Wednesday, January 15, 2020

کوئی کیونکر بھولے

تمہیں لگتا ہے میں
بھول جاؤں گا تمہیں
خود اپنی ہی تباہی
کوئی کیونکر بھولے
چاندنی رات میں بھی
پیارے خوش گمانی کیسی
بھلا اپنی قسمت کی
سیاہی کوئی کیونکر بھولے
تیرے مُڑنے پر جو 
آنکھ سے نکلا پہلا آنسو
جنگ میں جو پہلے گِرا
وہ سپاہی کوئی کیونکر بھولے
شک میری وفاؤں پہ تھا 
یہ تو کوئی بات نہیں 
لیکن کردار پہ بہتان طرازی پر 
دی گئی جھوٹی گواہی
 کوئی کیونکر بھولے



گمان کی وحشتوں سے 
اِک دل سے دل کی بات
ساحر کے قلم سے



سفرِآگہی©

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...