Friday, September 21, 2018

بے وقت فیصلے

کہنے سننے میں ہزار ہا بار ایک انگریزی ادب کے شہسوار "ولیم شیکسپیئر" کے ناٹک کی مثال دیتے ہیں
"زندگی ایک اسٹیج کی مانند ہے جہاں ہر کسی کو اپنا کردار نبھانا ہے، اور اس اسٹیج پر ایک ایسا ناٹک چل رہا ہے کہ جس میں شامل ہم تمام لوگ بس کٹھ پتلیاں ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کردار کا نام، تعین اور حصہ کیا ہے، ہاں البتہ اس بات سے فرق ضرور پڑتا ہے کہ وہ کردار کس طرح نبھایا گیا ہے"
اب اس اسٹیج پر جاری ناٹک کے کرادر کی کارکردگی کو ناٹک میں اس کے حصے کی تکمیل تک جانچنا صریحاً غلط بات ہو گی 
پہلے اسے اپنا کردار مکمل ادا کرنے دیجئے 
پھر رائے دیجئے
مگر یہاں ایک اور اہم غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نے اک عادت سی بنا لی ہے کہ ہم رائے نہیں فیصلہ سناتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمارے فیصلے کو من و عن مانا جائے بلکہ ٹھونسا جائے کہوں تو زیادہ مناسب لگتا ہے


زندگی کے ناٹک سے ایک تجزیہ

ساحر کے قلم سے











©سفرِآگہی

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...