Monday, October 8, 2018

عمرِ رفتہ سے ہارے ہوئے ہم (حصہ اول)


اماں ۔۔۔!
سن رہی ہو نا ۔۔۔! میں کچھ کہہ رہی ہوں۔
اماں سنو نا۔۔۔
عمارہ نے گلوگیر لہجے میں ماں کو ہلاکر مخاطب کرنا چاہا۔
اگر رو کر میک اپ خراب کیا تو حشر برا کردوں گی۔۔۔ یاد رکھنا۔ 
اماں نے سخت لہجے میں دھمکی دی۔ 
اماں ۔۔۔! باوا جان سے کہو مجھے اپنے ہاتھوں سے ماردو مگر یوں میری زندگی برباد مت کرو۔ 
اماں سنتی ہو ۔۔۔ سن لو اماں میں مرجاؤں گی۔
چٹاخ سے ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار پر سرخی چھوڑ گیا۔ 
اُٹھ کر آنسو صاف کرلے اور دوبارہ اُس "پِلّے" کا نام لیا تو تیرے باوا تیری سانسیں کھینچ لیں گے۔
اماں نے آنکھ سے آنسو گرتا دیکھ کر بے اختیار آنکھوں ارو اس کے بے بس دلِ ناداں کی ناکردہ غلطی کی سزا دی۔ 
اماں میں کب مختار کا نام لے رہی ہو ۔۔۔ مت کریں اس سے میری شادی ۔۔۔ مگر یوں دُگنی عمر کے بدمعاش کے پلے نہ باندھو۔۔۔ اس سے اچھا ہے باوا جان کھینچ لیں میری سانسیں۔ 
اس نے اماں کی شعلہ باز نظروں سے بے پروا ہوکر اپنا مؤقف کہہ دیا۔
اماں منہ موڑ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔ اور کبابوں کے مصالحے میں ہاتھ چلانے لگیں۔
اماں ۔۔۔! میری اِک ذرہ پروا نہیں تمھیں، اماں میں زندہ لاش رہ جاؤں گی۔ 
کبھی مامون چوہدری کو غور سے دیکھا ہے آپ نے سب جانتے ہیں وہ شرابی ہے۔۔۔ اس کے ڈیرے پر ہونے والی عیاشیاں بھی سب جانتے ہیں، پھر بھی آپ انجان بن رہی ہیں۔ 
وہ ہسٹریائی انداز میں اماں کے سامنے آکر زمین پر بیٹھتے ہوئے کہتی چلی گئی۔ 
آپ تو آج تک مختار سے ملی بھی نہیں۔ 
وہ کیسا ہے؟ ۔۔۔ کون ہے؟ کچھ بھی تو نہیں جانتیں آپ؟ اماں وہ میری پسند ہے۔ 
آپ کو پسند نہیں تو میں اپنے دل کو سمجھا لیتی ہوں، اس کا نام تک زندگی سے نکال دوں گی، مگر یوں ایک درندے کے ہاتھوں میں سونپ کر مت مارو مجھے۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے مار دو۔ 
اماں مسلسل ’’ صُمٌ بُکْمٌ ‘‘ ہوکر کباب بناکر تھال میں رکھ رہی تھیں۔ 
عمارہ پر بے بسی کے ہمراہ مایوسی کے سائے لہرانے لگے۔ 
اماں پھر مجھے پڑھایا کیوں تھا اگر یوں ہی میرے مقدر کا فیصلہ اندھیروں کی نذر کرنا تھا۔ 
عمارہ کا دل اُمید چھوڑنے سے انکاری تھا ۔۔۔ دماغ جذباتی کیفیت میں ہزار عذر، لاکھوں سوال جوڑ رہا تھا۔ آنکھیں بے اختیار برس رہی تھی۔ 
اماں ۔۔۔! باوا جان تو دین کو بہت سمجھتے ہیں نا۔۔۔! دور دور تک عالموں کے درس اور تقریریں سننے جاتے ہیں، لوگوں کو کہتے ہیں، نصیحت کرتے ہیں، قرآن اور حدیث کے مطابق زندگی گزارو۔ 
اماں ۔۔۔! یہ تو میری خوشیوں کا فیصلہ ہے، اتنا حق تو مجھے میرا مذہب، یہ قرآن، یہ شریعت بھی دیتی ہے۔ 
اماں سنتی ہو ۔۔۔؟
عمارہ نے ہچکیوں سے اماں کو پھر سے مخاطب کیا۔ 
اماں کے ہاتھ رُکے اور بہ یک لمحہ انھوں نے اِک پل کیلئے بے تأثر نظروں سے اسے دیکھا، اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگئیں۔ 
عمارہ کے دلِ ناداں نے اماں کی خاموشی کو اُمید بنالیا۔ 
اماں حدیث ہے۔ 
’’کسی عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لی جائے۔‘‘ (بخاری۔ 5135) 
اماں خدا کیلئے مجھے زندہ درگور نہ کرو۔۔۔ بے موت نہ مارو۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ۔
عمارہ کی ہچکیوں نے اس کی گویائی تک روک لی۔
اماں نے کبابوں سے بھرا تھال اُٹھایا، برتن ڈھک کر اسے کندھوں سے اُٹھاکر کمرے میں لے گئیں۔ 
منہ صاف کرو اور جلدی سے میک اپ کرلو، تمہارے باوا جان مہمانوں کے ساتھ آتے ہوں گے۔ 
اماں مت کرو میرے ساتھ یہ ظلم۔۔۔ عمارہ نے التجا کی۔ 
بچی نہ بن عمارہ ۔۔۔ ؟
تجھے پتہ ہے کہ تمہارے باوا برادری سے باہر تمہارا نکاح کبھی نہیں کریں گے ۔۔۔ برادری نہیں چھوڑ سکتے وہ ۔۔۔ چل تیار ہوجا ۔۔۔ شاباش۔
اماں نے مزید تاکید کی اور باورچی خانے کی جانب چل دیں۔ 
اگر برادری نہیں چھوڑ سکتے تو پھر مذہب چھوڑ دیں نا۔۔۔ کیوں خود کو اور سب کو اتنا پکا مذہبی ہونے کا دھوکہ دیتے ہیں۔ 
عمارہ صرف یہ سوچ سکتی تھی زباں تک نہ لاسکی اور پھر سے میک اپ کرنے لگی۔ 

