اچھا وقت گزارا تم نے
مجھ سے وقت گزاری کر کے
راحت ملتی ہے نا تم کو
میری دل آزاری کر کے
رات بھی خیر سے کٹ جاتی ہے
چُھپ کے آہ و زاری کر کے
ہم تو بے خود بے بس تھے یوں
خود پر تجھ کو طاری کر کے
ہم نے محبت یوں جھیلی ہے
تا مرگ اِک بیماری کر کے
"تُم" آخری بار ملے تھے ساحر
بِچھڑن کی تیاری کر کے
کیفیتِ ضبط سے جمودِ ہجر کا خاکۂِ اذیت
ساحر کے قلم سے
No comments:
Post a Comment