آسمانِ دنیا پر ہزاروں ستارے اور کرہءِ ارض کے علاوہ سیاروں کے بہت سے چاند بھی ہیں
مگر
جیسے سیارے چاند کے وجود سے بے نیاز اپنے مدار میں گردش کئیے جا رہے ہیں بلکل اسی طرح چاند بھی گرد و پیش سے بے نیاز اپنے مدار میں ایک مرکز کے گرد بس چکر لگائے جارہے ہیں
کتنے ستارے، کتنے سیارے کس قدر حیاتِ افلاک کے مدار ہیں کسی کو ان کے اعداد و شمار سے براہِ راست کوئی واسطہ نہیں
اس زمین کی جہانِ دنیا میں بھی اب یہی قانون رائج ہوتا جا رہا ہے، اس دنیا کا افلاکی دنیا سے یہی ایک فرق ہے کہ حیاتِ کرہءِ ارض پر ہوا، پانی، روشنی کے ساتھ ساتھ کششِ ثقل اور اسی طرح کے ہزار ہا عناصر سے وابستگی اس زمینی دنیا کو افلاکی دنیا سے جدا اور بامقصد بناتی ہے
مگر
افلاکی دنیا کی طرح اب زمینی قانون کا بدلاؤ کچھ اس طرح ہے کہ ہم جذبات و احساسات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں اور تعلقاتِ احباب، رشتوں کی محبت، اور زندگی کی مسکراہٹ میں سرد مہری سے ہم افلاکی دنیا کی طرح ایک خلاء پیدا کر رہے ہیں
جس سے ہم اپنے اردگرد محبت، چاہت اور حقیقی رشتوں اور تعلقات کا احترام بھول کر ہم ایک طرح سے اپنی معاشرتی زندگی کی آکسیجن کو خود اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں
اور افلاکی دنیا کی طرح بے حس ہوتے جا رہے ہیں
جب کہ
کرہءِ ارض کا امتیاز یہی ہے کہ یہاں انسان بستے ہیں
جو کہ جذبات، احساسات اور ایک عدد دل سے نوازے گئے ہیں
الله ہم سب کو زمینِ دنیا کے باسی بنائے
انسان بنائے
اور اپنی بندگی کا شرف عطا فرمائے
آمین
روایات و اطوار کے اسباق میں نصاب کے بدلاؤ سے اک جھلک
ساحر کے قلم سے
ساحر کے قلم سے
سفرِآگہی©
No comments:
Post a Comment