Monday, June 18, 2018

فطرتِ انساں

آج اک شخص سے سننے میں آیا کہ جائیں سب بھاڑ میں ہمیں بھی کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا 
جناب کسی سے سخت ناراض ہو رہے تھے 
اور وجوہات کچھ ایسی تھیں کہ کہنے کو مسائل تھے اور در حقیقت چھوٹی چھوٹی چاہتیں تھیں جو کہ نہ دوسروں کی سمجھ میں آ رہی تھیں اور نہ ہی جناب ان سے دستبردار ہونے کو تیار تھے 
یوں کہئے کہ چاہت تھی کہ مجھے بھوک لگے اور کھانے میں پسند جانتے ہوئے بھی دینے والا جلدی میں کچھ اور کھانے کو دے دے مبادا کہیں بھوک سے جان نہ نکلے 
اور موصوف سمجھیں کہ بس یہاں تو قہر برس گیا ہم سے دھوکہ ہو گیا جان بوجھ کر ہمیں ہماری پسند سے دور رکھا گیا 
تو جناب
انسان کا نام ہی ایسا جانور ہے جو زندگی کو محسوس کرے جذبات سے احساسات سے بھرپور زندگی جئیے نہ کہ گزار دے بے فائدہ بے وجہ............
تو اگر کسی کو دیکھنے کی چاہت,  کسی کے ساتھ زندگی کے چند پل گزار دینے کے بعد بھی اگر کسی سے الفت, چاہت اور انسیت نہ ہو اور کسی سے دلی لگاؤ نہ ہو 
تو ذرا خود کو آئینے میں دیکھئے اور غور کیجئے سوچئیے
کیا آپ انسان ہیں ؟؟؟؟؟ 
کیوں کہ جذبات سے عاری تو مشینیں ہوا کرتی ہیں فائدے اور نقصان کا حساب رکھنے والی اور بنا تغیر کے بس ایک ہی طرح بنا کسی موسم کی, انسان کی اور کسی اور عنصر کا اثر لئے بغیر پروا کئے بغیر بس ایک ہی طرح چلتے رہنے والی ........
تو سود و زیاں کا حساب رشتوں اور محبتوں میں زہرِ قاتل ہوا کرتا ہے اور زندگی کو خود غرضی سے گزارنے کا طریق دکھلاتا ہے 
ایسی زندگی پھر زندگی نہ ہوئی اور ایسے انسان انسان تو نہ ہوئے
جانے پھر انہیں کیا کہا جائے....
بس ذرا اک پل کو ٹھہرئیے اور سوچئیے اور اگر نہ سمجھ آئے تو چل پڑئیے پھر آپ خود سے بھی مخلص نہیں ہو سکتے 









سفرِآگہی

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...