Thursday, May 9, 2019

ڈھلتی محبت کی ڈوبتی شام سے اقتباس

تیری دِید، تجھے ملنے کی خاطر 
کچے گھڑے پر بہنا سیکھا....
اندیشے لوگوں سے سن کر
آس امید پر رہنا سیکھا 
ھم تو گونگے لوگوں سے تھے
تجھ سے سب کچھ کہنا سیکھا
چہرے پر مسکان سجائے
چُپکے درد کو سہنا سیکھا
تجھ سے کیسا شکوہ ساحر
بس تُو نے لکھتے رہنا سِیکھا


چناب میں بہتے اِک کچے گھڑے, اِک آس و یاس کا امتزاج لئے منظر سے اقتباس

ساحر  کے قلم سے







سفرِآگہی


No comments:

Post a Comment

خوشبو، رنگ اور تتلی

خوشبو عام طور عطروں اور مغربی طرز پر تیار کردہ سینٹوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، حالانکہ کچھ عطریات سے بدبو یا ناخوشگوار بو بھی آتی ہے جہاں خوشب...