کچے گھر۔۔۔۔۔
انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے جب مانوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ حتی الوسع یہی کوشش کرتا ہے کہ اس ماحول میں ڈھل جائے اور جہاں اس کی فطرت آڑے آجائے تو ماحول کو اپنے مطابق ڈھال لے
انسان کا ازل سے یہی وطیرہ رہا ہے
انسان بڑی دلجمعی و محنت سے اپنا ماحول بناتا ہے، اپنے ارد گرد کے تمام وہ نظارے جو اس کے دل کو لبھاتے ہیں انہیں قائم و دائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے
انسان عقلمند ہو اور سلیقہ شعار بھی تو اس میں نفاست کی خوبی نمایاں ہو جایا کرتی ہے
نفاست کی خوبی کے حامل افراد ہمیشہ بڑی احتیاط طریقے سلیقے سے ہر کام کیا کرتے ہیں
انہیں کسی بھی کام میں خاص ہو یا عام ہر طرح سے سلیقہ مندی و نفاست کا امر لازم و ملزوم لگتا ہے
انسان قدرت کے نزدیک، فطرت سے جڑا رہنا چاہتا ہے اسی لئے جب ارضیاتی، ماحولیاتی اور طبعی تبدیلیوں کےباعث اس کے اردگرد کا ماحول بگڑنے لگے تو وہ اسے فطرت و قدرت نے نزدیک واپس لے جانے کی انتھک و جاں توڑ کوششیں کیا کرتا ہے
چونکہ حضرتِ انسان زمینِ دنیا پر خلیفہءِ خدا ہیں

No comments:
Post a Comment