تمہیں لگتا ہے میں
بھول جاؤں گا تمہیں
خود اپنی ہی تباہی
کوئی کیونکر بھولے
چاندنی رات میں بھی
پیارے خوش گمانی کیسی
بھلا اپنی قسمت کی
سیاہی کوئی کیونکر بھولے
تیرے مُڑنے پر جو
آنکھ سے نکلا پہلا آنسو
جنگ میں جو پہلے گِرا
وہ سپاہی کوئی کیونکر بھولے
شک میری وفاؤں پہ تھا
یہ تو کوئی بات نہیں
لیکن کردار پہ بہتان طرازی پر
دی گئی جھوٹی گواہی
کوئی کیونکر بھولے
گمان کی وحشتوں سے
اِک دل سے دل کی بات
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment