جی۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی دیکھا تھا
سبحان نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا
قربان صاحب نے مجھ سے تمہارے چھوٹے بھائی کے بارے میں رشتے کی بات کی تھی اپنی صاحبزادی کیلئے۔۔۔۔۔۔
سبحان کا حلق تک کڑوا ہو گیا
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے منہ سے بس اس قدر ہی نکل سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکلوتی بیٹی ہے ان کی ،اور انہوں بڑی شدومد سے مجھ سے استفسار کیا تھا
بی بی جان اسے بتا رہی تھیں
مگر نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جا رہا ہو
وہ بس خاموشی سے سنتا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
...................
آٹھ سال قبل۔۔۔۔۔۔
سبحان روزانہ کی طرح جلدی جلدی کام سے فارغ ہو کر یونیورسٹی پہنچا
اور ہمیشہ کی طرح پہلا لیکچر چھوٹ چکا تھا
وہ اپنے ہم جماعتوں سے بے نیاز جونئیر کلاس کے سامنے کھڑا تھا
وہ پچھلے تین سالوں سے اپنے سے تین سال جونئیر کلاس کے باہر عین پہلے لیکچر کے اختتام پر کھڑا ہوتا
اور کلاس کے طلبا کے باہر نکلتے ہی بس ایک چہرے کو غور سے دیکھا کرتا
اور ان کے چلے جانے پر اپنی کلاس لے کر واپس اپنے ہوٹل چلا جایا کرتا
شہر کے کاروباری علاقے کے مرکز میں یہ ہوٹل بڑے شاہ جی کی محنت کا شاہ کار تھا
اور سبحان ایک سعادت مند بیٹے کی مانند اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس ہوٹل کے تمام انتظام و انصرام دیکھا کرتا تھا
وہ روز پہلا لیکچر جان بوجھ کر چھوڑ دیا کرتا تھا
فقط اس لڑکی کی خاطر جو بہت چھوئی موئی سی، نازک کلیوں کی طرح، آنکھوں میں آفتابی چمک لئے چہرہ چھپائے اس کے قریب سے گزر جایا کرتی تھی
وہ بس روز ایک امید لے کر آتا تھا کہ کبھی تو بس ایک نظر اٹھا کر وہ اجنبی نظروں سے ہی سہی، بس اسے دیکھ لے
مگر وہ تو نجانے کس قصرِ فروزاں کی شہزادی تھی عجب بے نیازی سے گزر جایا کرتی تھی
یہ سبحان کا آخری سال تھا
اور اس کا دل جیسے روز کوئی جکڑ لیتا تھا
وہ چاہتا تھا ایک بار صرف ایک بار وہ اس نازک اندام کو پکارے
مگر روز اس کی قوتِ گویائی اس کا ساتھ چھوڑ دیا کرتی تھی اور سبحان کسی لٹے ہوئے مسافر کی طرح واپس لوٹ جایا کرتا تھا
اس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا جب اس نے ٹھان لیا کہ آج اس لڑکی سے بات کر ہی لے گا
وہ جماعت کے دروازے پر کھڑا انتظار کر رہا تھا
ستمبر کی خنک ہوا میں بھی اسے پسینے آرہے تھے اس کا محض چند منٹوں کا انتظار اس پر جیسے صدیوں سے گراں گزر رہا تھا
بلآخر اسے اس کا زیرِنقاب چہرہ نظر آیا چہرہ کیا فقط آنکھیں نظر آیا کرتی تھیں جو سبحان کو چہرے بھی زیادہ مکمل دکھائی دیا کرتی تھیں
وہ سبحان کے سامنے سے گزر گئی اور اس کے دور جانے پر اسے احساس ہوا تو اس نے اپنے حواس مجتمع کئے، جی کڑا کر اس کے پیچھے چلنے لگا
آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے کنارے سے مڑتے ہوئے اردگرد کسی کی غیرموجودگی ایک شخص کا پیچھا کرنا محسوس کر کے وہ مڑی اور سبحان کے سارے مجتمع حواس بکھر سے گئے
وہ تمام الفاظ جو اس نے کئی روز سے سوچ رکھے تھے
ہوٹل کے دفتر میں بارہا بار دہرا رکھے تھے، سب بھول گئے
اس کا چہرہ سرخ ہو گیا
کیا مسئلہ ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں ؟؟؟ ؟
شکل سے تو شریف زادے لگتے ہیں! !