*۔۔۔*۔۔۔*

مہمان آچکے ۔۔۔ جلدی آجا عمارے 
باوا جان کا بارعب لہجے میں حکم صادر ہوا۔ 
وہ دل پر منوں بوجھ لئے آنچل سنبھالتے اُٹھی اور مردان خانے کو چل دی۔ 
مہمان آنے والی خواتین میں دو جواں عمر خواتین نے اسے اپنے درمیان بٹھالیا۔ 
ارے ماشاء اللہ ۔۔۔! چشم بددور۔۔۔
ارے بلقیس بانو ۔۔۔! یہ پانچ ہزار پکڑ ۔۔۔ ہماری ہونے والی بھابھو کا صدقہ۔۔۔ اللہ نظر بد سے محفوظ رکھے۔ 
باہر فقیروں میں بانٹ دے۔ 
اس کی ہونے والی جیٹھانی نے پیچھے ملازمہ کو حکم جاری کیا۔ 
ارے اتنی خاموش کیوں ہو۔۔۔؟
ارے یہ تو خوشی کا موقع ہے ۔۔۔ اتنی اُداسی ویسے بھی کنوارے چہرے پر اچھی نہیں لگتی۔ 
عمارہ کے دوسرے پہلو میں بیٹھی خاتون نے اس کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔ 
اتنے میں ضعیف خاتون نے جزدان میں لپٹا قرآن پاک عمارہ کی والدہ کی جھولی میں ڈال دیا۔
لے چودھرانئے ۔۔۔ اس کلام پاک دے صدقے سانوں ساک دے دے۔ 
( لو چودھرانی جی ۔۔۔ اس کلام پاک کے صدقہ ہمیں رشتہ دے دو۔)
چودھرانی نے ایک نظر بڑے چودھری صاحب کو دیکھا، چودھری صاحب کا سر اثبات میں ہلا۔
چودھرانی صاحبہ نے جذدان کو چوم کر آنکھوں سے لگاکر پاس پڑی تپائی پر رکھا اور اُٹھ کر اس خاتون کو گلے لگالیا۔ 
اس پر ہم کیا انکار کریں بہن جی ۔۔۔! آپ کا بیٹا کروڑوں کا وارث ہے ۔۔۔ ہماری بٹیا کا اس سے اچھا کیا جوڑ۔۔۔
عمارہ کو اب پتہ چلا کہ وہ ضعیف خاتون اس کی ہونے والی ساس ہے۔
مبارک سلامت کا شور اُٹھا ۔۔۔سب کا منہ میٹھا کیا گیا۔ 
اس کی جیٹھانی عمارہ کو بھی زبردستی اِک لڈو کھلایا مگر عمارہ کا حلق میٹھے کے بجائے کڑوا زہر ہوگیا۔ 
بھلا زندگی بھر کلام پاک پڑھا ہو تو سمجھ آئے کہ یہ واسطے دینے اور زندگیاں تباہ کرنے کا مذہبی ہتھیار نہیں ہے۔ 
عمارہ نے نم ہوتی آنکھوں سے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔

