تیری دِید، تجھے ملنے کی خاطر
کچے گھڑے پر بہنا سیکھا....
اندیشے لوگوں سے سن کر
آس امید پر رہنا سیکھا
ھم تو گونگے لوگوں سے تھے
تجھ سے سب کچھ کہنا سیکھا
چہرے پر مسکان سجائے
چُپکے درد کو سہنا سیکھا
تجھ سے کیسا شکوہ ساحر
بس تُو نے لکھتے رہنا سِیکھا
چناب میں بہتے اِک کچے گھڑے, اِک آس و یاس کا امتزاج لئے منظر سے اقتباس
No comments:
Post a Comment