ڈوبتے سورج کی کرنوں سے مزین کرنا
ہجر کی ہر ایک راہ کا نظارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا کرنا راہی کو تیرے، یاد نہ آنے پائے
مِل جائے اسے کوئی اور طوفان کا مارا
خوشیاں تو مل ہی جاتی ہیں نصیب کے ہاتھوں
تقدیر سے ہوتا ہے عطا غم کا شرارا۔۔۔۔۔۔۔
آنسو جو مقدر ہیں تو کیا شکوہ کریں اب
کٹ جائیں گے یہ دن، کر لیں گے گزارا
کیا خاک اٹھے گا غمِ دوراں سے الجھنے کو
وہ شخص جو ہو خود سے ہی ہارا
کریں شکر ادا ہم ، یا پرستش بھی اگر
کم ہے کہ اس نے ہم کو ہے سنوارا
ہے عزم کہ چلنا ہے ہمیں رات اندھیری میں
اس سفر کی منزل ہے فقط روزِ اِجارا۔۔۔۔۔۔
ہے کوئی سہارا ،نہ ہی کوئی ہے منزل
اس بحرِ محبت کا نہیں کوئی کنارا
گر ہوتی نادانی، کر لیتے شروع سے
بس یہ ہے محبت ،نہیں ہوتی دوبارا
ساحر
No comments:
Post a Comment