*۔۔۔*۔۔۔*

اماں ۔۔۔! اماں۔۔۔!
اماں خدا کے لئے ۔۔۔ اپنی بیٹی کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
میری زندگی کی خاطر۔۔۔ خوشیاں تو نصیب میں ہیں ہی نہیں، صرف میرے سکھ کیلئے ایک بار باوا جان سے بات تو کرکے دیکھو ۔۔۔ 
رات کے کھانے کے بعد اماں لیٹی ہوئی تھیں وہ ان کے پاؤں دباتے ہوئے کہنے لگی،
 اماں مجھے وہ اِک نظر بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔ موٹا ہے ، اَن پڑھ جاہل ہے۔
آہ ۔۔۔ 
اماں نے اُٹھ کر اس کے کھلے بالوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا۔ 
درد کی لہر سے آنکھوں میں آنسو آگئے، رونا تو یوں بھی دن رات کا لازمی حصہ ہوگیا تھا۔ 
چپ کر جا بے غیرت۔۔۔ !
ابھی کرتی ہوں بڑے چوہدری جی سے بات، تو ایسے نہیں سدھرے گی۔
اماں تیزی سے اُٹھ کر کمرے سے باہر دالان میں سکون سے پائپ پیتے چوہدری صاحب کی جانب لپکیں۔ 
اجی سنتے ہیں چوہدری جی ۔۔۔!
میں کہتی ہوں سمجھالیں اس لاڈلی کو۔۔۔ ناک تو کٹوائے گی ۔۔۔ خاندان کے نام کا چرچا بھی کروائے گی یہ لڑکی۔
غصے میں اُبلتے لہجے میں بولتے ہوئے اماں نے بڑے چوہدری صاحب کو معاملہ سنایا۔
چوہدری صاحب کمرے تک آئے، دروازے سے گھٹنوں میں سردیئے روتی ہوئی عمارہ کو دیکھا، پلنگ پر بیٹھ کر عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار بھرے لہجے میں گویا ہوئے۔ 
عمارہ ۔۔۔! بیٹا تم سمجھدار ہو، خود سوچو کہ جس طرح انھوں نے رشتہ مانگا تھا، میں کیسے انکار کردیتا، کیسے کلام پاک کو لوٹا دیتا، اب اپنے باوا جان کی عزت تمہاری جھولی میں ہے چاہو تو لٹا دو، چاہو تو سرخرو کردو۔ 
وہ بس چپ روتی رہی۔ 
کیسی عزت ۔۔۔! جھوٹا بھرم 
کلام پاک ۔۔۔
دل ہی دل میں سوچتے کلامِ پاک کے لفظ پر اسے عجیب بے تأثر سی کیفیت نے آلیا۔
وہ کلام پاک کہ جس کے ترجمے تک کو آپ صحیح نہیں مانتے ۔۔۔ وہ کلام پاک جسے آپ کا مسلک تک مجہول قرار دیتا ہے۔ 
وہ بس سوچتی گئی ۔۔۔ اِک نظر اُٹھا کے باوا جان کی جانب دُھندلی نگاہوں سے دیکھا اور سر جھکالیا۔ 
باوا جان اُٹھ کر باہر چلے گئے۔
ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی .. .... .... .


جاری ہے۔۔۔۔







ساحر کے قلم سے





سفرِآگہی©

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...