Thursday, January 16, 2020

تتلیوں کے سنگ اِک خواب

اک چوراہا
 ہاں بیکھے وال موڑ سے مسلم ٹاؤن موڑ تک کی پیدل واک
ہاں شاید............. بلکل......
 بلکہ یقیناً جنوری کے آخری ایام تھے
ارے یاد آیا..... وہ 28 تاریخ تھی, ہم اچانک سے پھر ساتھ میں تھے, حالاں کہ 28 کو میری ایک بہت ضروری میٹنگ تھی اور اس نے مجھے 26 کو فون پر کہا تھا کہ 
"ببلُو جی دل اداس ہے بادل ہیں میں چاہتی ہوں بارش میں آپ کو دیکھوں"
میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ پہلی فلائٹ سے شہرِ لا ہور میں آ دھمکا تھا اور سحر سویرے اس کے گھر کے باہر کھڑا تھا وہ حیران تھی کہ میں سب چھوڑ کر اس کے سامنے تھا
اور تو اور قدرت بھی اس کی آرزوؤں پر مہربان تھی کہ میری فلائٹ کے لاہور ائیرپورٹ پر اُترتے ہی آسمان سے ابرِ رحمت کھُل کر برسنے لگا تھا اور میں اپنے مہنگے موبائل فون, قیمتی لیپ ٹاپ اور سردی کی پرواہ کئیے بغیر بارش میں بھیگے جا رہا تھا اور فون پر ہی جو آخری بات کہی اس نے کہ "آپ بھیگ رہے ہیں" ....... اور پھر وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے جلدی جلدی تیار ہو کر میرے پاس آ گئی
اور پھر BoneFire cafe سے ایک کافی پی کر ہم نکل پڑے نرم قدموں سے وحدت روڈ پر دھیرے دھیرے چلنے لگے دائیں جانب سلمی اسپتال کی بھیگتی بلڈنگ کے سامنے سے بینک سٹاپ تک ٹہلتے گئے تھے یکایک بارش کی بوندیں سخت ہونے لگی تھیں اور پھر دھیرے دھیرے قدم تیز کرتے نقشہ سٹاپ تک ہم مکمل بھیگ چکے تھے, گُڈ لک بیکری سے میں نے اس کے لئے چاکلیٹس لیں تو دھیرے سے مسکرا کر اس نے کہا کچھ نہیں بس چہرہ دوسری جانب کر لیا اور پھر ہم نا چاہتے ہوئے بھی قدم سست کرتے ذرا ٹھہرتے بِنا کسی بات پر چونک کر متحیر ہو کر رُک اک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے مسلم ٹاؤن فلائی اوور تک پہنچے پھر بس مسلم ٹاؤن موڑ سے اُسے واپس جانا تھا, واپس اپنی دنیا میں اور میں................. 
میں اک پہر وہیں ساکت کھڑا اسے خود سے دُور بہت دُور جاتا دیکھتا رہا, بارش کے ننھے قطروں سے عینک دھندلا گئی تو عینک اتار کر میں اُسکے دور ہوتے ہیولے کو دیکھتا رہا آنکھیں دھندلانے لگیں تو آنکھیں رگڑ رگڑ کر اُسے دیکھنے کی سعی کرنے لگا
اور پھر خود سے عاجز آ کر انجانے میں ساری دنیا میں تمہاری دنیا کی تلاش کے لئے نکل پڑا ••••••• اب تک ایک جملہ گونجتا ہے کانوں میں "آپ بھیگ رہے ہیں"
ہاں......... ہاں میں بھیگ رہا ہوں مسلسل بھیگ رہا ہوں کیوں کہ جو نمی اس بارش تلے میرے آنکھیں بھر رہی تھی وہ تم نے اس دن بھی نہیں دیکھی تھی
لیکن خیر اب تو زمانہ بیت گیا, اب بھی بار بار مڑ کر دیکھتا ہوں لیکن تمہاری دنیا کی تلاش مجھے رکنے نہیں دیتی.........................................

احوال اِک بے موسمی ساون میں سرپرائز ملاقات کے
ساحر کے قلم سے







سفرِآگہی©

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...