Saturday, May 11, 2019

یاد تیری چلی آتی ہے سرِ شام کہ حد ہے

نہ ہو اِک تیری بات مکمل, کہ حد ہے
روز ادھوری سی ہو رات, کہ حد ہے
کبھی تو اک اشارے سے طور بدل جاتے تھے
اب کے تکرار ہو بات بے بات, کہ حد ہے
میرے کہنے سے کوئی فرق نہ ہو گا لیکن
تنگ ہو جائیں گی آپ کی عادات, کہ حد ہے 
آپ کی یاد ہے کہ آپ ہیں, بس آپ ہی ہیں
قیدِ تنہائی میں ہو جیسے میری ذات, کہ حد ہے
آپ شہ زور ہیں, ریزہ ریزہ جو کِیا ہے پل میں 
دل نہ ہو جیسے ہو محبت کا سومنات, کہ حد ہے
کل کے بچھڑے جیسے مدت ہو ملاقات ہوئی کو
پہل تو ذکرِ جدائی پہ تھے اشک جیسے فرات, کہ حد ہے 






محدود وسائل سے لامحدود خوابوں کے لاشے اُٹھاتے اِک دلِ خوب رُو سے مأخوذ

ساحر کے قلم سے







سفرِآگہی

No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...