سرکارِ دل۔۔۔۔۔۔.!!!!!!!۔
دل کی عجب سی حالت ہوا کرتی ہے جب کسی سے کوئی بھولا بسرا افسانوی یا نیم حقیقی عشق یا داستانِ محبت سننے کو ملے
دل کو عجب بے چینی سی ہوتی ہے جب دوست احباب بنا کسی سابقے و لاحقے کا لحاظ کئیے کسی نام سے آپ کا نام جوڑا جائے
محبت کہہ دینے سے، یا محبت لفظ لکھ لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ فرق پڑتا ہے جب اس لفظ کو پڑھنے، سننے، لکھنے یا بولنے میں اسے محسوس کر لیا جائے
لازم نہیں محبت کسی طبعی واسطے یا طبعی ظہور کی محتاج ہو
لازم نہیں کہ محبت کو کسی طرح تولا جا سکے، ماپا جا سکے یا اس کی شدت کی پیمائش کی جا سکے
بس محبت محبت ہوتی ہے
محبوب کے رنگ میں رنگ جانا، اس کی ہر بات سے اپنی رضا جوڑ لینا اور بلا غرض و اختیار اس کی خوشی کیلئے کوشاں ہونا
محبوب کے ابروءِ اشک کو سمجھنا، اس کی تمام تر عادات و خصائل سے واقفیت رکھنا، اس کی پسند نہ پسند سے آگاہ رہنا
مگر اس سے طبعی واسطے کی احتیاج نہ رکھنا
محبت اس طرح اپنا وجود رکھتی ہے
محبت کر لینا سنتِ خداوندی ہے، عطا ہے، اور قربِ الہی کا باعث ہے
محبت ہو جانا رحمت ہے، عنایت ہے، فضل ہے، نعمتِ باری تعالیٰ ہے
مگر مندرجہ بالا دو جملوں کو پڑھا جائے ان پر غور کیا جائے
تو
زندگی کا ہر پہلو زیرک نظری سے جانچنا پڑتا ہے
اور محبت کرنا یا محبوب ہو جانا اس قدر معمولی کام ہوتا
شاید کہ پھر اس جہان کے وجود کا کوئی مقصد نہ رہ جاتا
اور پھر اسوہءِ حسنہ کو مثال نہ بنایا جاتا
چونکہ رحمتِ عالم نے محبت کا کا جواب اسوہءِ حسنہ سے دیا
محبت کو سمجھنے کیلئے پہلا ضابطہ
عزم و ہمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و ذہنی بلندی بھی درکار ہوا کرتی ہے
اسباقِ محبت کے اولیں اوراق سے اقتباس
اسباقِ محبت کے اولیں اوراق سے اقتباس
اک محبوب مسافر کے نام
ساحر کے قلم سے
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment