تھا آسماں پر چاند لیکن, اگر سچ بولوں
تجھ سے دوری کا تھا بیان, اگر سچ بولوں
یوں تو سرد تھی ساحل کی ہوا لیکن
خون جم جانے کا تھا گمان, اگر سچ بولوں
تُو نے جاتے سمے اک لمحے کا توقف تھا کِیا !!
شاید تاعمر ہجر کا تھا فرمان, اگر سچ بولوں
کہنے کو بہت تھے بہانے, مجبوریاں اور اسباب مگر
گنگ ہو کر رہ گئی تھی زبان, اگر سچ بولوں
گھر بنانے کا خواب تھا, اِک ھم دونوں کا مگر
میرا تو آج بھی ہے مکان, اگر سچ بولوں
ساحل کی نم ریت پر چلتے
چودھویں کے قمرِ شباب کے ساتھ
سرد ہوا پر بکھرتی یادوں سے مأخوذ
No comments:
Post a Comment