اس لڑکی نے اچانک سے مڑ کر اس قدر سخت لہجے میں کہا کہ سبحان گڑبڑا گیا
نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو انگلش ڈیپارٹمنٹ جا رہا تھا
سبحان کو اور تو کچھ نہ سوجھی تو اچانک سے اس کے منہ سے انگلش ڈیپارٹمنٹ نکل گیا
جناب ذرا آنکھوں کا علاج کروائیں۔۔۔۔۔۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ آپ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں یہ یونیورسٹی کا آخری ڈیپارٹمنٹ ہے
آپ کو شاید بھول جانے کی بیماری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے استہزائیہ انداز میں کہا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان گھبرا گیا
گھبراہٹ میں اسے محل وقوع کا بلکل خیال نہ رہا
آپ پچھلے تین سالوں سے یہی کچھ کر رہے ہیں ، بلا ناغہ میری جماعت کے سامنے آپکا کیا کام ہوتا ہے
آپ سنئیر ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ من چاہی حرکات کرنے لگیں
میں تو آپ کو ذاتی طور پر جانتی تک نہیں
خدارا میری جان چھوڑ دیجئے
سبحان شرمندہ شرمندہ سا بس کھڑا تھا
وہ لڑکی اتنا کہہ کر پلٹ کر جانے لگی تو سبحان اچانک سے بولا
بس اپنا تعارف کرواتی جائیے پلیز
میں دوبارہ کبھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔۔۔۔۔
سبحان اپنی اس جرأت پر خود حیران تھا
وہ پلٹی
اور سبحان کو گھورنے لگی
سبحان نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں
میرا نام صاعقہ شاہ ہے اور میں قربان شاہ کی بیٹی ہوں
دوبارہ کبھی میرے راستے میں کھڑے نظر آئے تو تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا
بے حد سخت لہجے میں کہہ کر وہ پلٹی اور چلتی گئی
سبحان حق دق کھڑا رہ گیا
قربان شاہ سے اس کے کاروباری مراسم تھے
اور بڑے شاہ جی کے پرانے واقف کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد وہ نہ یونیورسٹی گیا اور نہ کبھی اس کی ہمت ہی ہو سکی
صاعقہ حقیقتاً اپنے نام کی طرح بجلی مانند تھی
وہ اسے کبھی بھلا نہیں پایا، اس نے قربان شاہ سے مشورے لینا اور ان کے دفتر جا کر ملنا زیادہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کی شادیاں کیں اور انہیں خود پر ترجیح دیتا رہا
اور اس ترجیح کے پسِ پردہ شاید کہیں صاعقہ شاہ کا وجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
..............
بیٹا یہ لڑکی تو اچھی ہے، پر مجھے مسز قربان نے کل پھر فون کیا تھا کھانے پر بلایا ہے
تم بھی چلنا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے دیکھے گئے رشتے پر رائے زنی کرتے ہوئی اسے بتایا
وہ چائے پی رہا تھا کہ اسے بڑے زور کا اچھو لگا اور چائے اس کے کپڑوں پر اور قالین پر گری
بس کپ اس سے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا
اوہو۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا کیا بات ہے طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
الله خیر کرے۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے ذرا تشویش سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
ارے مختاراں ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو یہ چائے گری ہے صاف کرو
بی بی جان نے خادمہ کو آواز دی
چلو بیٹا یہ کپڑے بدلو
میں تمہارے لئے اور چائے بنواتی ہوں
بی بی جان نے سبحان سے کہا
نہیں نہیں بس ٹھیک ہے آپ چائے رہنے دیجئے
وہ بی بی جان سے کہتا ہوا اٹھ گیا
اب تو پانی نگلنا بھی دشوار لگنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ آفس بیٹھا تھا
فون بجنے لگا
السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جیتے رہو ، خوش رہو ۔۔۔۔۔
بی بی جان نے سلام کے جواب میں اسے دعاؤں سے نوازا
بیٹا وہ مسز قربان کی طرف جانا تھا
تم آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے اسے یاد دلایا
نہیں بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ذرا ایک ہنگامی میٹنگ میں شرکت کو جا رہا ہوں اور ہو آئیے میرا سلام دیجئے گا
اس نے جلدی سے سوچا سمجھا بہانہ بنایا
ارے بیٹا میں نے کل سے کہہ رکھا تھا تمہیں۔۔۔۔
بی بی جان نے ذرا زور دیا
بی بی جان اب یہ کاروباری معاملات تو وقت بے وقت ہی ہوا کرتے ہیں
