Wednesday, April 11, 2018

سوچ در سوچ در سوچ

سوچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک فطری عمل ہے ۔۔۔۔!!!!!!۔
حضرتِ انسان پر بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کی عطا تو ہے، مگر رب ذوالجلال نے جو خاصہ انسان کو عطا کیا وہ کسی اور مخلوقِ کائنات کسی کو عطا نہیں کیا
انسان کو سوچنے کی صلاحیت سے نوازا گیا
ایک عدد دماغ سے نوازا گیا جو کسی مین فریم کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیزرفتاری سے مختلف سمتوں میں، مختلف امور کو کو سوچ سکتا ہے ان میں موجود تمام تر کھرے کھوٹے پہلوؤں کو زیرِ غور لے آتا ہے
انسان کا یہی طرہءِ امتیاز ہے کہ انسان کو علم عطا کیا گیا اور سونے پر سہاگہ کہ پھر اس پر غور کرنے، پرکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا گیا اور ان تمام پر سوا یہ کہ پھر نیکی بدی، اچھائی برائی اور گناہ ثواب کی سمجھ بوجھ بھی عطا کی
کسی بھی چیز کو سمجھنے کیلئے اور اسے سمجھ کر فیصلہ لینے کیلئے جس قدر زینے اپنا وجود رکھتے ہیں تمام تر حضرت انسان کو عطا کئیے
اور سب سے بڑی جو نعمت عطا کی گئی وہ تھی "اختیار"۔
اب کسی بھی عمل سے پہلے اسے جاننا، سمجھنا ،سوچنا، اس کے تمام تر پہلوؤں پر غور کرنا اور پھر اسے جزا و سزا کے ترازو میں پرکھ کر پھر اس کے تمام پہلوؤں پر اختیار ہوتے ہوئے وہ پہلو چننا جسے مالکِ کُل خالقِ کائنات نے تمہارے لئے پسند کیا
اسی کو تقاضاءِ بشریت اور بندگی کہا جاتا ہے
مگر
یہاں اس جہانِ فانی میں اکثر لوگ باتوں کو مفاد فی الارض کی حد تک سوچتے اور پرکھتے ہیں
اور پھر بہت جلدبازی میں فیصلہ کرتے ہیں اور اسی جلد بازی میں اپنا اختیار کچھ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق و معانی پسِ پُشت ڈال دیا کرتے ہیں
اور چند ایک ایسے بھی ہیں
جو اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ڈرا کرتے ہیں
اور بس کچھ کرنے سے پہلے سوچے چلے جاتے ہیں سوچے چلے جاتے ہیں اور بس سوچے ہی جاتے ہیں
اور گناہ و ثواب، سود و زیاں کے گھیرے میں پھنسے ڈرتے ڈرتے اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں اور ڈگمگاتے قدموں، کپکپاتے ہاتھوں صحیح کرنے کی آرزو میں اپنے ڈر کے تابع غلط کر بیٹھتے ہیں
ہاں مگر اس جہانِ لاثانی میں خدائے بزرگ و برتر نے کچھ ایسے لوگ بھی بھیجے ہیں
جن میں خداداد صلاحیتیں ہوا کرتی ہیں وہ برموقع و بروقت صحیح لمحے میں صحیح راہ کا استعمال کرتے ہوئے اپنا اختیار کچھ ایسے استعمال کرتے ہیں کہ الله کے قرب کے حقدار ٹھہرتے ہیں
بس
اس کائنات میں امتحان اسی ایک اختیار کا ہے
کب، کون، کہاں، کیسے اور کیوں اپنا اختیار استعمال کرتا ہے
اپنی زندگی کے مختاری معاملات کو کس طرح سرانجام دیتا ہے کہ قربِ الہی کا فیض حاصل کر سکے اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکے


رب ذوالجلال ہم سب کو اختیاری معاملات میں بہتری لانے اور اپنے اختیار کو صحیح فیصلہ اور صحیح رستہ اختیار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
دعاءِ زندگی و صحت کے ہمراہ
۔۔۔۔۔
سوچ, خیال, خواب کے تقابل میں اِک یاد سے مأخوذ
ساحر کے قلم سے




©سفرِآگہی

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...