حصہ دوم
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھولک بج رہے تھے، گلی میں شہنائی کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔
ارے چوہدرانی جی ۔۔۔!
بارات ۔۔۔بارات پہنچ گئی۔
آپا برکت جو اس حویلی کی خاندانی ملازمہ تھیں ، نے پھولے سانس سے نوید سنائی۔
جلدی اسے تیار کرکے اسٹیج پر لے آؤ۔
اماں نے بیوٹیشن اور اس کے گرد بیٹھی گزنوں کو حکمیہ انداز میں تنبیہ کی اور کمرے سے نکل گئیں۔
عمارہ گنگ بیٹھی بیوٹیشن کے رحم و کرم پر تھی، کچھ دیر بعد بیوٹیشن نے دوپٹہ سیٹ کیا۔
چلو ۔۔۔ ہوگیا مکمل ۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ بیوٹیشن نے میک اپ مکمل کرکے اسے غور سے دیکھ کر تعریف کی۔
قد آور آئینے میں اس نے اپنا بھرپور سراپا دیکھا ۔۔۔ غزالیں نینوں میں سرخ ڈورے ۔۔۔ بھرے بھرے گالوں پر لالی ۔۔۔ شاہانہ لباس سے مثل سیماب ترشا ہوا مجسمہ ۔۔۔ عریاں آستینوں میں غضب ڈھاتا رُوپ ۔۔۔ تمام عمر پردے کی پابند دیوی آج یوں سرِبازار سجائی گئی تھی، عمارہ نے دُکھی دل سے سوچا۔
لڑکیوں نے سر پر بڑی چادر اُوڑھا کر اسکا بالائی روپ ڈھانپ دیا اور ہلکے قدموں سے اُسے لیکر کمرے سے اسٹیج کی جانب لے چلیں۔
یک بارگی تمام مہمانوں کی نظریں اس کی طرف مڑیں۔۔۔ اسے اسٹیج پر لاکر بٹھایا گیا۔
دُلہا نے صوفے اُٹھ کر استقبال کے سے انداز میں اُسے تعظیم دی ۔۔۔ مگر آنکھیں مسلسل اس کے سراپا پر ٹک سی گئیں۔
عمارہ کو وہ نظریں اپنے جسم سے تیر کی طرح آر پار ہوتی محسوس ہوئیں ۔۔۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے سرتاپا پورے وجود میں دوڑ گئی۔
جی چوہدری صاحب ۔۔۔!
قاضی صاحب نے اجازت طلب نظروں سے بڑے چوہدری صاحب کو دیکھا۔
ہاں جی ۔۔۔! بالکل اللہ کا نام لے کر شروع کریں۔۔۔ بڑے چوہدری صاحب نے اُونچی آواز میں کہا۔
خطبہ نکاح شروع ہوا۔
اس کا دل ڈوبنے لگا ۔۔۔ آنسوؤں کے دریا میں طغیانی بڑھنے لگی ۔۔۔ عمارہ نے سختی سے آنکھیں بند کرکے نینوں کے بند مضبوط کرنے چاہے، ضبط کی حدوں سے پرے امتحان اس کی ذات پر آن پڑا تھا۔
برخوردار مامون چوہدری ولد عارف چوہدری آپ کو دختر عمارہ بی بی بنت مرتضی چوہدری بہ عوض مہر دس لاکھ مؤجل کے نکاح قبول ہے۔
قاضی صاحب مامون چوہدری سے پوچھ رہے تھے۔
قبول ہے قاضی ۔۔۔ تین بار ، بار بار، ہر بار
مامون چوہدری نے اپنے مخصوص پاٹ دار لہجے میں کہا۔
قاضی صاحب نے خاموشی سے کاغذات پر اس کے انگوٹھے لگوائے، پھر وہی کاغذات عمارہ کے سامنے رکھ دیئے۔
چند لمحے عمارہ کو تو سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا کرے ، وہ سوچتی رہی۔۔۔ شاید اس سے بھی قبول وایجاب کی رسم ہی سہی کوئی ادا تو کرے مگر اماں نے آگے بڑھ کر نکاح کے رجسٹر پر قلم اُٹھاکر پرے رکھا۔۔۔ اس کے بے جان ہاتھوں کے انگوٹھے پکڑ کر مطلوبہ جگہوں پر لگائے اور قاضی صاحب نے دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھا دیئے۔