آپ سمجھا کریں نا
آپ ہو آئیے میں پھر کسی دن آپ کے ہمراہ چکر لگا لوں گا
اس نے ٹالتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون بند ہوا تو وہ کرسی کی پُشت سے ٹیک لگائے پیشانی مسلنے لگا
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی سانس رک رک کر آ رہی ہو چلتے اے سی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس نے کھڑکی کھول کر گرم ہوا کے جھونکوں میں گہرے گہرے سانس لئیے
مگر جیسے اس کا دل اسے مسلسل کچوکے لگا رہا تھا
اس نے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھا چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ خود حیران رہ گیا
اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے
جانے اس کاکا خود پر سے اختیار ختم ہونے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے گھر لوٹا تو بی بی جان لان میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہی تھیں
السلام عليكم بی بی جان ۔۔۔۔۔
اس نے آ کر بڑے ادب سے سلام کیا بی بی جان کا ہاتھ چوما
اور سنائیں بی بی جان کیسی رہی مسز قربان سے ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔
اس بظاہر خوش مزاجی سے مگر اندر سے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔
ہاں الحمدلله بہت اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ ہے بنتِ قربان نے اس قدر خوش ذائقہ پکوان بنا رکھے تھے کہ مت پوچھو
ارے مجھے تو تمہاری خالہ مرحوم یاد آ گئیں
کس قدر لذت و ذائقہ ہے اس کے ہاتھوں میں بھئی ماشاءالله ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان تو گویا صاعقہ کی تعریفوں میں زمین و آسماں ایک کر دینے کے موڈ میں تھیں
اچھا تو پھر کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔۔۔
بلآخر سبحان نے دل مضبوط کر کے وہ سوال پوچھ ہی لیا جس کے جواب سے اس کا دل ڈر رہا تھا
ہاں بھئی وہ تو بہت اصرار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
البتہ اپنے وہاج کو بھی لڑکی بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
سبحان نے چونکتے ہوئے پوچھا
ارے بھائی انہوں نے تصویر بھیجی ہے
بی بی جان نے تپائی سے لفافہ اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا
اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ تھاما مگر اسے کھولنے کی ہمت نہ ہوئی
آٹھ سالوں سے اس کی بجلی سی چمک لئے آنکھوں کا منظر اس کی ذہن میں ایک مکمل کائنات کی حیثیت رکھتا تھا
تم دیکھو تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟
بی بی جان نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بی بی جان آپ کی رائے زیادہ اہم ہے آپ کہئیے
اس نے چہرے پر بشاشت و شادابی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
سبحان تم وہاج کے بڑے بھائی ہو باپ کی طرح ہو تم دیکھو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے سبحان سے کہا
ارے بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! بڑے شاہ ابھی ہمارے ساتھ ہیں
الله انہیں صحت عطا کرے میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا
مجھے اپنے بھائی وہاج کی خوشی سے بڑھ کر کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بی بی جان کے پاس گھاس پر بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر کہنے لگا
ارے بیٹا ۔۔۔۔۔۔!!! رب العالمین تم پر اپنا رحم و فضل کرے تم سا بھائی اور سعادت مند بیٹا سب کو نصیب ہو
بی بی جان سبحان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگیں
تو پھر میں زوہیب صاحب سے معذرت کر لوں ہم ان کی جانب سے بھی ہو آئے تھے ، وہ بھی ہمارے کسی جواب کے منتظر ہوں گے
سبحان نے سر اُٹھا کے پُوچھا
ہاں ان سے کہہ دینا
مسز قربان بس چند ایک روز میں بات پکی کرنے آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے اسے بتایا
ٹھیک ہے بی بی جان جیسے آپ چاہیں ۔۔۔۔۔
اب میں چل کے سوتا ہوں۔۔۔۔
وہ بی بی جان کے پاس سے اٹھ گیا
اب راتوں کی نیندیں تو اس سے روٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
...........
