سفر۔۔۔۔۔
یوں تو کہا جاتا ہے کہ سفر انسانی زندگی میں سانس کے جاری ہونے پر ہی شروع ہو جایا کرتا ہے جسے سب زندگی کا نام دیا کرتے ہیں
البتہ انسان پھر اس زندگی کے سفر میں معمولاتِ حیات کے پیشِ نظر کرۃءِارض پر ملکوں ملکوں، شہروں شہر مسافرت اختیار کرتا ہے
اور اس دنیا میں اختیار کئیے جانے والے سفر کے مأخوذات اس کے زندہ رہنے کیلئے جہدِ مسلسل کا اک حصہ ہوا کرتے ہیں
انسان ارضیاتی مسافرت اپنے زندگی کے معاشی معاملات و معاشرتی خوشحالی کیلئے اختیار کرتا ہے، کبھی زمینِ دنیا پر بکھرے قدرت کے جلوے دیکھنے کیلئے سیر و سیاحت کی غرض سے ،کبھی رموز قدرت و اسرارِ ارض کھوجنے کیلئے، تو کبھی دنیا پر بکھری معاشرتی و ثقافتی تہاذیب کو دیکھنے اور اپنی زندگی کی نظریاتی تجدید کیلئے اور کبھی ذاتی و روحانی تسکین کیلئے انسان کرہءِارض پر میلوں میل کا سفر اختیار کرتا ہے
انسانی فطرت ہے کہ ہر معاملے کو کچھ متعین اوقات سے منسوب کرتا ہے، زندگی کے بہت سے مراحل کیلئے منصوبہ سازی کرتا ہے اور ان کے متعلق اسباب جوڑ رکھتا ہے
اسی طرح مسافرت کیلئے زادِراہ جمع کرتا ہے، سفر کے رستے اور ان میں درپیش آنے والے ممکنہ مشکلات و مسائل سے نمٹنے کے اسباب کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر طوالتِ سفر متعین کرتا ہے
مگر یہ تمام تر امور اس کے اختیار سے بالاتر ہوا کرتے ہیں
چونکہ سفر زندگی کا ہو یا دورانِ حیات ارضیاتی مسافرت دونوں میں سفر راستے، پڑاؤ ،منزلیں اور اسرار و رموز ہمیشہ خود طے کیا کرتا ہے
یہ اک الگ بات ہے کہ سفر کی تکمیل ویسی ہو جانا جیسے مسافر نے سوچ رکھی تھی محض رحمتِ خداوندی اور اس کا انعام ہوا کرتا ہے
مسافرت مسافر کو بہت سے تجربات عطا کرتی ہے، اور ان تمام تر تلخ و شیریں تجربات سے یا تو اس کی آئندہ مسخر ہونے والی منزلوں کے رستے آسان ہو جایا کرتے ہیں یا پھر وہ اپنے راستوں کی مشکلات و مصائب کو بڑھا لیا کرتا ہے
اب سوچا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟ ؟؟
تو
مسافرت انسان کو تجربات تو بہت سے دیتی ہے مگر کچھ ایسے تجربے بھی ہو جایا کرتے ہیں جو وقت سے پہلے اور ذہنی استعداد سے بالاتر ہوا کرتے ہیں
ان تجربات سے بہت کم لوگ مستفید ہوا کرتے ہیں اور ان لوگوں کا شمار ایسے خوش نصیب انسانوں میں ہوتا ہے جو صحیح فیصلہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر لیتے ہیں اور آگے کی طرف بڑھتے ہوئے بہت سی مشکلات و مصائب سے دامن بچا کر زندگی کی نئی منزلوں کو تسخیر کیا کرتے ہیں
اور کچھ لوگ ان تجربات کو نہ سمجھتے ہوئے نادانی و کند ذہنی کا ثبوت کا دیتے ہوئے صحیح فیصلہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر نہیں لے پاتے اور اک صحیح سمت میں بڑھتے رہنے کے باوجود صحیح فیصلہ غلط جگہ اور غلط وقت پر لے کر اپنی منزلوں کی راہوں سے بھٹک جایا کرتے ہیں اور نادار رہتے ہیں
خدائے بزرگ و برتر ہم سب کا حامی و ناصر ہو
اپنی رحمتوں، برکات اور آسانیوں سے زندگی کو سہل بنانے کی توفیق عطا فرمائے
آمین
طوالتِ سفر سے گھبرائے اک مسافر کی گفتگو
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment