Friday, April 20, 2018

تعلق کچھ نہیں ہوتا

وفاؤں کا اداؤں سے، تعلق کچھ نہیں ہوتا 
جفاؤں کا وفاؤں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
اگر باقی رہیں دل میں، بسری یادوں کے چند اک پل
صداؤں کا گداؤں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
اگر کچھ رہ گیا باقی، بکھرتے اس تعلق میں
فقط جذبات سے زیادہ متعلق کچھ نہیں ہوتا 
جو تم کہہ دو ہزاروں بار، تمہیں نفرت ہے ہر ممکن
رشتوں سے نفرتوں کا تعلق کچھ نہیں ہوتا 
چلو اک بار جو کہہ دو، یہ میرے روبرو ہو کر 
مسافر کا ٹھکانے سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 
چلو اب کوچ کر جاؤ، یہاں سے چل پڑو ساحر
فصیلوں کا گھروندوں سے تعلق کچھ نہیں ہوتا 


اِک آوارہ شام سے منسوب 
بے ربط، بے غرض، بے معنیٰ الفاظ
ساحر  کے قلم سے




©سفرِآگہی


No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...