آج وہاج شاہ کی منگنی کی رسم ادا کی جا رہی تھی
قربان شاہ صاحب نے بڑی محبت سے وہاج کو نئی گاڑی تحفے میں دی
مسز قربان نے چاندی کی منقش دیدہ زیب انگوٹھی اور نہایت قیمتی گھڑی تحفتاً دی
سبحان نے بہت خوشی و شادمانی سے تمام انتظام کیا اور بہت مسرت سے اس مجلس میں شریک ہوا
اگلے روز ان کی جانب سے بات پکی کرنے جانے کا طے پایا تھا
مگر عین وقت پر دفتر سے فون آیا کہ چند ایک ضروری کاموں کی بنا پر کچھ کاروباری لوگ سبحان نے ملنے آئے ہیں تو بی بی جان خاصی جزبز ہوئیں مگر کسی طرح سبحان دفتر جانے میں کامیاب ہو ہی گیا
اس نے دفتر میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر فون کر کے تہمینہ خانم کو اپنے دفتر بلایا
اور انتظار میں ٹہلنے لگا
دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ جاؤ۔۔۔۔
اس نے اونچی آواز میں کہا
دروازہ کھلا اور سرو قد گندمی رنگت میں جاذب نقوش کی حامل تہمینہ خانم اندر آئیں
جی سر ۔۔۔۔۔!!!!
انہوں نے مؤدب لہجے میں کہا اور مؤدب کھڑی رہیں
میرے لئے کوئی فون آئے، کوئی ملاقاتی آئے کچھ ہو جائے آپ کو صرف اس قدر علم ہے کہ چند کاروباری حضرات کے ساتھ میں میٹنگ میں ہوں
عمارت کے اس کمرے تک میری اجازت کے بغیر کوئی نہ پہنچے
اس نے سخت لہجے میں حکم دیا ۔۔۔۔۔۔
جی سر ۔۔۔۔۔۔۔!!!! ایسا ہی ہو گا
تہمینہ خانم نے مؤدب لہجے میں کہا
ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔
نجانے آج سبحان کچھ زیادہ ہی بکھرا بکھرا تھا، وہ جان بوجھ کر اکیلا رہنا چاہتا تھا
وہ صاعقہ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا تھا، وہ اس کے سامنے جانا ہی نہیں چاہتا تھا، وہ فرش پر ٹانگیں پھیلائے خود سے بے نیاز بیٹھا تھا ، اس کا دل چاہ رہا تھا دہاڑیں مار مار کر روئے
مگر شاید اس کی آواز کہیں گم گئی تھی، وہ خود سے لڑ رہا تھا ، آٹھ سال تک ایک خواب کو پالا تھا اس نے اور وہ ایک خواب بھی پورا نہ دیکھ پایا
وہ اپنوں کی خوشیاں خریدتے خریدتے اپنی خوشیاں داؤ پر لگا گیا، وہ خوشیاں، وہ لمحے، وہ مناظر جو اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے اب اسے وہ سب کچھ اپنے بھائی پر لٹانا تھا
وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ نوچ کر پھنکنا چاہ رہا تھا مگر اس کی آنکھیں تو باہر آ سکتیں تھیں وہ خواب اب باہر نہیں آ سکتے تھے
وہ سب حسرتیں اس کی آنکھوں میں اس کے اندر اس حد تک پیوست ہو چکی تھیں کہ اب وہ انہیں جدا نہیں کر سکتا تھا
اب اسے سب فنا کرنا تھا
اس نے ایک لمحے میں کچھ سوچا اور فون اٹھا کر آپریٹر کو گھر فون ملانے کا کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ بھیا کب تک لوٹیں گے بی بی جان اتنا انتظار کر کے پھر گئیں ہیں مہمانوں کے ہمراہ ۔۔۔۔
فون اٹھاتے ہی وہاج نے تفتیش شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔
ارے تھوڑا صبر رکھو ۔۔۔۔۔۔ مجھے ذرا دو چار ضروری کاموں سے ایک آدھ دن کیلئے دوبئی جانا پڑ رہا ہے تمہاری بارات تک پہنچ جاؤں گا
تم بے فکر ہو جاؤ اور بی بی جان کو سنبھال لینا
ٹھیک ہے السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان نے کچھ مزید سنے کہے بغیر فون رکھ دیا
جلدی جلدی دراز سے ضروری کاغذات نکالے اور ائیر پورٹ کی جانب رواں دواں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment