Friday, April 6, 2018

چاہت اور سوچ، دل اور دماغ

سوچا تو سب کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!۔
مگر دو طرح سے۔۔۔۔۔
ایک۔۔۔۔لوگ زندگی کو سہل اور کارآمد بنانے کا سوچتے ہیں۔ فقط بوقتِ ضرورت بلاوجہ اور ہر چیز پر نہیں سوچا کرتے ۔ بس ان چیزوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو ان کے کام کی ہوں یا کسی طرح سے کارآمد نظر آتی ہوں
ان لوگوں کو عام فہم انداز میں جدید سوچ کے حامل افراد کہا جاتا ہے
ایسے افراد کا مزاج بہت نفاست پسند اور پُر تکلف انداز و اطوار لئے ہوتا ہے
ایسے لوگ مفاد پرست ہوا کرتے ہیں زیادہ منافع زیادہ فائدہ
انہیں دنیا ایک کاروبار کی طرح لگتی ہے
ہر چیز کا متبادل ان کے ذہن نے بنا رکھا ہوتا ہے، بہت طبعی یعنی مادیت پسند ہو جایا کرتے ہیں
ان کی زندگی میں خوشیاں اور غم بلکل وقتی ہوا کرتے ہیں
غمگین ہونے پر یہ غمزدہ جبکہ خوش ہونے پر بے قابو ہو جایا کرتے ہیں
زندگی کا ہر لمحہ ہر رشتہ سود و زیاں کی سوچ لئے ہوتا ہے
ایسے لوگ جذبات اور ذہنی دباؤ سے بلکل عاری ہوا کرتے ہیں
ان کی زندگی ایک حصار میں گزرتی ہے جس کا مرکز وہ خود ہوا کرتے ہیں
ایسے لوگ عموماً شہرت یافتہ، نامور اور پرکشش شخصیت کے حامل ہوا کرتے ہیں
آئیے اب دیکھتے ہیں تصویر کا دوسرا رخ


اس کرہءِ ارض پر کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ عوام الناس کے فہم و خیال سے جدا سوچ رکھتے ہیں
یہ لوگ زندگی کو سہل بنانے کی نہیں سوچتے
ہے نا عجیب بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!۔
جی ہاں یہ کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں
یہ زندگی کی آسائشات کو مزید سہل اور جدید بنانے کی بجائے زندگی کو مزید سادہ اور قدرت کا محتاج دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں
یہ سوچتے ہیں اور بس سوچے ہی جاتے ہیں کوئی چیز کسی بھی طرح کی کسی بھی حالت میں ان کی توجہ کا۔مرکز بن سکتی ہے
ان کے نزدیک ہر وہ چیز جو اس دنیا میں وجود رکھتی ہے کائناتِ رب ذوالجلال میں مقام رکھتی ہے بے فائدہ و بے کار اور فضول نہیں ہے
ایسے لوگ ہمیشہ فطرتِ انسانی کو اوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں غیر انسانی رویوں اور اشیاءِ روزمرہ سے پہلو تہی کیا کرتے ہیں تآنکہ زندگی سادہ اور آسان رہے
آسائشات اور جدت ان کی نظر میں وجود نہیں رکھتی
ایسے لوگ حد درجہ جذباتی اور حساس ہوا کرتے ہیں
ان کیلئے جذبات بے مول ہوا کرتے ہیں، ہر کام ہر بات ہر عمل جو ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں عمل رکھتا ہے ان کی ذات سے نتھی ہوتا ہے
یہ ہر لمحہ زندگی  کو محسوس کر کے جذبات کے زیرِ اثر گزار دیتے ہیں
ہمیشہ زندگی کے فیصلے دماغ سے سوچ سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر دل سے لیا کرتے ہیں
یہ جب خوش ہوتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جایا کرتی ہیں
اور جب غم ان کی ذات کا محاصرہ کر لے تو مسکان لبوں پر سجائے کبھی موسمِ دل کی خبر کسی دوسرے تک پہنچنے نہیں دیتے
ان کی ذات اکثر گمنام رہا کرتی ہے اور اکثر معاشرے میں مطعون
ٹھہرائے جاتے ہیں
ایک اقتباس۔۔۔۔۔۔

ساحر کے قلم سے

©سفرِآگہی


No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...