اس کی ہمت جواب دے گئی، آنسوؤں پر بندھے ضبط کے بند ٹوٹتے چلے گئے۔
مبارک سلامت کا شور اُٹھا۔
مگر اس کے کان مبارک کے الفاظ سے بے نیاز تھے اور نہ ہی اس سے کسی نے مبارک کا لفظ کہا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
ارے میری بیٹی آگئی۔
بڑی چوہدرانی نے حویلی کے گیٹ سے گاڑی اندر آتے دیکھی۔
ارے میری چندا کتنی کمزور ہوگئی ہے۔
اماں نے عمارہ کو گلے لگایا ۔۔۔ ماتھا چوم کر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
عمارہ نے خاموشی سے بس ان کی جانب نظر بھر کے دیکھا۔
ارے چھوٹی بی بی ۔۔۔! کیا یہاں ہی کھڑے رہیں گی ۔۔۔ آیئے ۔۔۔اندر آیئے۔
یوں بھی گرمی زیادہ ہے یہاں۔۔۔ حویلی کی ملازمہ برکت بی بی سامان اُٹھاکر بولیں۔
عمارہ اپنا بے جان سا وجود لئے سست روی سے اندر چل دی۔
بیٹا اپنی صحت کا خیال رکھا کرو ۔۔۔ یوں بھی اس حالت میں اس طرح بے نیازی کوئی اچھی بات نہیں۔
بڑی چوہدرانی نے عمارہ کو خاموش دیکھ کر کہا۔
عمارہ اُمید سے ہونے کے باوجود دن بہ دن دُبلی ہوئی جارہی تھی۔
تمہارے باوا جان ذرا شہر گئے ہیں ۔۔۔ شام تک لوٹے آئیں گے تو تم سے مل کر خوش ہوں گے۔
بی بی ۔۔۔ نہائیں گی ۔۔۔؟
برکت بی بی نے عمارہ کا سامان رکھ کر پوچھا۔
ہاں۔۔۔
بہ یک لفظی جواب کے ساتھ عمارہ اماں سے کوئی بات کئے بغیر اپنے اسی پرانے کمرے میں چل دی۔
چھوٹی بی بی جی میں نے گیزر کی ٹنکی چلا دی ہے، نیم گرم پانی سے نہایئے گا۔
برکت بی بی نے صحن سے آواز لگائی۔
اندر عمارہ نے سب سے پہلے وضو کیا، اپنی الماری کھول کر گلے کی زنجیر سے نتھی چابی اُتار کر مقفل دراز کھولی۔
اندر قرآن پاک رکھا تھا۔
عمارہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں بہہ نکلا ۔۔۔ اس کانپتے ہاتھوں سے قرآن پاک نکالا ۔۔۔ اس میں بسی خوشبو کو سونگھا ۔۔۔ اور گلے سے لگالیا۔
چند لمحوں بعد اس نے جلدی جلدی قرآن پاک کھولا اور اس میں سے ایک جگہ تہہ کیا رومال رکھا تھا، سفید رومال جس پر گہری سیاھی سے صرف مختار بیگ کے دستخط تھے۔
جو کچھ اس کے ہاتھوں میں تھا ، بس اسی قدر اس کی محبت کی باقیات تھیں جو اس کے پاس محفوظ رہ پائی تھیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
گر زبانی ہی سہی ۔۔۔ ضمانت تیرے نام کی حاصل تھی مجھے ۔۔۔ عائد کرتا ہے اب تو ہر درد فرد جرم مجھ پر۔
یہ دودھ پی لو۔
ہلدی ڈالی ہے میں نے اس میں، اماں اس کیلئے دودھ کا گلاس کمرے میں لے کر آئیں۔
نہاکر بال کھولے، سوجے چہرے سے وہ اپنے بیڈ کے کونے پر بیٹھی تھی۔
ارے اُٹھو ۔۔۔! یہاں آؤ میری بٹیا ۔۔۔
آہ
اماں نے اس کے شانے سے ہلا کر بیڈ کے اوپر بیٹھنے کو کہا تو درد سے اس کی سسکی نکل گئی۔
کیا ہوا عمارے ۔۔۔ بیٹا کندھے میں درد ہے؟ اماں نے تکلیف اس کے چہرے پر رقم دیکھی تو پریشانی سے پوچھنے لگی۔
نہیں اماں ۔۔۔ کچھ نہیں۔
اس نے بات ٹالنے کے سے انداز میں کہا۔
نہیں بتاؤ مجھے ۔۔۔ ادھر بیٹھو۔
اماں نے اس کے لہجے سے مزید پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔
دکھاؤ مجھے ۔۔۔ کیا ہوا ہے یہاں۔
اماں نے ضد کرکے کہا۔
کچھ نہیں اماں ۔۔۔ میرا نصیب جیسا بھی ہے ، آپ رہنے دیں، کچھ نہیں ہے یہاں۔
عمارہ کی آواز میں آنسوؤں کی نمی در آئی ، وہ ایک دم سے ہچکیوں سے رونے لگی۔
اماں گنگ یک ٹک ٹک اسے دیکھے گئیں۔
عمارے ۔۔۔ بیٹا مجھ سے بھی چھپاؤ گی،
دکھاؤ ۔۔۔ کیا ہوا ہے ۔۔۔؟
بڑی چوہدرانی نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
اماں ۔۔۔مت کرو ایسا، جو میری قسمت میں ہے اب وہ تو مجھے ملے گا نا ۔۔۔ اس میں کیسا حساب۔۔۔ نفع ہے تو میرا ہے۔
میرے لئے تو اب نقصان بھی نفع ہی ہے نا۔
وہ رونے لگی۔
اماں ۔۔۔ اب تو میرا درد، میرے زخم درِ پردہ رہنے دو، جب آج تک میرے ہر درد کو بے آسرا کیا ہے ۔۔۔ اب بھی لاوارث چھوڑ دو۔
وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے ماں کے ہاتھ جھٹکنے لگی۔
عمارے ۔۔۔ عمارے خدا کا واسطہ مجھے بتا۔
بڑی چوہدرانی کا لہجہ بھی گلو گیر ہوگیا۔
انہوں نے اس کی قمیض اُٹھاکر کندھا دیکھنا چاہا تو عمارہ نے بے جان لاشے کی طرح مزاحمت ترک کردی۔
مگر ۔۔۔ قمیض کا پلو اُٹھاتے ہی بڑی چوہدرانی کے دل پر گھونسہ پڑا۔
قمیض اُتری تو چوہدرانی کی آنکھیں بھی برسنے لگیں ۔۔۔ دونوں پہلوؤں سے بازوؤں تک کمر نیلو نیل تھی۔
بڑی چوہدرانی کے ہاتھوں سے قمیض اس کی جھولی میں گرگئی، اس نے ایک معمول کی طرح قمیض پہنی۔۔۔ آنسو پونچھے اور پہلو بدل کر دودھ کا گلاس پکڑ لیا۔۔۔ کیا اس نے مختار کانام لے کر تجھے مارا ۔۔۔؟
بڑی چوہدرانی نے پھر عمارہ کا ہی جرم ناکردہ جواز بنایا۔
اماں ۔۔۔ بس کردو ۔۔۔ مت لینا نام آج کے بعد مختار کا ۔
عمارہ نے تڑپ کر کہا۔
تو پھر کیوں مارا اس نے۔
بڑی چوہدرانی نے رُندھی ہوئی آواز میں اس سے پوچھا۔
زیادہ پی کر آئے تھے۔
عمارہ نے مختصر سا جواب دیا۔
بڑی چوہدرانی نظریں چراکر آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھنے لگیں۔
چند لمحے گھمبیر خاموشی میں گزر گئے۔
بڑی چوہدرانی کی آنکھیں بار بار پونچھنے پر پھر سے آب دیدہ ہوجاتیں۔
اب کیوں روتی ہو اماں ۔۔۔؟ سب تو پتہ تھا پہلے سے ۔۔۔ کون انجان تھا یہاں ۔۔۔؟
عمارہ نے بے تأثر آواز میں بڑی چوہدرانی کو باور کروایا۔
اب کیا فائدہ ۔۔۔؟
عمارہ نے پھر کہا۔
چل پتر ۔۔۔ صبر کر ۔۔۔ اب رہنا تو تجھے وہیں ہے ۔۔۔ اللہ اس کو ہدایت دے۔
بڑی چوہدرانی یہ کہتے ہوئے نظریں چراکر کمرے کے دروازے کی طرف چل پڑیں۔
چوہدری جی ۔۔۔ چوہدری جی
بڑی چوہدرائن ہسٹریائی انداز میں چیختی ہوئی بڑے چوہدری کو اُٹھانے خواب گاہ کی جانب لپکیں۔
کیا ہوا ۔۔۔ کیا قیامت آگئی نیک بختے ۔۔۔ بڑے چوہدری جی ہڑبڑا کر اُٹھے۔
عمارے سیڑھیوں گر گئی ۔۔۔ اس کی حالت نازک ہے ۔۔۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں لے گئے ہیں اسے۔
چوہدرائن نے ہڑ بڑائے لہجے میں بتایا۔
جلدی اُٹھو۔
چوہدرائن نے بڑے چوہدری جی کے چہرے کا تغیر پر غور نہ کرتے ہوئے انہیں بلایا۔
