Tuesday, April 24, 2018

فطرتِ خیر و شر

نیکی یا بدی، گناہ یا ثواب، اچھائی یا برائی اور نقائص و فوائد الغرض دنیا میں تمام تر امورِ ہائے زندگی کے ہر پہلو میں کہیں نہ کہیں سود و زیاں کا پہلو موجود ہے 
مگر 
اس سود و زیاں کے معاملے میں بھی انفرادیت و اجتماعیت کا پہلو بھی غور طلب ہے 
انسان ہمیشہ انفرادی فائدے اور نقصان کو اولین ترجیح پر پرکھتا ہے مگر درحقیقت امتحان یہی ہے کہ انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کو فوقیت دی جائے اور معاشرت بنا کر زندگی گزاری جائے 
انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو بنیادی طور پر تمام تر مخلوقات پر فوقیت بخشتے ہوئے اسے اختیار دیا گیا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ چیزوں کو پرکھنے کی سمجھ عطا کی 
اور پھر تمام تر نعمتوں اور عطاؤں کے خیر و شر، امن و فساد ،بھلائی برائی، نیکی بدی الغرض ہر چیز میں الله رب العزت نے ہمیں احکامات بھی بتا دئیے، اپنی رضا سے آگاہ بھی کیا اور اپنی رضا میں راضی ہو جانے پر انعام و اکرام کی تفصیل بھی بیاں کی اس پر سوا یہ کہ اس کے دوسرے ناراضی کا سبب پہلو بھی دکھائے اور ان کی رنگینیوں کے ہمراہ سزا و عذاب کی تشریح سے بھی آگاہ کر دیا 
پھر ان تمام پراختیار دیا، نفس دیا کہ اب اس پر قدرت حاصل کرو اس کو قابو میں کرو تآنکہ میری رضا پا سکو 
اب نفس کو قابو کرنے کیلئے ہمیں نیکی بدی، خیر و شر ،برائی بھلائی، گناہ و ثواب میں سے ہمیشہ نیکی، خیر، بھلائی اور ثواب کی طرف جانا ہو گا اور وہ راستہ اختیار کرنا ہو گا جس سے ہمیں سزا کی بجائے جزا مل سکے 
دانش وروں کے مطابق ہم اپنے نفس کو جب مار نہیں پاتے اور اس پر قابو پانے کے بجائے جب وہ ہم پر قابو پا لیتا ہے تو ہم اپنی کوتاہی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہمیشہ شیطان کو نشانہ بنایا کرتے ہیں 
جب کہ ہم اپنے شیطان ہمیشہ خود بناتے ہیں 
اور ان شیاطین کو مار ڈالنے کی بجائے ہم بدی کی راہوں کی چکا چوند سے اس قدر متاثر ہو جایا کرتے ہیں کہ ہم ان شیاطین کے مغلوب ہو جایا کرتے ہیں کہ پھر ان پر ہمیں کوئی اختیار نہیں رہتا 
ہر انسان میں نیکی و بدی پہچاننے اور اسے اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے 
اس میں فطرتِ خیر و بھلائی اور فطرتِ شر و فساد اپنا مقام رکھتی ہیں
مگر ان پر اختیاراختیار، ان کو وجود بخشنے کا، ان میں ڈھل جانے کی رضا ہماری اپنی ہی ہوا کرتی ہے 
الله ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے
اور 
خیر و بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے 

آمین

خیر اندیش 

ساحر 




سفرِآگہی©

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...