شب گزر گئی آج بھی، چاند بھی ڈوب رہا ہے
طلوعِ سحرِ نو ہے مگر۔۔۔۔!!!!!! دل اُوب رہا ہے
کیا کہیں اب کہ ماضی کے سبھی قصے کیا ہیں
کیا ہی قسمت ہے میری کہ سبھی خُوب رہا ہے
نہ تو یہ شب ہے رہی، نہ ایام سبھی ایک سے ہیں
نہ شگفتہ کلامی رہی باقی، نہ وہ رنگ رُوپ رہا ہے
بیتے زمانے میں تو بادل تھے کہ میسر تھا سکون مگر
غمِ دوراں میں الجھ ہر دن میرا زیرِ دُھوپ رہا ہے
کیسے شکوے کیا گلہ کرنا تم سے، یہ تو قسمت تھی ہماری
رُخصت ہوئیں خوشیاں، اب غم سے دل ہُوک رہا ہے
زندگی مانند استاد ہے ساحر اہلِ جہاں مانتے ہیں
نصابِ حیات میرا اب تک اسباق سے بھرپور رہا ہے
ساحر
سحرِ نو سے مأخوذ
No comments:
Post a Comment