اوئے حسنات ۔۔۔ اوئے حسنات
گاڑی نیار کر فٹا فٹ
ایک منٹ کی دیر ہوئی تو سانس کھینچ لوں گا تیری۔
بڑے چوہدری جی کمرے سے نکلتے دھاڑتے ہوئے ڈرائیور کو آواز دینے لگے۔
گاڑی میں بڑے چوہدری جی اور چوہدرائن کے بیٹھتے ہی گاڑی فراٹے بھرنے لگی ۔۔۔ اوئے تیز چلا۔
بڑے چوہدری جی جو دھیرے گاڑی چلانے کی تاکید کیا کرتے تھے ، آج بار بار ڈرائیور کو تیز چلانے کو کہہ رہے تھے۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچتے ہی دونوں اندر کی جانب دوڑے۔
آئی سی یو کی طرف جاتے انہیں بلقیس دھاڑیں مارکر روتے ہوئے نظر آئی۔
چوہدرانی جی ۔۔۔ لٹ گئے ۔۔۔ برباد ہوگئے۔
مامون چوہدری کی گھریلو ملازمہ چوہدرائن کی جانب لپکی۔
کیا ہوا ۔۔۔ سیدھی طرح بتا۔
میرے عمارے کدھر ہے ۔۔۔؟
چوہدرائن نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بے تابی سے پوچھا۔
عمارہ بی بی اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔
بلقیس نے روتے ہوئے انہیں بتایا۔
اگر بڑے چوہدری جی اور چوہدرائن کی زندگی پر پہاڑ بھی آگرتے تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس خبر کو سن کر انہیں درد ہوا۔
بڑے چوہدری جی کے قدم لڑکھڑائے۔
بلکتی ہوئی چوہدرائن نے چوہدری جی کو پاس پڑے بینچ پر سہارا دے کر بٹھایا اور بلقیس کو شانوں سے پکڑ کر سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔ بائیں ہاتھ سے آنسو پونچھے۔
کیا ہوا تھا ۔۔۔؟
انہوں نے موت سی سختی کے لہجے میں پوچھا اور بعد میں رتی بھر جھوٹ نکلا تو وہ حشر ہوگا ۔۔۔ زمانہ یاد رکھے گا۔
چوہدرائن نے اس کے بولنے سے پہلے اس کے جواب کی نوعیت کے انجام سے بھی آگاہ کردیا۔
وہ بی بی جی کھانے کے بعد چھت پر چاندنی میں ٹہلنے گئیں تھیں۔
مامون جی باہر سے آئے تو بی بی جی کا پوچھنے لگے اور پھر خود ہی چھت پر چلے گئے۔
کچھ دیر بعد میں نے باورچی خانے سے نکلتے ہوئے بی بی جی کی چیخ سنی اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گرتی نظر آئیں۔
مامون جی ان کے پیچھے پیچھے نیچے اُتر رہے تھے۔
اتنے میں آئی سی یو کے کوریڈور میں قدموں کی چاپ اُبھری ۔۔۔ بڑی چوہدرائن نے مڑ کر جو دیکھا تو ۔۔۔
مامون چوہدری سوجی آنکھوں سے چلا آرہا تھا۔
اماں ۔۔۔ مرگیا ۔۔۔ میرا پتر ۔۔۔ میری زندگی ۔۔۔ میرا سب برباد ہوگیا۔
وہ ان کے سامنے آکے روتے ہوئے، بلکتے ہوئے دہائیاں دینے لگا۔
بڑی چوہدرائن کے نتھنوں نے شراب کی بو محسوس کی ۔۔۔ ایک بڑی سخت درد کی لہر ان کے بائیں بازو سے سینے کی جانب لپکی۔
انہیں اپنے آنسو گالوں پر پھسلتے ہوئے محسوس ہوئے، آنکھوں کے سامنے دھند لاہٹ چھانے لگی۔
آئی سی یو کے کوریڈور میں ایک بھاری بھر کم جسم جسم کے گرنے کی دھمک اُبھری۔
بڑی چوہدرانی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی
ان کی پتھرائی آنکھوں میں آنسو اٹکے تھے۔
ختم شد
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment